وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر37

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر37
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر37

  

حمیدا پہلوان زندگی کی صرف یہ دو ابتدائی کشتیاں ہی ہارا۔ آئندہ برسوں میں وہ اس تیزی سے آسمان شاہ زوری پر طلوع ہوا کہ بس اس کے چرچے رہ گئے۔ حمیدا پندرہ برس کا تھا جب اس نے تین داؤ چپراس، اینٹی اور قید میں مہارت حاصل کر لی۔ اسکے یہ تین داؤ اتنے مہلک تھے کہ حریف بمشکل ہی بچتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب امام بخش اور گاماں کلووالا گونگے کے ہاتھوں ہزیمت اٹھا چکے تھے گو کہ امام بخش دوبارہ اپنے عروج کی طرف رواں ہو چکا تھا مگر بدنامی کا طوق اس کے گلے سے اترنے کو نہ تھا۔ ان حالات میں حمیدا پہلوان کے زوروں میں اضافہ کر دیا گیا تھا تاکہ ’’گونگے طوفان‘‘ کے آگے بند باندھنے کیلئے کوئی نیا جوان تیار کیا جا سکے۔ حمیدا خود بھی گونگے سے ٹکرانا چاہتا تھا۔ اس لئے وہ بڑی تندہی سے اپنے مشن میں مصروف تھا۔

1928ء کا سال تھا۔ حمیدا سولہویں برس میں قدم رکھ چکا تھا جب اسے نظر لگ گئی۔اسے ’’تا‘‘ لگ گیا۔ حکماء کا تانتا بندھ گیا مگر حمیدا تندرست نہ ہوا۔ دن بدن اس کی قوت سلب ہوتی گئی اور فولادی بدن ڈھیلا پڑ گیا۔ دواؤں کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوا مگر حمیدا روز بروز گرتا ہی چلا گیا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

امام بخش رستم ہند کی بیگم سردار بیگم کو اپنے بھائی سے بڑی محبت تھی۔ وہ بھائی کی چارپائی کی پائنتی سے لگ کر بیٹھ گئی۔اس کی مغموم نگاہیں دم توڑتے بھائی کے چہرے پر ٹکی رہتیں اور لب اس کی سلامتی کیلئے پھڑپھڑاتے رہتے۔سردار بیگم کو اپنا بھائی اپنی اولاد سے زیادہ عزیز تھا۔ ایک دن سردار بیگم دوسرے کمرے میں مصلٰی پر بیٹھی نماز ادا کرتے کرتے سو گئی۔ نیند میں اس نے بڑا بھیانک خواب دیکھا۔

وہ رات بڑی گہری اور خوفناک تھی۔سردار بیگم اداسی کی حالت میں کسی طرف کو چلتی جا رہی تھی۔ اچانک چند مکروہ چیخیں تاریکیوں کے پردے چاک کرتی ہوئی اس کی سماعت سے ٹکرائیں۔سردار بیگم خوف و دہشت سے سمٹ گئی۔ پھر یوں ہوا کہ چیخوں میں اضافہ ہوتا گیا اور سردار بیگم کا خوف بھی مٹتا گیا۔ اسے یوں لگا جیسے ان چیخوں نے اس کا راستہ جان بوجھ کر کاٹا ہے اور اسے آگے جانے سے روکا جا رہا ہے۔ سردار بیگم کا تجسس بڑھا اور وہ آگے بڑھ گئی۔ وہ جونہی چند قدم چلی اس پر رنگ برنگے پھولوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ ان پھولوں کو چننے لگی کہ پھولوں کے درمیان اسے اپنا پژمردہ بھائی حمیدا نظر آیا۔ وہ بے تابانہ آگے بڑھی۔

’’میری جان میں تیرے صدقے جاؤں‘‘۔ وہ بھائی سے چمٹ کر رونے لگی۔ ’’میری عمر تجھے لگ جائے میرے ماں جائے۔ تیری بلا میرا خون چوس لے۔ تیرا بال بھی بیکا نہ ہو میرے شیر دل بھائی۔ تو یہاں کیسے آیا ہے؟‘‘

حمیدے نے ناتوانی سے آنکھیں کھولنا چاہیں مگر پلکیں کانپ کر رہ گئیں۔ یکدم اس کی سانس اکھڑنے لگی اور حمیدا پھولوں کے درمیان سے پھسلتا ہوا آگے کی طرف بڑھنے لگا۔سردار بیگم کو یوں لگا جیسے کوئی انجانی قوت حمیدے کو کھینچ کر لے جا رہی ہے۔ وہ دیوانہ وار آگے بڑھی اور حمیدے کو ٹانگوں سے پکڑ لیا۔

’’میں تجھے نہیں جانے دوں گی میرے لعل۔ تجھے اپنی ماں کا واسطہ ہے واپس لوٹ آ۔ میرے بھائی ذرا ہمت کر‘‘۔ سردار بیگم روتی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ حمیدے کو پاؤں کی طرف سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔مگر انجانی قوت تھی کہ حمیدے کے ساتھ سردار بیگم کو بھی گھسیٹی ہوئی ساتھ لے کر آگے بڑھ رہی تھی۔ سردار بیگم نے روتے روتے اپنی قوتوں کو اکٹھا کیا اور بڑی تیزی سے حمیدے کے بازو تھام لئے۔اسی لمحہ ایک مکروہ قہقہ گونجا۔

’’تجھے اپنے بھائی سے بڑا پیار ہے تو اس کی زندگی چاہتی ہے۔بتا اس کے بدلے کیا دے سکتی ہے؟‘‘

’’میں اپنی جان دے سکتی ہوں‘‘۔سردار بیگم نے کہا۔

’’تو چلو سودا ہو گیا‘‘۔ مگر وہ آواز سنائی دی۔’’تیری جان کے بدلے حمیدے کو زندگی مل جائیگی‘‘۔

’’میں تیار ہوں۔ لو میری جان نکال لو‘‘۔

شیطانی قہقہ پھر گونجا اور بلند سے بلند تر ہونے لگا۔ سارے ماحول میں سنسناہٹ سی پھیل گئی۔ اسی دوران ایک نورانی سا ہالہ سردار بیگم کے گرد لپٹ گیا۔شیطانی قہقہ یکدم ساکت ہو گیا لیکن دوسرے ہی لمحے مہیب آوازوں کی صورت میں جنگ کا آغاز ہو گیا۔سردار بیگم ہذیانی انداز میں حمیدے کے جان کنی میں مبتلا تن سے چمٹ گئی اور بلک بلک کر رونے لگی۔ پھر روتے روتے ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔اسے جب پورا یقین ہوا کہ وہ جو دیکھ رہی تھی خواب تھا تو بھاگتی ہوئی حمیدے کے کمرے میں گئی جہاں حمیدا موت سے نبردآزما تھا۔ صبح سردار بیگم نے بزرگوں کو اپنا خواب سنایا۔ خواب سے مختلف تعبیروں کو منسوب کیا گیا۔ سردار بیگم تو دعاؤں کے وسیلے تلاش کر رہی تھی۔ اس نے اگلے ہی روز سو بکروں کی قربانی دے دی۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ حمیدا معجزاتی طور پر تندرست ہونے لگا اور چند ہی ماہ میں مکمل طور پر صحت مند ہو گیا۔

1929ء میں حمیدا سترہ برس کا ہو چکا تھا۔بیماری سے چھٹکارے کے بعد اس کا بدن ایک نئے انداز سے توانا ہوا۔اس کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ حمیدا جوں جوں کشتی میں طوالت دیتا ہے اور حریف کو گرفت میں لیتا ہے، اس کا جسم پھیلتا چلا جاتا ہے۔ یہی وصف گونگا پہلوان میں بھی تھا۔ دوران کشتی اس کا جسم پھیل جاتا تھا۔ان حالات میں اس کی چٹکی بھرنا ناممکن ہوتا تھا۔

صحت مند ہوتے ہی کلو پہلوان نے حمیدے کو امام دین ملتانیہ کے مقابل لاکھڑا کیا۔ یہ کشتی فیروزپور میں ہوئی۔امام دین ملتانیہ بھی دولا اور چخاں والا کے معیار کا تھا۔ یعنی حمیدے کے ساتھ مقابلہ سیر اور آدھ پاؤں جیسا تھا۔ یہ کشتی برابر رہی۔اس کے بعد حمیدا پہلوان کے دومقابلے لاہور میں بودی قصائی کے ساتھ ہوئے۔ حمیدا نے بودی جیسے مایہ ناز دنگلئے کو ناکوں چنے چبوائے اور بالاخر برابر رہا۔ یہ مقابلہ سرائے سلطان میں ہوا تھا۔دوسرے مقابلے میں حمیدا نے بودی کو گرا دیا مگر بودی کے حواری اس شکست کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے لہٰذا اس کشتی کو دوبارہ شروع کیا گیا جو دونوں پہلوانوں کی ایک طویل جدوجہد کے بعد برابر چھڑا دی گئی۔

حمیدا پہلوان چند قدم اور آگے بڑھا اور کپور تھلہ جا پہنچا۔ یہ علاقہ شیروں کی کچھار تھا۔ ایشر سنگھ کی دھاک کے چرچے کپور تھلہ کے اکھاڑوں سے نکل کر تمام ریاستوں میں پھیل گئے تھے۔ کلو پہلوان حمیدا کو ایک دن کپور تھلہ لے گیا اور ایشر سنگھ کو مانگ لیا۔ایشر سنگھ نے حمیدے کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے ہوش اڑا دئیے۔ پھر جب حمیدے کو ہوش آیا تو ایشر سنگھ کو ’’قید‘‘ میں جکڑ کر تھوڑی دیر تک رگیدنے کے بعد چت کر دیا۔

حمیدا پہلوان پر فتوحات کے در وا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ انہی دنوں منگل سنگھ نامی شاہ زور نے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا۔ اس نے دلی میں امرتسر کے شاہ زور نظام گونگلو پہلوان کو ذلت و رسوئی سے ہمکنار کیا اور مسلمان پہلوانوں کو للکار کر کہا۔

’’اوے مسلیو! جاؤ مکے مدینے سے کوئی جواں مرد لے کر آؤ‘‘۔ منگل سنگھ کی اس للکار سے غیرت مند مسلمانوں کا خون کھول اٹھا۔ دلی کے مسلمانوں نے رستم زماں گاماں کے ہر دل عزیز شاگرد جیجا گھیئے والا سے رابطہ کیا۔ بدقسمتی سے جیجا اپنا فن و طاقت شراب اور طوائف پر نچھاور کر چکا تھا۔ جب مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے پاس پہنچا تو جیجا راکھ میں دبی چنگاری کی طرف بھڑک اٹھا۔

’’اوے جاؤ جا کر ماجے کے جٹ کو کہہ دو، جیجا اس کی موت بن کر آ رہا ہے‘‘۔

ادھر منگل سنگھ نے جیجا کا پیغام سنا تو کھول اٹھا۔ ’’جیجا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میں نے جٹی ماں کا دودھ پیا ہے۔ دیکھوں گا کہ مسلا سورما بھی اپنی ماں کے دودھ کی لاج رکھتا ہے کہ نہیں‘‘۔

حمیدا رحمانی والا کو بھی خبر ہو گئی۔وہ بھی جیجا کے ساتھ دہلی جا پہنچا۔

منگل سنگھ کی بڑھک اور جیجا کے ردعمل کی بازگشت ساری ریاستوں میں سنی گئی۔ شائقین کشتی جوق در جوق دہلی کا رخ کرنے لگے جہاں ان دونوں کا مقابلہ ہونا تھا۔ کشتی کے روز دہلی میں مسلم ہندو فسادات کا خطرہ بڑھ گیا تھا جس کے پیش نظر انگریز سرکار نے پولیس کی ایک بھاری تعداد کو دنگل کی جگہ کے اردگرد پھیلا دیا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں