پار خوڑ میدان سے ٹرکوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے ،ضیاء الحق

پار خوڑ میدان سے ٹرکوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے ،ضیاء الحق

پشاور (کرائمز رپورٹر)پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI)کے سینئر نائب صدر ٗ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI)کی ریلوے اور ڈرائی پورٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (APCAA)پاکستان کے مرکزی نائب صدراور فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس گروپ خیبر پختونخوا (FCAG)کے صدر ضیاء الحق سرحدی نے انکشاف کیا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغانستان ایکسپورٹ مال لے جانیوالے 2500 سے زائدخالی کنٹینرز بمعہ ٹرک مال افغانستان ان لوڈہونے کے بعد طورخم بارڈر کے اس پار خوڑ میدان میں گذشتہ کئی روز سے کھڑے ہیں اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے پاکستان فریش فروٹ ٗ کوئلہ اور دیگر مصنوعات ایکسپورٹ کی جا رہی ہیں اس لئے پہلے لوڈ ٹرکوں کو چھوڑا جائے گا ۔ ایک بیان میں ضیاء الحق سرحدی نے کہاکہ گذشتہ کئی روز سے 2500 سے زائد خالی کنٹینرز بمعہ ٹرک خوڑ میدان میں کھڑے ہیں جن کی وجہ سے ان خالی کنٹینرز پر لاکھوں روپے ڈیٹنشن چارج شپنگ کمپنیوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں لیکن افغان حکام کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بزنس کمیونٹی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ افغان حکام اضافے پیسے لے کر ٹرکوں کو پاکستان جانے کی اجازت دے رہے ہیں لیکن جو کاروباری افراد اضافی پیسے نہیں دیتے اُن کے ٹرک روک لئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خوڑ میدان میں ٹرکوں کو روکے رکھنے سے کراچی میں ٹرکوں کی عدم دستیابی کاروباری طبقے کیلئے اذیت کا باعث ہے اور پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹرکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے 2 ڈھائی لاکھ روپے میں جانے والا ٹرک اب کراچی سے جلال آباد تک 4 لاکھ روپے اور اس سے زائد وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں افغانستان کے سفیر ٗ پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل ، ٹریڈ کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ فوری طور پرطور بارڈر کے اس پار خوڑ میدان میں کھڑے ٹرکوں کو پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے اور جو اہلکار اور افراد اس میں ملوث ہیں اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر