قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 37

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 37
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 37

  

صدر ایوب ہی کے دنوں کا واقعہ ہے کہ میں احمد ندیم قاسمی صاحب اور کچھ دوسرے رائل پارک میں اپنے ایک دوست موجد صاحب کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ محکمہ اطلاعات کے ایک سینئر آفیسر جہانگیر خان وہاں آئے اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے ’’ قتیل صاحب میں ایک بہت بڑے آدمی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں‘‘

وہ پہلے کسی فلم میں ہیرو بھی آچکے تھے اور میرے دوستوں میں سے تھے۔ اس لئے میں نے بے تکلفی سے کہا ’’ یہاں پر سب سے بڑے آدمی تو جنرل ایوب ہیں۔ کہنے لگے کہ آپ وہی سمجھ لیں‘‘ کہا کہ یہاں پر سب سے بڑے آدمی تو جنرل ایوب ہیں۔ کہنے لگے’’ آپ وہی سمجھ لیں۔ بہرحال میں آیا ہوں اور کام یہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں آپ سٹیج پر مجمع کو شاعر کے طور پر کنٹرول کریں اور آپ جو کہیں گے وہی معاوضہ ہو گا‘‘

میں نے کہا ’’ آپ معاوضہ کیا دیں گے ۔ میں تو فلم میں ہی بہت کما لیتا ہوں‘‘

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 36  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وہ کہنے لگے ’’ آپ بتا دیں کہ آپ فلم میں کیا کماتے ہیں، ہم اس سے بھی دو ہزار روپے زائد آپ کو دیں گے ۔ اس کے علاوہ آپ کو سفر خرچ بھی ملے گا۔ پھر صدر صاحب خوش ہو کر جو دیں گے وہ اس کے علاوہ ہو گا‘‘

اس زمانے کے لحاظ سے یہ دس بارہ ہزار روپے ماہانہ کی پیشکش بنتی تھی لیکن میں نے جہانگیر صاحب سے کہا ’’ میں اگرچہ صدر ایوب کا حامی ہوں اور انہیں ووٹ بھی دوں گا لیکن میں جلسے یا سٹیج کا شاعر نہیں ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں نے کبھی اس طرح کی سیاست بازی میں آکر حکمرانوں کی قصیدہ گوئی نہیں کی۔ اس لئے آپ مجھے معاف ہی رکھیں البتہ موجد صاحب کے اوپر ’’محفل ‘‘ کے دفتر میں طفیل ہوشیار پوری صاحب ہوتے ہیں جو اس سلسلے کے بہترین آدمی ہیں ۔ آپ وہاں چلے جائیے وہ ایسی چیزیں لکھتے ہیں اور پڑھتے بھی ترنم سے ہیں۔ اس لئے جلسے کیلئے ٹھیک ٹھاک رہیں گے‘‘

جہانگیر صاحب کہنے لگے ’’ اس مشورے کا شکریہ لیکن مجھے تو آپ کیلئے کہا گیا ہے ۔ اس لئے آپ غور کر لیں میں کل پھر آپ سے رابطہ کروں گا‘‘

اگلے دن وہ پھر وہاں پر آئے اور دوبارہ وہی بات کی ۔ میں نے پھر انہیں اپنا وہی مؤقف دہرایا اور کہا ’’ میں یقیناً ان کا حامی ہوں مگر یہ کام کر نہیں سکتا کیونکہ میر ی فطرت کے خلاف ہے ‘‘ چنانچہ وہ اوپر چلے گئے مگر اس وقت طفیل ہو شیار پوری وہاں موجود نہیں تھے۔ اس لئے ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اس کی بجائے بعد میں ان کا رابطہ مشیر کاظمی سے ہو گیا۔ مشیر کاظمی فلموں میں اداکاری بھی کر لیتے تھے اور نغمہ نگاری بھی مگر تک بند قسم کے شاعر تھے ۔ ان کا راجہ حسن اختر کے ہاں آنا جانا تھاجو پہلے منٹگمری میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے۔ راجہ حسن اختر نے ہی انہیں جہانگیر صاحب سے Recommend کیا تھا۔ اور جب یہ جہانگیر صاحب سے ملنے کیلئے گئے تو پہلے ہی اتارنا بھی جانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے جہانگیر صاحب کو اپنے آئینے میں اتار لیا۔

مشیر کا ظمی جلسوں میں جا کر لمبی لمبی نظمیں سنانے لگے انہیں اس کے صلے میں روٹ پرمٹ ملے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ۔ اس طرح ایک غیر شاعر کے سر پر ہما بیٹھ گیا اور اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب کھایا۔ اس طرح جو موقع طفیل صاحب کو ملنے والا تھا وہ انہیں مل گیا۔ طفیل صاحب کو اگر یہ موقع مل جاتا تو دوسری بات تھی کیونکہ وہ کم از کم شاعر تو تھے مگر مشیر کاظمی صاحب تو تُک بند تھے۔ اس طرح طفیل صاحب کی حق تلفی تو ہوئی لیکن اس کی تلافی بعد میں جا کر جنرل ضیاء کے دور میں ہو گئی۔

صدر ایوب

جنرل ایوب جس کسی پر مہربان ہوتے تھے پوری طرح ہوتے تھے او ر اشاروں کنایوں میں پوچھ لیا کرتے تھے کہ جس سے وہ مخاطب ہیں اس کی ضروریات کیا ہیں۔ میرا شروع سے رویہ یہ تھا کہ اپنے لئے کوئی کام کہنا سر پر پہاڑ اٹھانے کے برابر ہوتا تھا لیکن میں دوسروں کیلئے فراخدلی سے کہہ بھی لیا کرتا تھا اور لڑبھی لیا کرتا تھا۔

ایک بار مجھے صدر ایوب کے ملٹری سیکرٹری کا ٹیلیگرام موصول ہوا کہ پنڈی میں فلاں دن فلاں وقت پر آکر صدر صاحب سے ملاقات کرو۔ حسب پروگرام میں وہاں گیا۔ میرے اپنے پاس تو کوئی گاڑی نہیں ہوتی تھی البتہ میرے دوست احمد ظفر کی پنڈی میں گاڑی ہوتی تھی اور ان کے بھائی ڈرائیور بھی کر سکتے تھے ‘ چنانچہ ان کی گاڑی میں بیٹھ کر میں ایوان صدر پہنچا۔

جب میں صدر صاحب سے ملنے کیلئے گیا تو وہ کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے باتیں پوچھیں۔ ایک تو انہوں نے ہری پور کے بارے میں تفصیلات پوچھیں جو میں نے وضاحت سے بیان کیں۔ اصل میں انہیں میری یہ بات بھاگئی تھی کہ جب گزشتہ بار انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا تم ہری پور کے رہنے والے ہوتو میں نے کہا تھا کہ میں ہری پور کا رہنے والا تو یقیناً ہوں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہاں ہزاروں آدمی اور بھی رہتے ہیں ۔ مجھے تو یہ فخر ہے کہ آپ نے مجھے شاعر کے طور پر پہچانا ہے اور آپ مجھے جو ملاقاتوں سے نواز رہے ہیں اس میں میری شاعری کو دخل ہے۔

صدر ایوب کو یہ چیز پسند تھی کیونکہ ذہنی سطح پر وہ علاقائیت کے قائل نہیں تھے وہ اپنے آپ کو پورے پاکستان کا باشندہ سمجھتے تھے اور پاکستانی ہونے پر انہیں بھی فخر تھا۔ اس لئے اگر کوئی شخص علاقائیت سے ہٹ کر بات کرتاتھا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ اس حوالے سے اب بھی باتیں ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ یونہی میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارا کیا حدود اربعہ ہے ۔ میں نے بتایا تو کہنے لگے کہ اچھا کوئی کام ہو تو بتاؤ ۔ میں نے کہا کہ ہمارا علاقہ بڑاپسماندہ ہے ۔ میں نے پہلے بھی آپ سے گزارش کی تھی کہ یہاں تعلیمی سلسلہ زیادہ ہونا چاہئے۔ کہنے لگے کہ تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے کتاب ’’ FRIENDS NOT MASTWRS ‘‘کی ساری رائلٹی وہاں کے سکولوں کو دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات میرے علم میں ہے لیکن اس علاقے کی پسماندگی اس سے بھی زیادہ چاہتی ہے اور اس کیلئے میری تجویز یہ ہے کہ وہاں پر ایک لائبریری بنے جس میں ادبی ‘ مذہبی ‘ سائنسی اور تکنیکی کتابیں ہوں اور اسے بڑے سائنٹیفک بنیاد پر چلایا جائے اور لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیداکیا جائے۔ ساتھ میں نے یہ بھی کہا کہ اس لائبریری کا نام آپ کے نام پر ہونا چاہیے۔ کہنے لگے کہ تم نے یہ بڑی اچھی تجویز پیش کی ہے ‘ اس لئے میں چاہوں گا کہ یہ لائبریری تمہارے نام سے ہی منسوب ہو۔ میں یہ جواب سن کر بڑا خوش ہوا کہ اتنا بڑا آدمی مجھے یہ بات کہہ رہا ہے ۔ اس موقع پر ہی انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ اس لائبریری کا تخمینہ لگا کر کسی وقت مجھے پوری تفصیلات سے آگاہ کرنا۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے