چارسدہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری پر پولیس کا تشدد، صحافیوں ، سیاسیو سماجی تنظیموں کا مظاہرہ

چارسدہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری پر پولیس کا تشدد، صحافیوں ، سیاسیو سماجی ...

چارسدہ (بیورو رپورٹ)چارسدہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری پر پولیس کا تشدد ۔ واقعہ کے خلاف صحافیوں ، تاجروں ، طلباء اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کا مظاہرہ ۔ انگریز سے آزادی ملی ہے مگر وطن عزیز میں صحافیوں کو ابھی تک آزادی نہیں ملی۔14اگست کو یوم سیاہ منا کر دوبارہ احتجاج کا اعلان ۔ صحافیوں کو دھونس دھمکیوں سے ڈکٹیٹ کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔ حکومت اور حساس ادارے چارسدہ پولیس کی جعلی کاروائیوں کی تحقیقات کریں ۔ چارسدہ کے تھانے منشیات کے ڈیلر وں کی آماجگاہیں بن چکے ہیں مگر آئی جی نے چھپ سادھ لی ہے ۔ صدر سبز علی خان ترین ۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری احسان اللہ شیر پاؤ پر پولیس تشدد کے خلاف صحافیوں ،متحدہ شاپ کیپرز فیڈریشن ، تنظیم تاجران ، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ،آئی ایس ایف، جماعت اسلامی یوتھ ، واپڈا یونین ، ٹی ایم اے ، پیرا میڈیکل ایسو سی ایشن ، آل ٹیچر ایسوسی ایشن ، اہل سنت والجماعت ، ٹرانسپورٹ یونین اور جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے پریس کلب سے فاروق اعظم چوک تک احتجاجی ریلی نکالی ۔ریلی کے شرکاء نے چارسدہ پولیس کی طر ف سے پریس کلب کے جنرل سیکرٹری پر پولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔فاروق اعظم چوک میں مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے پریس کلب کے صدر سبز علی خان ترین نے کہا کہ بد قسمتی سے اکابر نے طویل جدو جہد کے بعد انگریز سامراج سے وطن عزیز پاکستان حاصل کیا مگر صحافیوں کو ابھی تک آزادی نہیں ملی ۔ چارسدہ پولیس دھونس دھمکیوں سے صحافیوں کو ڈکٹیٹ کرنے کی کو شش کر رہی ہے مگر چارسدہ پریس کلب کے صحافی قلم کی حرمت کیلئے جانوں کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چارسدہ پولیس جعلی کاروائیاں کرکے ایک ہی قسم کی بارود اور اسلحہ با ر بار میڈیا کو پراگرس کے طو ر پر پیش کر رہی ہے اور ستم بالائے ستم حکومت اور حساس اداروں نے بھی آنکھیں بند کر کے جعلی کاروائیوں پر چارسدہ پولیس کیلئے قومی خزانے کا منہ کھول دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چارسدہ کے تمام تھانے منشیات فروشوں کے آماجگاہیں بن چکے ہیں ۔ نوجوان نسل کی بے راہ روی اور تباہی میں چارسدہ پولیس برابر کی شریک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مثالی پولیس کے دعویدار پولیس نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ میں پوری طرح ملوث ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے آڑ میں پراگرس دکھانے کیلئے بے گناہ لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے ۔ چارسدہ پولیس باوردی ٹارگٹ کلر کا روپ اختیار کر چکے ہیں۔چارسدہ پریس کلب کے صحافیوں کو دہشت گرد قرار دیکر پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پر ان کے تصاویر چسپاں کئے گئے۔ سبزعلی خان ترین نے اعلان کیا کہ امسال چارسدہ پولیس کے مائنڈ سیٹ کے خلاف چارسدہ کے صحافی 14اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منائینگے اور 14اگست کو شام احتجاجی مظاہرہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر