آزادی کااعلان ہوتے ہی سکھوں نے مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کر دی‘ سلیقہ خاتون

آزادی کااعلان ہوتے ہی سکھوں نے مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کر دی‘ سلیقہ خاتون

ملتان (سٹی رپورٹر)قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کے شہر امروہہ کے گاؤں مراد آباد سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی 85سالہ سلیقہ خاتون نے کہاہے کہ جب پاکستان بنا تو میری عمر 15سال تھی گلی گلی پاکستان کے حق میں جلوس نکلتے تھے اور گاؤں گاؤں میں لوگ مجمع کی شکل میں جمع ہو تے تھے ہر طرف ایک ہی گفتگو تھی کی پاکستان ضرور بنے پاکستان زندہ باد ، قائداعظم زندہ باد، کئی انہوں نے کہاہے کہ جب 14اگست 1947کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو ہمارے پڑوس میں آباد سکھوں نے مسلمانوں (بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

کے لئے جگہ تنگ کر دی ایسا لگتا تھا کہ پاکستان بننے کا سب سے زیادہ دکھ سکھوں کو ہوا ہے سکھوں نے مسلمان آبادی کے گاؤں پر حملے شروع کر دےئے جب ہمارے آباؤ اجداد کو معلوم ہوا حالات خراب ہیں تو انہوں نے رات ہی رات قریبی مسلمان آبادی والے گاؤں میں شفٹ ہو گئے جہاں بڑی تعداد میں مسلمان آباد تھے وہاں سے کئی کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد ایک گاؤں میں پہنچے تووہاں جگہ جگہ مسلمانوں کی نعشیں پڑی ہوئی تھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے قافلے سے پہلے گذرنے والے قافلے پر سکھوں و ہندو بنیوں نے حملہ کیا ہو گا اور مسلمان قافلوں سے لوٹ مار کر کے وہاں سے فرار ہو گئے ہونگے کئی روز کے سفر کے بعد ہم سیالکوٹ کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے راستے میں جگہ جگہ مسلمانوں کی نعشیں پڑی ہوئی تھی جن کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا ان نعشوں میں زیادہ تر خواتین اور نوجوانوں کی تھی قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کے شہر امروہہ کے گاؤں مراد آباد سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی 85سالہ خاتون سلیقہ خاتون نے مزید کہاہے کہ کہ آج کا پاکستان دیکھ کر دل خون کے آنسو ؤ ں روتا ہے آج کے پاکستان کے لئے 20لاکھ سے زائد افراد نے قربانیاں دی اور جانوں کے نذرانے پیش کئے انہوں نے کہاہے کہ آج جب 1947کی ہجرت کو یاد کرتے ہیں تو راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں کہ ہم پاکستان بنتے وقت کئی خواب دیکھے تھے آج کا پاکستا ن ہمارے خوابوں خیالوں میں بھی نہیں تھا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر