پنجاب بھر کی بار میں ای لائبریری کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

پنجاب بھر کی بار میں ای لائبریری کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے میرٹ پر کوئی ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ لاہور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ اے ڈی آر سسٹم دنیا میں رائج جدید ترین نظام ہے، جس سے مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد مل رہی ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب کی عدلیہ میں لاکھوں کی تعداد میں زیر التواء مقدمات کو روائتی انداز میں نمٹانا ممکن نہیں، اس کیلئے جدید طریقوں سے استفاد ہ وقت کی اہم ضرورت ہے، عدلیہ کو مضبوط کرنا ہماری سب کی ذمہ داری ہے اور اسکے لئے اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بار بہاولپور بنچ میں خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کاروبار کرنے والے حضرات مقدمہ بازی میں پھنسے ہیں، خاندانی مقدمات میں التواء سے ہمارا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصالحتی نظام کی بدولت گھر آباد ہورہے ہیں، کاروباری حضرات کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اے ڈی آر کا نظام وکلاء کے لئے بھی فائدہ مند ہے، سالہاسال مقدمات کو لے کر نہیں چلنا پڑے گا، پندرہ بیس میں مقدمہ نمٹائیں اور نیا مقدمہ لے لیں۔ اس لئے ہمت کریں ، کوشش کریں اور لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بار اور بنچ لازم و ملزوم ہیں لیکن ہمارے درمیان آئے روز مسائل جنم لیتے رہتے ہیں لیکن ہم نے اپنے تمام مسائل کو مل بیٹھ کر اور گفت و شنید سے حل کرنے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی وکیل ہیں اور وہ یورپ سے لا کر یہاں چیف جسٹس نہیں بنائے گے، بلکہ انہی عدالتوں کی راہداریوں میں وکالت کرتے ہوئے اللہ کی مہربانی سے اس منصب پر پہنچے ہیں اور اللہ تعالیٰ مزید مہربانی فرمائے گا تو آپ وکلاء میں سے بھی لوگ جج کے منصب پر فائز ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں اور ہم نے ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، ججز اور وکلاء کا اولین مقصد سائلین کو انصاف فراہم کرنا ہے اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے باراوربنچ کو مثالی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں موجودہ دور انٹرنیٹ کا ہے نوجوان وکلاء کو دورحاضر کی جدیدتعلیم سے آراستہ کرانے کے لئے صوبہ بھر کی بارمیں ای لائبریری قیام عمل میں لایا جارہا ہے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگاججز اوروکلاء ایک دوسرے کی عزت واحترام کاخیال رکھیں۔ ججز اور وکلاء کو اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہے۔ جس سے اس اتحاد میں مزید قوت بڑھے گی انہوں نے وکلاء اور ججز سے کہا کہ میرے دروازے ہر وقت آپ کیلئے کھلے ہیں آپ میں سے کسی کوکوئی مسئلہ تو مجھے بتائیں اور آؤ مل جل کر ان دونوں اداروں کو مظبوط بنائیں محبت قائم کریں اور مظلوم لوگوں میں انصاف بانٹیں۔مزید برآں چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن بہاولپور اور لودھراں بار ایسو سی ایشن میں نئی ای لائبریریوں کے افتتاح کیااور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سسٹم صوبہ کے 36اضلاع اور 88تحصیلوں میں قائم کر دیا گیا ہے، اب وکلاء دنیا بھر کا عدالتی مواد اور فیصلے دیکھ سکیں گے، انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح لوگوں کے مسائل کو حل کرنا اور عدالتی سسٹم کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق کرنا ہے۔اس موقع پر مسٹر جسٹس مامون الرشید شیخ، مسٹر جسٹس امین الدین خان، مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی، مسٹر جسٹس حبیب اللہ عامر اور رجسٹرار سید خورشید انور رضوی بھی موجود تھے۔

مزید : صفحہ آخر