جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر55

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر55
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر55

  

میں حیران تھا کہ کھیڈو چوہڑے اور سپنا کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس کے باوجود کالی داس منڈل سے باہر نہ آیا۔ میں سمجھ رہا تھا شاید وہ بری طرح خوفزدہ ہوگیا ہے لیکن یہ میری بھول تھی۔ وہ خیبث اپنی طاقت بڑھانے کے لیے مزید جادو سیکھ رہا تھا۔ جس کا علم رادھا کو بھی نہ ہو سکا۔ ملنگ بھی غائب تھا۔ رادھا ایک دو دن بعد رات کو آجاتی اور ہم دنیا و مافیھا سے بے خبر ایک دوسرے میں کھو جاتے۔

میں۔۔۔جو کھبی ایک نماز قضا کرنا گناہ کبیرہ سمجھتا تھا اب اکثر میری نمازیں قضا ہونے لگی تھیں۔ صبح کی نماز تو اکثر نکل جاتی۔ جس رات رادھا آتی تو صبح تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ مصروف رہتے ایسے میں صبح نماز کے لئے اٹھنا مشکل کام تھا۔ یوں بھی جب انسان برے اور بے حیائی کے کاموں میں پڑ جائے تو اس کے دل سے نیکی کا خیال نکل جاتا اور گناہ پر اس کے دل میں کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ میں جو کچھ رادھا کے ساتھ کر رہا تھا اس فعل کے بارے میں اسلام میں اتنی سخت سزا ہے کہ سنگسار کیے بنا چھوٹ نہیں۔ لیکن میں رادھا کے عشق میں اندھا ہو چکاتھا۔ صائمہ ایک دو بار مجھ سے اس بات پر ناراض ہوئی تھی کہ میں نمازوں کی پابندی نہیں کرتا۔ میں ڈھٹائی سے سن لیتا لیکن کرتا وہی جو میرا دل چاہتا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر54  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دن میں بینک میں حسب معمول اپنے کام مصروف تھا کہ رادھا آگئی۔ اسکا آنا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی بلکہ شاید ہی کوئی دن ایسا ہوتا جب وہ نہ آتی۔ اس دن کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی تھی۔

’’کیا باتہے رادھا! آج تم کچھ پریشان دکھائی دے رہی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’موہن! مجھے کچھ دن کہیں جانا ہوگا۔ اور مجھے تمری چنتا ہے کہ کہیں تمہیں کوئی کشٹ نہ بھوگناپڑے‘‘ اس نے کہا۔

’’کون مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے؟‘‘ میں حیران ہوگیا۔

’’تم کالی داس کو بھول گئے ہو‘‘ اس نے کہا۔

’’ہاں۔۔۔رادھا! یاد آیا تم نے کھیڈو اور سپنا کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟‘‘ اکثر میرے ذہن میں یہ بات آتی لیکن رادھا جب سامنے ہوتی تو سوائے عشق و محبت کے اور کچھ نہ سوجھتا۔

’’میری سکھیوں کوبھوجن مل گیا تھا‘‘ اس نے بڑے آرام سے کہا۔

’’اس بار میں دھیان رکھا تھا ان کے بن ماس(بغیر گوش) کے شریر(ڈھانچے) کسی کو مل نہ جائیں اسی کا رن ان کو ایک گپھا (غار) میں لے جایا گیا تھا۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے لیکن تمہیں کتنے دنوں کے لئے جانا ہوگا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ٹھیک چار دن بعد پور نماشی ہے مجھے اگلے پور نماشی تک سوریہ دیوتا(سورج دیوتا) کا جاپ کرنا ہوگا‘‘

’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔

’’اپنی شکتی کو بڑھانے کے کارن مجھے ایسے جاپ کرنا پڑتے ہیں‘‘ اس نے سمجھایا۔

’’کیا تم ہر سال یہ جاپ وغیرہ کرتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔ہر ورش کرنا جروری ہے‘‘ اس کے حسین چہرے پر سوچ کی گہری لکیریں ظاہر کر رہی تھی کہ وہ بہت فکر مند ہے۔

’’پھر کیا مسئلہ ہے؟ اس بار بھی کر لو‘‘ میں نے کہا۔

پچھلے ورش تو بات کچھ اور تھی میں نے کسی سے مس نہیں لگایا تھا پرنتو اس بار میرا من نہیں کرتا کہ جاؤں پرنتو نہ گئی تو ۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگی۔

’’یعنی کہ پوراایک ماہ تم مجھ سے دوررہو گی‘‘ میں بھی اداس ہوگیا تھا۔

’’ہاں‘‘

’’لیکن تم جانتی ہو کہ دشمن میری تاک میں ہے ایسا نہ ہو تمہاری غیر موجودگی میں وہ کوئی وار کر جائے‘‘ میں نے خدشہ ظاہر کیا۔

’’اسی بات کی چنتا تو مجھے بیاکل کر رہی ہے موہن!‘‘ وہ پر خیال انداز سے بولی۔ کافی دیر ہم دونوں اپنی اپنی سوچوں میں غرق رہے۔ خاصا سنجیدہ مسئلہ تھا۔ اور کسی کی طرف سے تو شادی اتنی فکر نہ ہوتی لیکن کالی داس ابھی زندہ تھا اور اس کمینے سے ہر قسم کی قبیح حرکت کی توقع کی جا سکتی تھی۔

’’کیا یہ جاپ تمہارے لئے بہت ضروری ہے؟‘‘ میں نے دوبارہ پوچھا۔

’’ہاں موہن!یدی میں ایسا نہ کروں تو میری شکتی کم ہو جاتی ہے۔ جس طرح کھیڈو تیار ہو کر آیا تھا یدی میں نے اپنا جاپ نہ کیا ہوتا تو تمرے واسطے کٹھنا یاں بڑھ سکتی تھیں وہ دھشٹ پوری تیاری کرکے آیا تھا۔ پرنتو وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی یدھ رادھا سے ہے‘‘ کچھ دیر وہ خاموش بیٹھی رہی پھر سر پرہاتھ مارکربولی۔

’’دھت تیرے گی۔۔۔میں بھی کتنی مورکھ ہوں۔ اس سمسیا کا سما دھان ہے‘‘ اس کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا۔

’’وہ کیا؟‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔

’’میری سکھیاں۔۔۔‘‘ اسکے لہجے سے اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا۔

’’کیا مطلب میں سمجھا نہیں‘‘

’’جب تک میں واپس نہ آجاؤں میری سکھیاں تمری رکھشا کریں گی‘‘

’’کیا تمہاری سہلیاں بھی تمہاری طرح مجھے نظر آیا کریں گی؟‘‘ میں نے کسی خیال کے تحت پوچھا۔

’’نہیں۔۔۔پرنتو جب بھی تم اپنے من میں ان کا وچارکیا کرو گے وہ تمری سہائتا کرنے آجائیں گی۔ پرنتو ایک بات کا دھیان رکھنا، کہیں کسی سے من نہ لگا بیٹھنا‘‘ وہ آج حد سے زیادہ شوخ ہو رہی تھی۔

’’تمہیں دیکھنے کے بعد کسی اور طرف دیکھنے کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ کیا تمہاری سہلیاں تم سے بھی خوبصورت ہیں؟‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔

’’ہاں۔۔۔یوں تو ساری ہی سندرہیں پرنتو بسنتی۔۔۔اپسراؤں سے بھی جیادہ سندر ہے‘‘ رادھا کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ میں چونک گیا۔

’’موہن! میرے سنگ وشواش گھات نہ کرنا میں نے تمہیں اپنا سب کچھ مان لیا ہے اب میرے من میں کسی کی پرچھائیں بھی نہیں آسکتی۔ تمری پتنی کی بات دو جی ہے پرنتو کسی اور کا دھیان بھی من مین نہ لانا، وہ از حد سنجیدہ تھی۔

’’تم نے یہ بات کرکے میرا دل دکھایا ہے رادھا! کیا میں تمہیں اس قسم کا انسان نظر آتا ہوں کہ جسے دیکھا اس پر مر مٹا۔ یاد ہے شروع شروع میں تم سے بھی زیادہ لگاؤ نہیں رکھتا تھا یہ توپتا نہیں تمنے مجھ پر کیا جادو کیا ہے کہ میں تمہارا ہی ہو کر رہ گیاہوں‘‘ میں نے خفگی سے کہا۔

’’بھگوان کی سوگندکھا کر کہتی ہوں ناراج ہو کر تم اور سندر دکھتے ہو۔‘‘ وہ ہنسی’’مجھے تم پر پورا وشواس ہے پر نتویہ جو بنستی ہے نا۔۔۔بہت نٹ کھٹ ہے۔ اس پر سندربھی اتنی کہ میں تمہیں بتا نہیں سکتی۔ اسی کارن ہم دونوں کے پیچھے سارے سنسارکے سادھو، پنڈت ، پجاری پڑے ہیں۔ مجھے تو اس کارن اپنی بندی بنانا چاہتے ہیں جو منش مجھے پراپت کرنے میں سپھل ہوجائے گا وہ سنسار کا سبسے بلوان منش بن جائے گا۔ پرنتو بسنتی کے پیچھے کیول اسکی سندرتا کے کارن پڑے ہیں ‘‘ رادھانے تفصیل بتائی۔ میرے دلمیں یونہی خیال آیا کہ رادھا خود بھی بہت حسین ہے جب یہ اس لڑکی ’’بنستی‘‘ کی تعریف کرہی ہے تو وہ کیا بلا ہوگی؟

’’ابھی دیکھا نہیں اور یہ وچار ہیں دیکھنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ رادھا کے لہجے سے حسد کی بو آرہی تھی۔ وہ حسب معمول میرے دل میں آئی بات جان گئی تھی۔

’’ارے نہیں۔۔۔میں تو بس یونہی سوچ رہا تھا‘‘ میں خجل ہوگیا۔

’’موہن! کل کیا ہوگا یہ توکیول دیوتا ہی جانتے ہیں پرنتو اتنا دھیان رکھنا رادھا تم بن جی نہ پائے گی‘‘ اس نے بڑی حسرت سے کہا اور میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ میں نے اس کی حسین آنکھوں میں موتی چمکتے ہوئے دیکھ لیے تھے۔ میں اسے تسلی دینا چاہتاتھا لیکن اس نے موقع ہی نہیں دیا اور غائب ہوگئی۔

ایک دن میں بینک سے آیا تو صائمہ کہنے لگی ’’کل سے بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہورہی ہیں اگر آپ بھی دوچار چھٹیاں لے لیں تو ہم لاہور ہو آئیں۔‘‘

’’آجکل کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے تم لوگ چلے جاؤ میں بھی ایک ہفتے بعد آجاؤں گاپھر اکٹھے واپس آجائیں گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے اس طرح بچے کچھ دن سیربھی کر لیں گے۔‘‘ صائمہ نے کہا۔

میں نے دوسرے دن انہیں بائی ائر لاہور بھیج دیا۔ میں بینک پہنچا ہی تھا کہ کچھ دیر بعد رادھا آگئی۔ اسنے بتایا سارا بندوبست ہوگیا ہے دو دن بعد اسے ایک ماہ کے لئے جانا ہے۔

’’پریم! میں جانے سے پہلے ساری رینا تمری بانہوں میں بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ اسکی حسین آنکھوں میں نشہ اتر آیا۔ میرا دل بھی دھڑکنے لگا۔ رات کے حسین تصور نے میرے رگ و پے میں سرور کی لہریں دوڑا دیں۔

’’ٹھیک ہے تم آجانا‘‘ میں نے کہا۔

’’موہن! میں جانے سے پہلے تمہیں بسنتی سے ملانا چاہتی ہوں یدی کوئی کٹھن سمے آئے تو وہ تمہری سہائتا کر سکے‘‘ وہ کہنے لگی۔ یک بارگی میرا دل زور سے دھڑکا۔ میں نے جلدی سے خیالات کی رو دوسری طرف پھیرتے ہوئے اس سے پوچھا۔

’’تم کتنے بجے آؤ گی؟‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘

’’یونہی پوچھ رہاتھا۔‘‘

’’جس سمے ہر روج آیا کرتی ہوں اسی سمے ہی آؤں گی‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے انوکھی سی فرمائش کی۔

پریتم! جس کوٹھے میں تم سوتے ہو اسے بندکر دینا اورکچھ سمے تم کسی استھان پر بتا لینا‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ میں چونک گیا۔

’’اس پرشن کا اتر میں تمہیں سمے آنے پر دوں گی۔‘‘

’’تمہاری تو ہر بات ہی ایک معمہ ہوتی ہے۔‘‘میں ہنس دیا۔ سفید رنگ کی ساڑھی میں وہ جنت کی حور لگ رہی تھی۔ واقعی اس کا حسن بے مثال تھا۔ ابھی تک میں نے اپنی زندگی میں اس قدر حسین عورت نہ دیکھی تھی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ اس کی حسین آنکھوں میں خمار اتر آیا۔

’’تم بہت حسین ہو‘‘ تعریف سن کر اس کا چہرہ گلاب کی پھول کی طرح کھل اٹھا۔

’’پریتم! اسی طرح سارا جیون پریم کرتے رہنا‘‘ اس کی آواز بوجھل ہوگئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہنے لگی

’’اچھا پرتیم! جاتی ہوں اپنے سمے پر میں آجاؤں گی۔ میری اچھا کادھیان رکھنا۔ جہاں ہم نے آج کی رینا بتانی ہے اسے کچھ سمے کے واسطے بند کردینا۔ بھولنا نہیں۔‘‘ جاتے ہوئے اس نے ہدایت کی۔

’’نہیں بھولوں گا‘‘ میں نے کہا لیکن مجھے حیرت تھی کہ وہ ایسی فرمائش کیوں کر رہی ہے۔ خیر وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا میں نے زیادہ نہ سوچا اور کام میں مصروف ہوگیا۔(جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا