ایف بی آر کو چین سے پلاسٹک درآمد کرنے پر ڈیوٹی وصولی روک دی گئی

ایف بی آر کو چین سے پلاسٹک درآمد کرنے پر ڈیوٹی وصولی روک دی گئی

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس ا کرام اللہ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے ایف بی آر کو چین سے پلاسٹک درآمد کرنے والے کارخانوں سے 37فیصد انٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کی وصول روک دی اورنیشنل ٹیرف کمیشن اورچیئرمین ایف بی آر کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ عبوری احکامات گذشتہ روز یونین بورڈ زملز کی جانب سے شمائل احمد بٹ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیا کہ درخواست گذار چین سے خام پلاسٹک درآمد کرتے ہیں جس پرحکومت نے 37فیصد انٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کررکھی ہے اوریہ انٹی ڈمپنگ ڈیوٹی غیرقانونی ہے کیونکہ یہ پراڈکٹ غیرملکی ہے اورمقامی طورپرتیارہونے والی پراڈکٹ پریہ ڈیوٹی عائد ہوتی ہے جبکہ نیشنل ٹیرف کمیشن کو اس حوالے سے درخواست بھی دی تھی کہ یہ ڈیوٹی عائدنہیں کی جاسکتی دوسری جانب اس ڈیوٹی کی فیصدبھی بہت زیادہ ہے اس پراڈکٹ کی درآمد سے مقامی صنعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے کیونکہ اس کی مقامی طورپرپیداوار انتہائی کم ہے اورصرف ایک صنعت میں یہ پراڈکٹ تیارکی جارہی ہے اورمذکورہ صنعت اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے اس قسم کے حربے استعمال کررہی ہے لہذامذکورہ ڈیوٹی کو کالعدم قرار دیا جائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد ایف بی آر کو 37فیصد انٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کی وصولی سے روک دیا اور نیشنل ٹیرف کمیشن اورچیئرمین ایف بی آر کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر