”فادر آف دی گوادر“ ملک فیروز خان نون

”فادر آف دی گوادر“ ملک فیروز خان نون
”فادر آف دی گوادر“ ملک فیروز خان نون

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کا خواب شرمدہ تعبیر کرنے والا خطہ گوادر پوری دنیا کا ایک بڑا اقتصادی حب بننے کے قریب ہے ۔یہ جغرافیائی اور دفاعی اعتبار سے پاکستان کی اہم ترین سمندری سرحد ہے جس کی پاکستان نے 1954 شدید ضرورت کو محسوس کرلیا تھا حالانکہ اس وقت تک یہ سلطنت عمان کے پاس تھا ۔پاکستان نے امریکن جیولاجیکل سروے کی مددسے یہاں دنیا کی گہری ترین پورٹ بنانے کاتہیہ کرلیا تھا اور اپنا گودار عمان سے واپس لینے کی تیاریاں کرنا شروع کردی تھیں ۔گوادر کو عمان سے واپس لینا آسان نہیں تھا کیونکہ اس گوادر پر قبضہ کے لئے بلوچ قبائل اورمسقط میں جنگ بھی ہوچکی تھی جبکہ یہ خطہ صدیوں سے فسادات کا مرکز بھی رہا تھا ۔عمان پورٹ سے قریب تر اور ایران کی سرحد سے منسلک ہونے سے گوادر کا ساحل مچھلی اور سمگلنگ کے اعتبار سے گولڈن آئی کا درجہ رکھتا تھا ۔بحیرہ عرب پر واقع ہونے سے یہ عظیم ترین آبی گزرگاہ تجارتی جہازوں کا مرکز بنتی چلی جاری تھی لہذا قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کے لئے کشمیر کی طرح گوادرکا حصول ناگزیر تھا ۔

پاکستان کے معتبر صحافی جناب الطاف گوہر نے اپنی کتاب ”لکھتے رہے جنوں کی حکایت“ میں گوادر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے متعلق لکھا تھا کہ”ملک (فیروزخان نون) صاحب نے برطانیہ کے وزیراعظم ہیرلڈ میکملن کو اس بات پر قائل کر لیا کہ گوادر کا دو ہزار چار سو مربع میل کا رقبہ پاکستان کو واپس کر دیا جائے، یہ ایک انتہائی حساس معاملہ تھا اس لئے کہ گوادر مسقط کے قبضے میں تھا اور مسقط سے برطانیہ کا انتہائی قریبی تعلق تھا۔ گوادر کی واپسی کے معاملے کو ملک (فیروزخان نون) صاحب نے انتہائی خوبی اور دوراندیشی سے سلجھا دیا۔ آج گوادر اگر پاکستان کو واپس نہ مل چکا ہوتا تو مکران کے ساحل پر ہمارے دفاعی نظام کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا“یہ حقیقت ہے کہ اگر گوادر پاکستان کا حصہ نہ بنتا تو پاکستان کی سمندری سرحد مفلوج ہوچکی ہوتی۔ اس بات کا دکھ بہت سے بااثر اور مخصوص فکر رکھنے والوں کو رہابھی ہے کہ پاکستان نے گوادر کیوں خریدا ؟ ۔ اس طبقہ نے تو گوادر کی اہمیت سے ہی انکار کردیا اورقوم کویہ باور کرانے کی کوششیں کیں کہ جسطرح سیاچن جہاں گھاس بھی نہیں اگتی پر پاکستان بھاری دفاعی بجٹ ضائع کرتا ہے ، یہی حال گوادر کا بھی نظرآتا ہے ۔لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ان فکری غلاموں کی سوچ میں گراوٹ اور پسماندگی تھی ۔وہ گوادر کی اہمیت کا ادراک نہیں کرسکے تھے ۔گوادر پر ہاشو گروپ کے مالک پاکستان کے معروف ترین ہوٹل بزنس ٹائیکون صدر الدین ہاشوانی نے ملک فیروز خان نون کی خدمات کو صدر ایوب خان کا کریڈٹ بنانے کی کوشش کی تو یہ بھی اسی غلامانہ، مفسدانہ سوچ کی کڑی ہے ۔انہوں نے اپنی کتاب ”سچ کا سفر“میں لکھا ”گوادر بنیادی طور پر سلطنت عمان (اومان) کا حصہ تھا۔ ایوب خان کی حکومت نے اسے 1958ءمیں مسقط کے حکام سے خرید لیا جہاں تیل تھا اور نہ ہی پیسہ۔ گوادر کے قدیم قلعے کے سوا یہاں کچھ نہ تھا جہاں عمان(اومان) کے ایک سابق سلطان نے ایک جنگ لڑی تھی۔“ اسیطرح یہ بھی لکھا گیا ہے کہ گوادر کو اسماعیلیوں کے امام پرنس کریم آغا خان چہارم نے 1958 میں خرید کر پاکستان کو گفٹ کردیا تھا۔ جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔نہ ایوب خان نے اسکو خریدا نہ اسکے لئے تگ ودو کی نہ پرنس کریم آغا نے گوادر خریدا کر گفٹ کیا کیونکہ گوادر پر سب سے بڑی گواہی اور سچائی سابق وزیر اعظم پاکستان ملک فیروز خان نون کے بیان کردہ حقائق جان کر حاصل ہوجاتی ہے۔

گوادر میں اپنے اپنے ناموں کی تختیاں لگانے والے اگرچہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انہوں نے گوادر کو عالمی نگاہ میں منفرد مقام دلانے کے لئے ایسی پورٹ کی بنیادیں مضبوط کر دی ہیں جو سی پیک کے ذریعہ سے پاکستان کی تقدیر لکھے گا لیکن اس موقع پر اخلاق کا تقاضا تھا کہ جس انسان نے گوادر کو خرید کر پاکستان کا حصہ بنایا اور اسکی خاطر دشمنان ملک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وطن عزیز کی سلامتی کا نہ سودا کےا،نہ سمجھوتا ،نہ ہی کمیشن کھایا،اسکو اس موقع پر یاد رکھا جاتا ۔گوادر کا نام بدل کر اس عظیم انسان کے نام سے منسوب کردیا جاتا۔ کیونکہ سچائی یہی ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم فیروز خان نون نے گوادر کو پاکستان کا حصہ بناکر ملک کو دفاعی اور اقتصادی طور پر مضبوط کیا تھا اور یہی ان کا ویژن تھا جس کو موجودہ قیادت انکو یاد کئے بغیر آگے لیکر چل رہی ہے۔

ملک فیروز خان نون بھلوال سرگودھا سے تعلق رکھنے والے رئیسانہ ٹھاٹ باٹ کے حامل بڑے زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور انگلستان سے انہوں نے بیرسٹری کے بعد اس وقت وکالت کی جب ابھی تحریک پاکستان کا آغاز ہورہا تھا ۔ کم عمری میں سیاست میں حصہ لیتے ہوئے وہ وزیر دفاع،وزیر خزانہ ،مغربی پنجاب(موجودہ) کے گورنر و وزیر اعلٰی رہے ۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں خارجہ تعلقات کی بنیادیں مضبوط بنانے کے لئے اپنا معتمد خاص بنا کر اسلامی ملکوں میں بھیجا تھا لہذا انہیں سیاست اور ملکی نظام چلانے کا بہت تجربہ تھا،وہ دھیمے مزاج کے انسان تھے مگر گوادر پر انہوں نے بہت سخت اقدامات اٹھائے تھے۔ اگر اس وقت انہوں نے گوادر خریدا نہ ہوتا تو آج پاکستان کا نقشہ نامکمل ہوتااور پاکستان جغرافیائی طور انتہائی کمزور ہوچکا ہوتا ۔اس بات کو ذرا اس زاویہ سے دیکھیں کہ کشمیر پاکستان کی رگ ہے جس کو ابھی تک دشمن سے نہیں چھڑوایا جاسکااورہمارادشمن کشمیر پر قبضہ کرکے پاکستان کو جس انداز میں نقصان پہنچا رہا ہے اگر گوادر بھی ملک فیروز خان نون نے حاصل نہ کیا ہوتا تو افغانستان ،بلوچستان،سندھ ،خلیجی ممالک اور ایران سے اٹھنے والی بہت سی سازشیں پاکستان کولپیٹ میں لئے رکھتیں ۔چھیالیس بلین سے تیار ہونے والی سی پیک کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا ۔فراری کیمپوں کا نیٹ ورک نہ توڑا جاسکتا تھا ۔کلبھوشن یادیو جیسے جاسوسوں کو کسی پاسپورٹ کے بغیر یہان رہنے اور ٹہلنے کی عام اجازت ہوتی۔پاکستان کی کمر میں گوادر نوکدار زہریلے تیر کی کھبتا رہتا اور پاکستان کے جسد پاک سے خون رستا ہی رہتا۔ان زخموں کو سینا کاردشوار ہوتا۔فوج کو اس کی سرحدوں کی حفاظت پرزیادہ قوت صرف کرنا پڑتی۔

کراچی سے سات سو کلومیٹر دور دو ہزار چار سو مربع میل پر محیط گوادر اٹھارویں صدی میں بلوچستان کا ہی حصہ تھا۔1783ء مسقط کے ایک شہزادے سعد سلطان نے خان قلات میر نصیر خان کوخط لکھا کہ اسکا اپنے بھائی سے جھگڑا ہو گیاہے وہ یہاں پناہ لینے کا خواہش مند ہے ۔ چنانچہ خان نے نہ صرف سعدسلطان کو خوش آمدید کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کے لیے شہزادے کے نام کر دی۔جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آ کر رہائش اختیار کر لی تھی ۔1797میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں کا حکمران بن گیاتو اس نے گوادر خان قلات کو واپس کرنے کی بجائے اس پر تسلط قائم رکھا ۔1804میں اسکی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلوچستان کے بلیدیوں نے گوادر پر قبضہ کر لیا جس پر مسقط کی فوجوں نے آ کر اس علاقے کو بلیدیوں سے واگزار کروایا۔1838 ء کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اس علاقہ پر ہوئی تو بعد میں1861میں برطانوی فوج نے میجر گولڈ سمتھ کی نگرانی میں اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور1863 میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا چنانچہ ہندوستان میں برطانیہ کی برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہازوں نے گوادر اور پسنی کی بندر گاہوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔قلات کے حکمران نے 1861ء میں گوادر کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ برطانیہ نے مداخلت کی لیکن کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ سے احتراز کیا۔1863میں گوادر میں پہلا تار گھر اورپسنی میں دوسرا تار گھر بنایا گیا۔1894کو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903کو پسنی اور1904کو اورماڑہ میں ڈاک خانے قائم کیے گئے۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے مسئلہ گوادرایک بار پھر اٹھایا‘ 1949 میں مذاکرات بھی ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔بالاخر ملک فیروز خان نون اپنے دور حکومت میں مسقط سے دس ملین ڈالر میں گوادر کوخریدنے میں کامیاب ہوگئے ۔

ملک فیروز خان نون نے جس دور اندیشی کے تحت گوادر خریدا تھا ،اسکے بارے انہوں نے اپنی کتاب چشم دید میں لکھ رکھا ہے ”میں 1956ء میں وزیرِ خارجہ مقرر ہوا تو میں نے گوادر سے متعلق کاغذات طلب کئے اور اس قضیہ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد حکومتِ برطانیہ کے توسط سے سلسلہ جنبانی شروع کر دی۔ برطانیہ کے سامنے ایک مشکل کام آ پڑا تھا۔ ایک طرف دولتِ مشترکہ کا ایک رکن تھا ور دوسری طرف یارِ وفادار سلطان مسقط، جس کے ساتھ ڈیڑھ سو (150) سال کے گہرے مراسم تھے۔ ان دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم تھے۔ میری توقعات کا پارہ کبھی اوپر چڑھتا تھا اور کبھی نیچے گر جاتا تھا۔ ادھر گفت و شنید بدستور جاری رہی۔ یہاں تک کہ میں نے 1957ء میں وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور گوادر حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی “

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانابہت بڑا کارنامہ تھا لیکن اس پر کوئی جشن منایا گیا نہ ہی اسکا کریڈٹ انہیں دیا گیا ۔اسکی وجہ بھی ملک فیروز خان نون نے بیان کی تھی” میں نے برطانیہ اور صدر سکندر مرزا سے وعدہ کر لیا تھا کہ اس موقع پر کوئی جشن نہیں منایا جائے گا۔ کیونکہ اس طرح سلطان مسقط کے جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ تھا“۔۔۔۔

گوادر کے پاکستان سے الحاق کے بارے میں ملک فیروز خان نون کی خودنوشت میں درج ہے ”مجھے پاکستان میں اس وقت کے برطانوی وزیراعظم مسٹر ہیرالڈ میکملن اور لیڈی ڈورتھی کے خیرمقدم کا بھی شرف حاصل ہوا۔ مسٹر میکملن پاکستان کے بہت اچھے دوست ہیں۔ میں مسٹرمیکملن اور ان کے وزیر خارجہ مسٹر سلوِن لائیڈ کا ذاتی طور پر ممنون ہوں جنہوں نے گوادر کے معاملہ میں میرے ساتھ دوستانہ اعانت کا سلوک روا رکھا۔“

ملک فیروز خان نون ماہر قانون دان تھے اور قائد اعظم کی طرح وہ دلائل پر بات کرتے تھے ۔ایک کامیاب بیرسٹر کی حیثیت میں گوادر کا مقدمہ جیت لینے میں انکے قانونی نکات نے تاج برطانیہ کو مخمصے میں ڈال دیا تھا اور اسکے لئے گوادر کے پرامن انتقال کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا ۔ملک فیروز خان نون نے اس پہلو کو اپنی کتاب میں یوں بیان کیا تھا ”میں نے اس قضیہ کی تاریخ میں پہلی بار یہ قانونی نکتہ اٹھایا تھا کہ گوادر کی حیثیت ایک جاگیر کی ہے۔ وہ ریاست کا ایک علاقہ ہے جسے ایک شخص کو اس لئے تفویض کیا گیا تھا کہ وہ ریاست کے واجب الادا ٹیکس وصول کرے اور اسے اپنی گزراوقات کے لئے تصرف میں لائے یا اس رقم کو اپنی تنخواہ قیاس کرے اس طرح کی امداد سے اقتدارِ اعلیٰ کی منتقلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم نے پاکستان میں وہ ساری جاگیریں منسوخ کر دی ہیں جو بہت سے لوگوں کو برطانیہ سے اپنی خدمات کے صلہ میں یا دوسرے سیاسی اسباب کی بنا پر دی گئی تھیں۔ چونکہ گوادر بھی ایک جاگیر تھی لہذا اس کی تنسیخ بھی کی جاسکتی تھی اور اس علاقہ پر قبضہ بھی ممکن تھا میں نے اس دلیل کا تذکرہ اپنے کسی برطانوی دوست سے دھمکی کے طور پر نہیں کیا، تاہم یہ ایک قانونی نکتہ تھا جو عدالتی چارہ جوئی کی صورت میں ہمارے کام آسکتا تھا۔ برطانوی حکومت بڑے مخمصے میں پھنس گئی۔ اگر پاکستان کی فوج اس علاقہ پر قبضہ کر لیتی تو کیا برطانوی حکومت دولتِ مشترکہ کے اس ملک پر بمباری یا فوج کشی کر دیتی جس کی علامتی سربراہ خود ملکہ الزبتھ ہیں؟“

گوادر کی پرامن جنگ لڑنے کے لئے انہوں نے سفارت کاری سے بہت کام لیا اور پاکستان کو عالمی قوتوں کے ساتھ ایک پیج پر لانے کی بھرپور کوششیں کیں۔انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ”پاکستان کا دولتِ مشترکہ میں رہنا اس کے لئے بہت سودمند ثابت ہوا۔ بصورتِ دیگر ہماری حالت مسقط اور اس کے ملحقہ علاقوں کے مقابلہ میں اومان(عمان) کے امام سے کچھ زیادہ بہتر نہ ہوتی اور ہمارے دعووں کو ایک غیرملکی طاقت کی دھمکی تصور کیا جاتا۔ برطانوی وزیراعظم مسٹر میکملن، وزیر خارجہ مسٹرسلون لائیڈ اور وزیر امورِ دولت مشترکہ لارڈہوم نے اس سارے معاملہ میں جو منصفانہ رویہ اختیار کیا اس کا مجھے تہہ دل سے اعتراف ہے۔ انہوں نے کسی بھی فریق پر دباو¿ نہیں ڈالا۔ چنانچہ گوادر کی منتقلی نہایت خوش اسلوبی سے ر±و بہ عمل آئی، قدرتی بات ہے کہ اس کا معاوضہ ادا کرنا پڑا لیکن جہاں ملک کی حفاظت اور اس کے وقار کا مسئلہ درپیش ہو وہاں روپیہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔58 ء میں جب میں لندن میں تھا تو ہمارے ہائی کمشنر اکرام اللہ نے گوادر کی منتقلی کی دستخط شدہ دستاویز میرے حوالے کیں۔ اس وقت مجھے جو خوشی ہوئی آپ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا مجھے یوں محسوس ہوتا گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے اور یہ اجنبی کسی وقت بھی اسے ایک پاکستان دشمن کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن طاقت اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتی ہے۔ “

گوادر کے عوض ادا کی جانے والی بھاری رقم پر ملک فیروز خان نون کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن انہوں نے واضح اعلان کردیا تھا کہ گوادر کے بدلے انہوں نے پورے پاکستان کے امن اور تحفظ کی قیمت ادا کی ہے اور رقم بہت جلد پوری کرلی جائے گی۔وہ دور اندیش تھے اور گوادر کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ملک فیروز خان نون کے بقول گوادر میں ماہی گیری کی صنعت سے جو ٹیکس وصول ہورہا ہے معاوضہ کی رقم اس کی چند برس کی آمدنی کے برابر ہوگی۔

انہوں نے اس حوالے سے لکھا ”گوادر سمگلروں کی جنت تھی۔ ہم نے جتنی رقم اس کے معاوضہ میں ادا کی ہے وہ چند ہی برسوں میں کسٹم کے محصول سے وصول ہو جائے گی۔ گوادر کے راستے سے سمگل ہونے والا سستا سامان اور سونا پہلے بلوچستان میں جگہ جگہ بکتا تھا۔ اب سمگلروں کی مجرمانہ سرگرمیاں اسی سمندر میں غرق ہو چکی ہیں۔ ہم اب خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں اور سلطانِ مسقط کو بھی پاکستان جیسا زبردست دوست اور حلیف ملک مل گیا ہے۔“

اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ملک فیروز خان نون نے بڑی جامع حکمت عملی اور ہر قسم کے عسکری دباو¿ کے بغیر مقدمہ گوادر کے لئے زمین نرم کی اور کوئی جنگ لڑے بغیر گوادر حاصل کرلیاتھا ۔بھارت کو جب اس خبر کی بھنک پڑی تو وہ تلملا اٹھا تھا ۔ ملک فیروز خان نون کے مطابق جب وہ سرحدی تنازعات کے تصفیہ سے متعلق مذاکرات کے لئے دہلی گئے تو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کہاتھا ”آپ نے گوادر لے لیا“

میں نے جواب دیا ”جی ہاں لے لیا“۔اس وقت جواہر لال نہرو کا منہ تکنے کے لائق تھا ۔انہیں خدشہ ہوگیا کہ پاکستان کا ایک ایسا حکمران جس نے وزارت خارجہ اور وزیر اعظم کا قلمدان سنبھالنے تک پاکستان کی جڑوں کو مضبوط کرنے لئے گوادر حاصل کرلیا ہے وہ بہت تیزی سے جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے عنقریب کشمیر کو بھی بھارت کے چنگل سے چھڑوا لے گا لہذا ملک فیروز خان نون کی حکومت کے خلاف سازشوں کو اچھالنے اور گہرا کرنے میں بھارت نے بھرپور حصہ لیا ۔کیونکہ یہی وہ دور تھا جب ملک فیروز خان نون نے اقوام متحدہ کی عالمی عدالت میں کشمیر میں استصواب رائے کاحق استعمال کرنے کی تجویز منظور کرالی تھی۔افسوس کہ قوم اور دانشورملک فیروز خان نون کی ان خدمات سے آگاہ نہیں ہیں ۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گوادر مستقبل میں ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کر جائے گااور نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا اقتصادی لحاظ سے ایک اہم شہر بن جائے گا اور یہاں کی بندرگاہ پاکستان کے علاوہ چین، افغانستان، وسط ایشیاء کے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں آئے گی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا۔گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے اب لوگوں کی توجہ اس طرف ہو چکی ہے۔کیونکہ بندر گاہ خلیج فارس، بحیرہ عرب، بحر ہند، خلیج بنگال اور اسی سمندری پٹی میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہو گی اور اس میں بڑے بڑے کارگو بحری جہاز باآسانی لنگر انداز ہو سکیں گے۔ جن میں ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز تک شامل ہیں۔ اس بندر گاہ کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان، چین اور وسط ایشیاء کی تمام ریاستوں کی تجارت ہوگی بلکہ پاکستان کا دفاعی حصار بھی مضبوط ہوگا ۔اس وقت ہمیں ملک فیروز خان نون کی گراں قدر خدمات کو بھرپور کراج تحسین پیش کرنا چاہئے اور گوادر میں قائم ہونے والی بندرگاہ سمیت ملک کی یونیورسٹیوں کالجوں کو ان کے نام سے منسوب کرنا چاہئے اور نصابی کتب میں بھی انکی قومی خدمات کا مفصل ذکر کرنا چاہئے ۔ٓج ان کا پوتا ملک عدنان حیات نون اور انکی بیگم طٰیحہ عدنا ن پنجاب کی سیاست میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ،یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک فیروز خان نون کے نام پر ایسے ملک گیر ادارے کی بنیاد رکھیں جو قومی سلامتی اور نظریاتی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتا رہے۔

’’پاکستان کے سابق وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی گوادر کے حصول کے بعد کی جانے والی یادگار تقریرآپ بھی سن سکتے ہیں‘‘

مزید : بلاگ