پیڈو کے برطرف چیف ایگزیکٹو کو بچانے کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

پیڈو کے برطرف چیف ایگزیکٹو کو بچانے کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ
پیڈو کے برطرف چیف ایگزیکٹو کو بچانے کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف حکومت نے خیبرپختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اکبر ایوب کو برطرفی سے بچانے کیلئے پیڈو ایکٹ میں ترامیم کے لئے ارڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم محکمہ قانون نے پیڈو ایکٹ میں ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ صرف ایک مخصوص شخص کو بچانے کیلئے ترمیمی آرڈیننس کے اجراءکا کوئی قانونی جواز نہیں۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق16جون کو خیبرپختونخوا کابینہ کے بعض وزراءپہلے ہی پیڈو ایکٹ میں ایک شخص کو تحفظ دینے کے لئے ترمیم کو مسترد کر چکے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ نے جون کے پہلے ہفتے میں اکبر ایوب کی تقرری کو18فروری 2015ءسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا تھا۔اکبر ایوب نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے دو ماہ کی مہلت طلب کر رکھی ہے جس کی مدت12اگست کو ختم ہو گی۔صوبائی حکومت عمران خان کی ہدایت پر اکبر ایوب کوہر صورت بچانے کے لئے سرگرم ہے۔اکبر ایوب سے بار بار رابطہ کیا گیا تاہم انھوںنے فون سنا اور نہ ہی کسی پیغام کا جواب دیا۔ اخبار کے مطابق تحریک انصاف حکومت نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیڈو ایکٹ 1993ءمیں ترمیم لانے میں ناکامی کے بعداکبر ایوب کی ملازمت کو تحفظ دینے کے لئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیاہے۔

نواز شریف کا جی ٹی روڈ کارواں کا فیصلہ جمہوریت کیلئے مہلک ثابت ہو گا، شفقت محمود

صوبائی حکومت چیف ایگزیکٹو پیڈو کی تقرری کیلئے اہلیت و قابلیت تبدیل کرنا چاہتی تھی تاکہ انھیں بھرتی کےروز سےقانونی تحفظ مل سکے۔ محکمہ توانائی خیبر پختونخوا نے پیڈو ایکٹ میں ترمیم کیلئےڈرافٹ تیار کیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ پیڈو کے چیف ایگزیکٹو کی تقرری کیلئے موجودہ اہلیت انرجی وپاور کو قانون ‘ بزنس‘ انجینئرنگ‘ فنانس‘ اکاﺅنٹس ‘اکنامکس اور پاور وانڈسٹری میں 12سالہ تجربے سے تبدیل کر دیا جائے تاکہ موجودہ چیف ایگزیکٹو اکبر ایوب کو عدالتی فیصلوں سے محفوظ بنایا جائے کیونکہ اکبر ایوب کے پاس فنانس کی ڈگری اور تجربہ ہے۔حکومت نے قانون میں ترمیم کے لئے ڈرافٹ بل صوبائی کابینہ میں پیش کیا تاہم سکندر شیرپاﺅ اور ایک اتحادی جماعت کے وزیر نے بل کی شدید مخالفت کی تاہم بعض تبدیلیوں کے بعد بل کو اصولی طور پر منظور کرلیا گیا۔اب صوبائی حکومت نے پیڈوکے چیف ایگزیکٹواکبرایوب خان کی تعیناتی کوقانونی حیثیت دینے اور انکی پشاورہائیکورٹ سے برطرفی روکنے کے لئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق محکمہ قانون خیبرپختونخوانے2اگست کو اپنے ایک مراسلے میں آرڈیننس کے ذریعے مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کااظہارکرتے ہوئے چار اعتراضات لگا ئے ہیں۔پہلے اعتراض میںکہا گیا ہے کہ پیڈو ایکٹ میں ترمیم صرف ایک شخص کوبچانے کے لئے تجویزکی گئی ہے جس کامحکمہ انرجی اینڈ پاور کے پاس کوئی جواز نہیں۔ دوسر ااعتراض اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ ایک جانب ہمیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایات دی جارہی ہیں اوردوسری جانب ترمیمی آرڈیننس کا جائزہ لینے کی ہدایت کی جارہی ہے۔محکمہ قانون نے آرڈیننس پر تیسر ااعتراض اس حوالے سے کیا ہے کہ مجوزہ آرڈیننس میں چیف ایگزیکٹوپیڈوکی تعیناتی کے لئے کوئی مخصوص تعلیمی قابلیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مزید : پشاور