ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے محکموں کے خلاف کارروائی ہوگی،علم الدین بلو

ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے محکموں کے خلاف کارروائی ہوگی،علم الدین بلو

کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیئرمین انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ علم الدین بلو کی صدارت میں سندھ کے 6 زون کا اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں ہوا۔ اجلاس میں حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ، جامشورو، سکھر، شہید بینظیر آباد زون کی پرکا ر کر دگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسپیشل سیکریٹری خالد چاچڑ، ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ عثمان غنی صدیقی، ڈائریکٹر انکوائریز فیصل بشیر میمن،ڈائریکٹر انکوائریز زبیر پرویز، ڈپٹی سیکریٹری منصور علی وسان، ڈائریکٹر لیگل عبدالحنان شیخ، ڈپٹی ڈائریکٹر لاڑکانہ،ڈپٹی ڈائریکٹر حیدرآباد، ڈپٹی ڈائریکٹر میرپورخاص، ڈپٹی ڈائریکٹر سکھر، ڈپٹی ڈائریکٹر جامشورو، سمیت دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوری سے جون تک 1980 شکایتیں موصول ہوسکے اور مختلف محکموں میں 12 سرپرائز وزٹ، کئے گئے اور رشوت لیتے ہوئے 20 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گذشتہ 6 ماہ میں مختلف محکموں کے ملازمین کے خلاف 51 ایف آئی آر کا اندراج اور 249 اوپن انکوائریز کا آغاز کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف آئی آر اوپن انکوائریز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ اینٹی کرپشن کمیٹیوں کہ اجلاس کا نا ہونا ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سندھ کے ان 6 زون میں 479 مفرور ملزمان ہیں۔ چیئرمین اینٹی کرپشن علم الدین بلو نے کہا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو سندھ بھر سے مفرور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائے گی۔ چیئرمین اینٹی کرپشن نے مزید کہا کہ کورٹ چالان اور ملزمان کو سزائیں ہونگی تو کرپٹ عناصر میں اینٹی کرپشن کا خوف پیدا ہوگا اور ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے محکموں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ علم الدین بلو نے اجلاس میں کہا کہ کورٹ میں پراسیکیوشن کو مزید بہتر کیا جائے۔بہت جلد پراسیکیوٹر سے ملاقات کر کے کورٹ چالان کے مسائل کا حل نکالا جائے گا کیوں کہ جب ملزمان کو سزائیں ہوں گے تو کرپشن میں واضح کمی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کے خلاف کاروائیوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر کسی سرکل آفیسر کے خلاف شکایات آئی تو اس کو تبدیل کیا جائے گا۔ چیئرمین اینٹی کرپشن نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں مفرور ملزمان کی لسٹ فراہم کی جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر