وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد میں تاخیری حربے استعما ل کر رہی ہے : مظفر سید

وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد میں تاخیری حربے استعما ل ...

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کر کے اور صوبوں کے حقوق غصب کرکے وفاقی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو سراسر نا انصافی اور چالاکی و عیاری پر مبنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خزانہ اوروفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے حیلے بہانوں سے کام لے رہی ہے جو صوبوں کے عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نویں قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلے میں بروز منگل پشاور سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران کیا۔اس موقع پر قومی مالیاتی کمیشن کے ممبران پروفیسر محمد ابراہیم،اشتیاق خان،سیکرٹری خزانہ شکیل قادر،سپیشل سیکرٹری خزانہ محمد ادریس مروت سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سلسلے میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک خط وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی منظوری کے بعد بھیجا جائے گا تاکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کی تاخیر کی آئینی اور قانونی خلاف ورزی کا نوٹس لیاجاسکے۔انہوں نے کہا کہ وفاق سے صوبائی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صوبے کے طے شدہ مالی حقوق کے حصول کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائی جائے گی تاکہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے ساتھ ساتھ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا بھی جلد انعقاد ممکن بنایاجاسکے جس سے صوبے میں جاری ترقیاتی کام بلا تاخیر مکمل ہو سکیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاسوں کا انعقاد نہ کرتے ہوئے فاٹا کو خیبر پختونخوامیں ضم کرنے پر مالی اختلافات کاشکار بنانے کاحربہ استعمال کر رہی ہے تاکہ صوبہ خیبر پختونخوا کواپنے بنیادی مالی حقوق سے محروم رکھا جاسکے تاہم وفاقی حکومت کی یہ عیاری بروقت معلوم ہو چکی ہے۔اس موقع پر ممبر این ایف سی پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری اداکرنے سے قاصر ہیں لہذا صوبہ خیبر پختونخوا اپنے مالی حقوق کے حصول کیلئے اپنی کوششیں تیز تر کر رہی ہے تاکہ مزید ماحول خراب کئے بغیر وفاق باقی صوبوں کے طے شدہ مالی حقوق کی ادائیگی میں غفلت نہ برتے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کے فوری حل کے لئے ہر ممکن سطح پر آواز اٹھائی جائے گی تاکہ اس سلسلے میں وفاق کا اصل چہرہ بے نقاب کیاجاسکے۔اجلاس کے آخر میں سیکرٹری خزانہ شکیل قادر نے کہا کہ آئندہ دس دنوں میں صوبائی حکومت تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ کو تحریری مراسلہ ارسال کرے گی تاکہ باقی صوبوں کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کر کے وفاقی حکومت سے اپنے طے شدہ حقوق اور واجبات کا مطالبہ کر سکیں تاکہ صوبے میں جاری ترقی کاعمل متاثر ہوئے بغیر تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن بنائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا تکنیکی بنیادوں پرمدلل تیاری کرے گی تاکہ وفاق سے اپنے صوبائی حقوق و واجبات کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول