ی سی اے نے ٹیلی نار کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیئے

ی سی اے نے ٹیلی نار کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیئے

کراچی(اسٹاف رپورٹر) فنانس کمیونٹی میں باہمی خدمات کو فروغ دینے کے لئے سی سی اے نے ٹیلی نار کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر لئے ہیں۔ اس معاہدے سے مستقبل میں نئے روزگار کی تلاش، مالیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ نت نئے طریقوں کو اجاگر کرنے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے دونوں اداروں کی مشترکہ کوششوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق مشترکہ خدمات اور آؤٹ سورسنگ کے فوائد بہترین انداز میں جانے پہچانے اور ثابت شدہ ہیں جن میں عام طور پر لاگت کی کمی، بہترین کارکردگی، بہترین کنٹرول، بہتر معیار اور سروس اور بنیادی کاروبار پر زیادہ توجہ دینا شامل ہوتا ہے۔ عالمی مالیاتی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ کا سائز تقریبا 35 بلین ڈالر ہے جو سالانہ بنیاد پر بڑھتا جا رہا ہے،جس کے پیش نظر اگر پاکستان پائی سے حصہ لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تو اگلے چند سالوں میں تقریباً 10 ہزار روزگار کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کو آئی ٹی کے شعبہ میں مناسب ماحول کے نظام کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور عالمی ضروریات کے مطابق مناسب پالیسیوں کے ساتھ ٹیلی کام سیکٹر کے شعبے کو غیر معمولی ترقی دینا ہو گی۔’’ٹیلی نار گلوبل مشترکہ سروسز‘‘ ٹیلی نار پاکستان کا مشترکہ سروس سنٹر ہے جو چلتی گاڑی کی طرح دنیا بھرمیں ٹیلی نار کے کاروباری یونٹوں میں معیار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے فعالیت کے ساتھ مواقع تلاش کرتا ہے۔ ٹیلی نار کے ہاں یہ بات مسلمہ ہے کہ مستقبل کے مالیاتی کاموں میں تبدیلیاں آتی ہیں اورانہیں چلانے کے لئے نت نئے طریقوں کی ضرورت ہو گی، لیکن فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے اہم سیکھنے کے عمل کی شراکت داری ہے۔ ’’چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس‘‘ (اے سی سی اے) اور ’’ٹیلی نار‘‘ جی ایس ایس پاکستان کے درمیان حال ہی میں ہونے والے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او ٹیلی نار جی ایس ایس پاکستان عمران اشرف نے کہا کہ ’’اے سی سی اے کے ساتھ اس کا دس سالہ تعاون بذات خود منہ بولتا ثبوت ہے۔ اے سی سی اے ایک معتبر منظم ادارہ ہے اور یہ معاہدہ شراکت داری کی ایک انوکھی مثال ہے جہاں دونوں ادارے باہم مل کر پروفیشن کی بہتری کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی نیا معیار ہونے کے ساتھ ساتھ مشترکہ کام کرنا بھی بہت ضروری ہے تاکہ شراکت داری کے وسائل سے مستفید ہونے کے علاوہ لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ میری نظر میں حقیقی برانڈ وہ نوجوان ہیں جو ٹیلی نار جی ایس ایس پاکستان کے لئے کام کر رہے ہیں اور ہم انہیں ان چیلنجوں کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس موقع پر اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجاد اسلم نے کہا کہ ’ACCAپاکستان سمجھتا ہے کہ مشترکہ خدمات کے کردار مالیاتی پیشوں کے لئے ایک پرکشش کیریئر کا انتخاب بن گئے ہیں۔ آٹومیشن اور مصنوعی انٹیلی جنس مشترکہ سروس ماڈل کے اندر موجود ہیں اور ACCA بڑی محنت کے ساتھ پاکستان میں مشترکہ خدمات کو اجاگر کر رہا ہے۔ ‘‘اے سی سی اے کے 260 سے زائد مشترکہ سروس رہنماؤں کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 45 فیصد جواب دہندگان کو یہ بات معلوم ہے کہ مشترکہ مالیاتی خدمات لیڈرشپ کے کردار کو کاروباری آپریشنز (مشترکہ خدمات یا جی بی ایس) میں طویل مدتی ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ ٹی جی ایس ایس کے ساتھ ہمارے معاہدے سے فنانس کمیونٹی کے درمیان مشترکہ سروسز کی ترقی کو فروغ ملے گا جہاں وہ ایک جگہ بیٹھ کر مستقبل کی بہتری کے لئے کام کر سکیں گے۔اس تقریب میں ACCA مینسا مارکیٹس کے ریجنل ڈائریکٹر سٹوارٹ ڈنلوپ Stuart Dunlop نے دونوں اداروں کے درمیان طویل مدتی تعلقات کے بارے میں بات کی اور کہا کہ دونوں اداروں میں مشترکہ خدمات کو فروغ دینے کا ایک باہمی نقطہ نظر اور مقصد تھا تاکہ مستقبل میں مرکزی دھارے کے لئے راہ ہموار کی جا سکے۔

 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر