20کروڑ عوام میں سے شاید ہی کوئی 62,63پر پورا اترے،قانون میں ترمیم کی ضرورت ،نواز شریف کی ریلی احتجاج نہیں ان کا استقبال ہے:وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

20کروڑ عوام میں سے شاید ہی کوئی 62,63پر پورا اترے،قانون میں ترمیم کی ضرورت ،نواز ...
20کروڑ عوام میں سے شاید ہی کوئی 62,63پر پورا اترے،قانون میں ترمیم کی ضرورت ،نواز شریف کی ریلی احتجاج نہیں ان کا استقبال ہے:وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ20کروڑ عوام میں سے شاید ہی کوئی آرٹیکل  باسٹھ ،تریسٹھ  پر پورا اترے ، اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے ، نواز شریف کی ریلی احتجاج نہیں ان کا استقبال ہے،سابق وزیراعظم کا اقامہ ختم ہو چکا تھا، بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر انہیں نا اہل کیا گیا، ڈکٹیٹر مشرف نے سیاسی جماعتوں کو توڑنے کے لئے نیب قانون بنایا،  نیب قانون انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے،نیب قوانین میں بھی  ترمیم کی ضرورت ہے، ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، نادرا نمبر این ٹی این بن جائے تو ٹیکس نظام بہتر ہو سکتا ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’’سما نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’لائیو وِد ندیم ملک ‘‘ میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ٹیکس نہ دینا جرم ہے،  ٹیکس نہ دینے سے ریاست کمزور ہوتی ہے،  ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، آف شور کمپنی بنانا جرم نہیں ہے، آف شور کمپنی کے اثاثے بھی نہیں ہوتے، میرا بیرون ملک کوئی اثاثہ یا آف شور کمپنی نہیں ہے، حکومت نے قانون بنایا ہے کہ اب آف شور کمپنیاں اثاثوں میں ڈکلیئر کرنا ہوں گی، آف شور کمپنیاں رکھنے والوں کو اب کمپنیوں پر ٹیکس بھی دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ٹیکس نہ دیں تو دوسرے بھی نہیں دیں گے،  نادرا نمبر کو این ٹی این نمبر بنا دیا جائے تو معاملہ ٹھیک ہو جائے گا ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی ریلی احتجاج نہیں نواز شریف کا استقبال ہے،  عوام کی خواہش پر نواز شریف بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62,63میں بہت ابہام موجود ہے، اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،62,63میں ترمیم ہونی چایئے، اس کا نفاذ نہیں ہو سکتا،  پاکستان کے 20کروڑ عوام میں سے شاید  ہی کوئی آرٹیکل 62,63 پر پورا  اترے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا اقامہ ختم ہو چکا ہے ، ان کا اقامہ وزیراعظم بننے سے پہلے تک تھا، جب وہ وزیراعظم نہیں تھے تو انہوں نے سفری سہولت کے لئے دبئی کا اقامہ لیا ، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر سابق وزیراعظم نا اہل ہوئے،مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی کہہ رہی ہیں کہ یہ زیادتی ہوئی ہے، یہ ٹیکنیکل غلطی تھی اس پر الگ سے پٹیشن دائر ہو سکتی تھی،  الگ کمیشن میں قانون موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے پانامہ کیس کا فیصلہ قبول نہیں کیا،  فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کریں گے اور سپریم کورٹ سے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار میری کابینہ کا حصہ بنتے ، چوہدری نثار نے مجھے کہا کہ میری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں، بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ میاں برادران میں پھوٹ پڑ جائے ، لوگوں کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی، کسی اور کو پارٹی صدر بنانا صرف ’’خانہ پری‘‘  ہو گی، نواز شریف شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے ہمیں اس سے بڑی کابینہ کی ضرورت تھی، کوئی وزیر 2ڈویژن نہیں چلا سکتا،  نواز شریف نے مجھے جاتے ہوئے کہا میں فل ٹائم کے لئے وزیراعظم ہوں۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ اضافہ ہوتا رہے گا،  اگر ملک ترقی کرے گا تو سب کی ترقی ہو گی، سول ملٹری تعلقات میں تناؤ نہیں ہے، سب نے مل کر چلنا ہے تاکہ ملک ترقی کرے، آرمی چیف نے بالکل ٹھیک کہا کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیئے، قانون سب کے لئے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا تجربہ زیادہ  اور ان کو بڑی کابینہ کی ضرورت نہیں تھی، میرا تجربہ کم ہے اس لئے بڑی کابینہ کی ضرورت پڑی، میرا اولین مقصد قانون کی حکمرانی ہے، کراچی آپریشن میں امن کو قائم کرنے کے لئے مزید کوشش کی ضرورت ہے، حکومت نے کراچی میں امن بحال کیا، دہشتگردی کا مقابلہ مل کر کرنے کی ضرورت ہے۔ 

مزید : قومی /اہم خبریں