عدالتوں سے بدتمیزی کرنے والے وکلاءکے خلاف پروفیشنل اور سینئروکلاءمیدان میں آ گئے،رائل پام میں اجلاس ،عدلیہ کے تحفظ کے لئے اہم فیصلے

عدالتوں سے بدتمیزی کرنے والے وکلاءکے خلاف پروفیشنل اور سینئروکلاءمیدان میں ...
عدالتوں سے بدتمیزی کرنے والے وکلاءکے خلاف پروفیشنل اور سینئروکلاءمیدان میں آ گئے،رائل پام میں اجلاس ،عدلیہ کے تحفظ کے لئے اہم فیصلے

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)ججوں کو گالیاں نکالنے اور عدالتوں کو تالے لگانے والے وکلاءکے خلاف غیر سیاسی ،پروفیشنل اور سینئروکلاءمیدان میں آ گئے ، رائل پام کلب میں بیرسٹر سلمان اکرم راجہ ،فیصل نقوی ، شاہ زیب مسعود ، منصور عثمان اعوان، میاں علی اشفاق سمیت ملک کے 500سے زائدنامور وکلاءنے لاہور ہائیکورٹ کے جج کے ساتھ ملتان میں بدتمیزی اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت میں چند وکلاءکی ہنگامہ آرائی جیسے واقعات کا بامعنی حل نکالنے کے لئے غیررسمی اجلاس منعقد کیا۔ان وکلاءکاکہنا ہے کہ اگر بدتمیز وکلاءکا راستہ نہ روکا تو ہائیکورٹس کے بعد یہ سپریم کورٹ میں بھی ایسے وکلاءہنگامی آرائی کریں گے۔

مسلم لیگ(ن) کے مخالف میڈیا ہاﺅسز پر حملے نہ کریں ، کردار کشی ہماری روایت نہیں، مریم نوازکا کارکنوں کے نام پیغام

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل نقوی نے کہا کہ کالے کوٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ججوں کے ساتھ بدتمیزی کی جائے، اب ایسے وکلاءکو روکنا ہوگا جو عدالتوں کو تالے لگاتے ہیں، اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ بار ایسوسی ایشن کی سیاست میں پڑھے لکھے اور پروفیشنل وکلاءبھی بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے، قانون دان شاہ زیب مسعود نے کہا کہ اگر اب پڑھے لکھے وکلاءسامنے نہ آئے تو پھر کل نظام عدل بالکل ہی تباہ ہو جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور منصور عثمان اعوان نے کہا کہ اگر وکلاءنے ہی عدلیہ اور ججوں کی عزت کرنا چھوڑ دی تو پھر کل سرکاری محکمے بھی عدالتی احکامات نہیں مانیں گے اور کالے کوٹ والوں کو پھر وکالت نہیں بلکہ کوئی اور ہی کام کرنا پڑے گا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ملتان بنچ میں فاضل جج سے ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلاءکے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر 11اگست کو تمام پروفیشنل وکلاءچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت میں پہنچیں گے تاکہ ہنگامی آرائی کرنے والے کو پرامن طریقے سے جواب دیا جا سکے۔ وکلاءکی سیاست میں یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ججوں اور عدلیہ کے وقار کو بچانے کے لئے پروفیشنل وکلاءاس طرح کھل کرمیدان میں آئے ہیں ،اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ آئندہ ایسے وکلاءکی مذمت کی جائے گی جوججوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور عدالتوں کو تالے لگاتے ہیں۔

مزید : لاہور