پولیس نے جی ٹی روڈ پر رہائشیوں سے بیان حلفی لینا شروع کر دیا

پولیس نے جی ٹی روڈ پر رہائشیوں سے بیان حلفی لینا شروع کر دیا
پولیس نے جی ٹی روڈ پر رہائشیوں سے بیان حلفی لینا شروع کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ویب ڈیسک)پولیس نے جی ٹی روڈ پر واقعہ گھروں کے مکینوں سے ناز یبا اور ہتک آمیز الفاظ نہ بولنے اورکوئی بھی چیزوی وی آئی پی موومنٹ کی طرف نہ پھینکنے کا بیان حلفی لینا شروع کر دیا۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق بیان حلفی گھروں، فیکٹریوں، دوکانوں اور کارخانوں کے مالکان سے لیا جا رہا ہے، شہریوں سے حلف لیا جا رہا ہے کہ 10 اور 11 اگست کو وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران گھر یا فیکٹری کے اندر یا چھت پر کسی غیر متعلقہ شخص کو نہیں آنے دوں گا اور نہ کسی اجنبی یا تخریب کارکو ٹھہراﺅں گا، میرے گھر یا فیکٹری سے وی وی آئی پی موومنٹ پر کوئی چیز نہیں پھینکی جائے گی اور نہ ہی نازیبا اور ہتک آمیز الفاظ استعمال کروں گااور نہ ہی کسی دوسرے کو کرنے دوں گا۔ دروازے اور کھڑکیاں بند رکھوں گا۔ پولیس اور انتظامیہ سے مکمل تعاون کروں گا۔ غفلت ، لاپرواہی یا حکم عدولی کی شکل میں رائج الوقت قانون کے مطابق لائق تعزیز ہوں گا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی ریلی لاہور روانہ،جی ٹی روڈ پر واقع تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، عملے کی چھٹیاں منسوخ

دوسری طرف لاہور پولیس نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی راولپنڈی سےلاہور آمد کے موقع پر ایک جامع سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا ہے ، سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس کی طرف سے پولیس افسران کو جاری ہونے والے سیکیورٹی پلان کے مطابق لاہور پولیس وی وی آئی پی اور ریلی و جلسہ کے شرکاء  کو مکمل اور جامع سیکیورٹی فراہم کرئے گی، یہ ریلی جی ٹی روڈ کے ذریعے ضلع لاہور کی حدود میں داخل ہو گی اور داتا دربار پہنچ کر اختتام پذیر ہو گی، سابق وزیراعظم لاہور میں داخل ہونے کے بعد مختلف مقامات پر لوگوں سے خطاب کریں گے اور داتا دربار ریلی کے اختتام پر ایک جلسہ عام سے بھی خطاب کریںگے، جاری ہونے والے سیکیورٹی پلان میں افسران کی طرف سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران جو اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود ہونگے مقامی سیاستی قیادت کے ساتھ مکمل طور پر رابطہ میں رہیں گے اور تمام سیکیورٹی انتظامات میں ان کو اعتماد میں لیں گے، ریلی کے روٹ اور اس کے اطراف میں کومبنگ آپریشن کیے جائیں گے ، اسی طرح دیگر ایجنسیوں کے ساتھ آئی بی او بھی کیے جائیں گے، روٹ پر آنے والے تمام راستوں ، گلیوں اور سڑکوں کو بذریعہ بیرئیر کنٹینر زیا دیگر طریقہ سے مکمل طور پر بند کیا جائے گا،لوگوں کے داخلہ کے راستے مخصوص ہونگے جن کے ذریعہ وہ ریلی میں شامل ہونگے یا استقبال کے لیے جی ٹی روڈ کے اطراف آسکیں گے ، ان داخلی راستوں پر مکمل چیکنگ کا بندوبست، کیا جائے کوئی شخص بغیر جامعہ تلاشی ریلی میں شرکت نہ کرے گا، اسی طرح ریلی کے ساتھ شامل ہونے والی گاڑیاں وغیرہ بھی مخصوص راستے سے مکمل چیکنگ کے بعد ریلی کے ساتھ شامل ہو سکیں گے، سابقہ وزیراعظم جن مقامات پر رک کر عوام سے خطاب کریں گے انہیں چاروں طرف سے مکمل طور پر کارڈن آف کیا جائے گا اور صرف مخصوص جگہوں سے لوگ بعداز جامعہ تلاشی داخل ہوں گے، وی وی آئی پی کی سواری کی ایلیٹ کی گاڑیاں باکس فارمیشن میں چاروں طرف سے گھیر کر رکھیں گی، سادہ کپڑوں میں ایلیٹ کے جوان وی وی آئی پی کے ہمراہ ڈیوٹی کیلئے لگائے جائیںگے، کیول کیڈ میں ایک اے پی سی اور ایک موبائل ہسپتال بھی شامل ہوں گے، کسی بھی شخص کو اسلحہ کی نمائش کی اجازت نہ ہوگی اورنہ ہی ریلی و جلسہ میں کوئی شخص اپنے ہمراہ مسلح گن مین لائے گا، جلوس ہائے کی سیکیورٹی کے سلسلہ میں جاری شدہ تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کیا جائے گا، ریلی کے روٹ کے راستے میں آنے والی رہائش گاہ اور دوکانات وغیرہ کا مالکان سے اس بات کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا جائے گا کہ وہ کسی غیر متعلقہ اور مشکوک شخص کو اپنے مکان یا دوکان میں داخل نہ ہونے دیں گے، ہر افسر اپنے پاس ایک چیک لسٹ رکھے گا جس میں ایس او پی پر عمل درآمد کیے جانے والے تمام نقاط کا اندراج ہو گا ، سیاسی قیادت کے مقرر کردہ فوکل پرسن سے رابطہ میں رہا جائے گا اور سیکیورٹی انتظامات کے سلسلہ میں ان کی معاونت حاصل کی جائے گی۔

عوام کا اعتماد ہی نواز شریف کا حوصلہ ہے، اللہ میرے لیڈر، بھائی اور ریلی کے تمام شرکاءکو اپنے امان میں رکھے: شہباز شریف

سی ٹی او لاہور ٹریفک پلان مرتب کریں گے ، روٹ اور جلسہ کے مقامات پر روشنی کا بندوبست کیا جائے گا، جلسہ اور ریلی کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی، ایس ایچ او کی پوائنٹ ڈیوٹی نہ ہو گی بلکہ وہ تمام علاقہ میں ڈیوٹی کی سپرویژن کرنے کے ذمہ دار ہونگے، روٹ و جلسہ گاہ پرڈیوٹی کار پورٹنگ ٹائم وی وی آئی پی کی آمد سے کم از کم دو گھنٹے قبل ہو گا، تاہم دو گھنٹے سے پہلے سیکلٹن ڈیوٹی لگائی جائے گی تاکہ روٹ و جلسہ گاہ محفوظ رہے ، پولیس افسران و جوان دوران ڈیوٹی کسی بھی جگہ ٹولیوں کی شکل میں کھڑے نہ ہونگے بلکہ الگ الگ مناسب فاصلے پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی سرانجام دینگے، پولیس افسران وی وی آئی پی کے سیکیورٹی افسر کے ساتھ رابطہ میں رہیں گے ، کوشش کی جائے گی جی ٹی روڈ کا دائیں جانب والا راستہ کھلا رکھا جائے تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر نقل و حرکت ممکن ہو سکے ، روٹ کے دور آنے والی دیگر سیاسی جماعت ہائے کے دفاتر کے منتظمین سے درخواست کی جائے کہ وہ اس روز اپنے دفاتر بند رکھیں تاکہ کسی قسم کی بدمزگی نہ پیدا ہو۔

مزید : لاہور