سستا اور فوری انصاف اولین ترجیح ، عوام اور وکلا عدلیہ کو مضبوط کریں : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

سستا اور فوری انصاف اولین ترجیح ، عوام اور وکلا عدلیہ کو مضبوط کریں : چیف ...

بہاولپور، لودھراں(ڈسٹرکٹ رپورٹر، سپیشل رپورٹر، نمائندہ پاکستان ) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ بار اور بنچ کو جدید تقاضوں اور سہولیات سے آراستہ کر کے انصاف کے حصول کو سہل بنایا جائے گا۔ صوبہ بھر کی بارز کو ای لائبریریز کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وکلاء انٹرنیٹ کے ذریعے لاء سرچ انجنز اور انٹرنیشنل جرنلز تک رسائی اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا بھر کی عدلیہ کے فیصلوں سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ قانون کی بالا دستی ، سائلین کو انصاف کی فراہمی اور معاشرے میں امن و سلامتی کے فروغ کا مقدس فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے بہاولپور ہائی کورٹ بار میں ای لائبریری اور آئی ٹی سنٹر کے افتتاح کے بعد بار ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مسٹر جسٹس مامون رشیدشیخ، مسٹر جسٹس امین الدین خان، مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی، مسٹر جسٹس حبیب اللہ عامر، مسٹر جسٹس اسجد جاوید گورال، مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی، سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میاں اللہ نواز،صدر ہائی کورٹ بار نوازش علی پیرزادہ ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری بار رانا راشد جاوید ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاولپور ریحان بشیر، رجسٹرار ہائی کورٹ لاہور خورشید انور رضوی، جوڈیشنل افسران اور بار ممبرز کی کثیر تعدادموجود تھی۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ صوبہ بھر کی ماتحت عدالتوں میں 12لاکھ سے زائد اور ہائی کورٹ میں سوا لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں۔ ان مقدمات کے فوری حل کے لئے عدالتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں جس کے لئے مصالحتی مراکز(Alternate Dispute resolution court) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے نوجوان وکلاء کو نصیحت کی کہ جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں اوروقت کی ضرورت کے مطابق اپنے علم و فن میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ کا تعلق مثالی ہونا چاہئے ۔ بار اور بنچ کے ورکنگ ریلیشن شپ کو مثالی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور ہڑتال کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو بار سے شکایت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ عدالتیں اور بار مقدس جگہیں ہیں جہاں دلیل سے مسائل حل ہو تے ہیں۔ نوجوان وکلاء غصے اور تشدد کے کلچر کی نفی کریں اور اسے پیار اور امن میں تبدیل کریں جو ہماری تاریخ ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ لاہور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے صدر ہائی کورٹ بار بہاولپور کی گزارشات پر ہائی کورٹ کے احاطے میں سائلین کے بیٹھنے کے لئے ایئرکنڈیشنر ہال کی تعمیر ، لائرز گیسٹ ہاؤس کی حوالگی، پارکنگ شیڈز کی تعمیر، لائرز ہاؤسنگ کالونی کا جلد قیام اور ہائر ایجوکیشن کمشن کی ای لائبریری کا ہائی کورٹ بار کی لائبریری سے لنک کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب کے دوران چیف جسٹس نے کوئٹہ بار کے شہید وکلاء کی برسی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اور ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔ ہائی کورٹ بار بہاولپور کی جانب سے چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے تقریب میں موجود جج صاحبان کو لائف ٹائم ممبر شپ بھی دی گئی۔ قبل ازیں صدر ہائی کورٹ بار بہاولپور نوازش علی پیرزادہ اور سیکرٹری جنرل رانا راشد جاوید نے بھی اظہار خیال کیا اور چیف جسٹس کی آمد پر اظہار تشکر کیا۔ قبل ازیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور میں ای لائبریری اینڈآئی ٹی سنٹر کا افتتاح کیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ پنجاب کے تمام اضلاع بشمول تحصیل کورٹ میں کمپیوٹر، پرنٹرز، وائی فائی اور دیگر سہولیات وکلاء کے لئے فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای لائبریری کی مدد سے دنیا بھر سے رابطہ اور علم تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے وکلا کو مقدمات کی تیاری میں آسانی اور لوگوں کی تکالیف دور ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ لودہراں ضلع کے لوگوں کی سہولت کے پیش نظر انہیں لاہورہائیکورٹ بہاولپور بنچ اورلاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں اپنے کیس دائر کر نے کی سہولت مہیا کر دی گئی ہے اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کالونی کے قیام اور وکلاء چیمبرز کے لئے جگہ کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صدر ڈسٹرکٹ بار عثمان فاروق نے اپنے خطاب میں وکلاء کالونی کے قیام اور وکلاء چیمبر کے لئے جگہ کی فراہمی کا مطالبہ کیااور چیف جسٹس کی ڈسٹرکٹ بار آمد پر شکریہ ادا کیا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں کمرہ برائے ملاقات نابالغاں کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے لئے آنے کا علیحدہ سے راستہ بنایا جائے اور لوگوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ دریں اثناء لودھراں بار روم سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ لاہور کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ سستا اور ٖ فوری انصاف ہماری اولین ترجیح ہے ۔ لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں سہولیات فراہم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور وکلاء عدلیہ کو مضبوط کریں ۔وکلاء اور سول سوسائٹی مضبوط عدلیہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں لودہراں کے بار روم میں خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر جسٹس مامون رشید شیخ ،جسٹس امین الدین خان،جسٹس علی اکبر قریشی ،جسٹس حمید اللہ عامر ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لودہراں ملک منیر احمد جوئیہ ،خورشید انور رضوی رجسٹرارلاہورہائیکورٹ،بہاولپور اور وہاڑی اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایند سیشن ججز ،ضلع کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز عدلیہ کے دیگر افسران ،نواز ش علی ایڈوکیٹ صدر ہائیکورٹ بار بہاولپور بنچ ،صدر بار لودہراں مہر بلال مسعود ا حمد ، ،وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد موجود تھے ۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدلیہ جیسے اداروں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ کی مربوط رابطہ کاری سے ہم قانون ،پیار اور محبت سے فیصلے کرتے رہیں گے انصاف کے معاملے میں کسی سے بھی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم عدلیہ ،وکلاء اور عوام ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ینگ وکلاء مصالحت کی طرف آکر معاشرے میں بہت معمول باتوں سے ابھر نے والے انتشار کو کم کرکے معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عد ل و انصاف کے معاملے میں کسی سے زیادتی نہیں ہوگی ۔انہوں نے لودہراں کی ہائیکورٹ بہاولپور بنچ سے منسلک کرنے کے اقدام پر عوامی پذیرائی کوتحسین کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں وکلاء خود بہاولپور یا ملتان ہائیکورٹ بنچ کا انتخاب کریں ہماری طرف سے دونوں دروازے کھلے ہیں ۔چیفٖ جسٹس نے صدر بار کے سپاس نامے کے جواب میں کہا کہ عدلیہ چھوٹے ملازمین کی بہتری کے لئے مزید اقدامات کرے گی انہوں نے لودہراں تا ہائیکورٹ بہاولپور بنچ آنے جانے کے لئے شٹل ٹرانسپورٹ سروس ، وکلاء چیمبرز کی چار دیواری ،ایکس کیڈر کورٹس کی لودہراں میں وزٹ ،خواتین وکلاء کے لئے علیحدہ بار روم اور وکلاء کے لئے رہائشی کالونی کے قیام کے لئے مخلصانہ کوشش کرنے کی یقین دیہانی کرائی۔ تقریب سے جسٹس امین الدین خان ،جسٹس مامون رشید شیخ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک منیر احمد جوئیہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے فوری انصاف کی فراہمی کے لئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی انتظامی اصلاحات کو سراہا ۔تقریب میں اپنے خطاب سے قبل چیف جسٹس نے کوئٹہ بار کے شہداء کے لئے کھڑے ہوکر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کروائی اور دعائے مغفرت بھی کرائی ۔ قبل ازیں چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلکس میں ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری سسٹم ،سی سی ٹی وی کنٹرول روم ، مصالحتی سنٹر اور بار روم میں برقی لائبریری کاافتتاح و معائنہ کیا ۔

جسٹس منصور علی شاہ

 

مزید : کراچی صفحہ اول