چیف جسٹس نے خلقِ خدا کے جذبات کو زبان دے دی

چیف جسٹس نے خلقِ خدا کے جذبات کو زبان دے دی

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے پتہ نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے الیکشن کے روز میں نے چیف الیکشن کمشنر کو تین بار فون کیا جواب نہیں ملا، میرے خیال میں شاید وہ اس دن سو رہے تھے، آر ٹی ایس بیٹھ گیا الیکشن اچھا خاصا چل رہا تھا الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی، جب ہمارے پاس کیس آئیں گے تو معلوم نہیں کیا کریں گے۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس ایک زیر سماعت مقدمے میں دیئے۔

الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات تو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی اُٹھنا شروع ہوگئے تھے جب پولنگ ایجنٹوں کی جانب سے یہ شکایات سامنے آنا شروع ہوئیں کہ انہیں گنتی کے وقت باہر نکال دیا گیا، یہ شکایت بھی عام ہوئی کہ موقع پر گنتی کرکے پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45بھی نہیں دیا گیا جس پراس پولنگ سٹیشن کی گنتی کے نتائج درج ہوتے ہیں، بیلٹ پیپروں کے تھیلے آر اوز کے دفاتر تک پہنچانے کے لئے رات دس بجے کا وقت مقرر تھا، اگرچہ بعض پولنگ سٹیشنوں پر گنتی کا کام اس سے پہلے ہی مکمل ہوگیا تھا اور وہ آسانی کے ساتھ مقررہ وقت پر آر اوز کے دفتروں میں پہنچ سکتے تھے لیکن یہ رات دس بجے کی بجائے اگلے دن دس بجے وہاں پہنچے، اس دوران ووٹوں والے تھیلے انہوں نے کہاں رکھے، خود کہاں رہے، گھروں کو لے کر چلے گئے اس طرح کے سوالات اس لئے اُٹھے کہ جب آر اوز نے ان سے رابطے کی کوشش کی تو اُن کا فون پر رابطہ نہ ہوسکا، پھر معاملہ اس وقت اور بھی خراب ہوگیا جب آر ٹی ایس کے ذریعے نتائج بھیجنے کا سلسلہ اچانک بند ہوگیا کہا جاتا ہے کہ اس وقت تک پچاس فیصد نتائج آچکے تھے لیکن یہ سلسلہ رُکا تو شکوک و شبہات اور وساوس بڑھنے لگے یہاں تک کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ آر ٹی ایس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور اب مینوئل نتائج آئیں گے لیکن جنہوں نے مینوئل نتائج دینے تھے وہ اگلے دن دس بجے دفاتر پہنچے۔

اب جناب چیف جسٹس نے یہ انکشاف کرکے حیران کردیا ہے کہ خود انہوں نے تین بار چیف الیکشن کمشنر سے رابطے کی کوشش کی لیکن جواب نہیں ملا، پھر انہوں نے خود یہ نتیجہ نکال لیا کہ شاید وہ سو گئے تھے، اُن کے اس انکشاف نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اُٹھادیئے ہیں۔ اپوزیشن تو چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے اور متحدہ اپوزیشن نے احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے8۔ اگست کو بھی اسلام آباد میں کمیشن کے دفتر کے باہر بھرپوراحتجاج کیا گیا، اس سے پہلے کئی دوسرے شہروں میں بھی احتجاج ہوا ایسے میں جب چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس کے ذریعے دراصل قوم کے جذبات ہی کو ایک توانا آواز فراہم کی ہے اور بجا طور پر استفسار کیا ہے پتہ نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، انہوں نے یہ برمحل سوال بھی اٹھایا ہے کہ اتنے پیسے لگا کر جو سسٹم بنایا گیا تھا وہ انتخابات کی رات بیٹھ گیا، سسٹم کیوں بیٹھا اس پر الیکشن کمیشن نے کابینہ ڈویژن کو تحقیقات کرنے کے لئے کہا ہے جس نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن خود اس معاملے کی تحقیقات کیوں نہیں کرتا کہ اس نے جو سسٹم بنوایا تھا وہ ایکا ایکی کیوں جواب دے گیا۔ سسٹم بنانے والے اس ملک کے اندر ہی موجود ہیں، نادرا نے یہ سسٹم بنایا ہے اس کی انکوائری میں تو کوئی مشکل نہیں آنی چاہیے لیکن نادرا کا تو موقف ہے کہ جب سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ٹی وی پر سسٹم کی خرابی کی اطلاع دی سسٹم تو اس وقت بھی چل رہا تھا۔ دو اداروں کے موقف کا تضاد ہی اس سارے معاملے کو پراسرار بنا دیتا ہے۔ اس لئے ہم ان کالموں میں یہ تجویز پیش کر چکے ہیں کہ سینیٹ کے بعض سینئر ارکان کا یہ مطالبہ مان لیا جائے اور پورے ایوان کی کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جائے لیکن اس جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔اب جبکہ جناب چیف جسٹس نے بھی الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کر دیا تو یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس ضمن خود ہی کوئی حکم جاری کر دیں اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنوا کر معاملے کی تہہ تک پہنچیں ویسے تو ووٹوں کی گنتی میں فارم 45نہ ملنے کی شکایات جب اعلیٰ عدالتوں میں پہنچیں گی تو پھر بالآخر معاملہ سپریم کورٹ میں ہی جائیگا اس وقت تو اس سارے معاملے کا جائزہ لینا ضروری ہو جائے گا تاہم اگر آر ٹی ایس کی خرابی اور ریزلٹ کے تھیلے آر اوز کے دفتر میں تاخیر سے پہنچنے کی تحقیقات ہو جائے تو کئی سوالات کا جواب مل جائے گا۔

اپوزیشن تو الیکشن کی ساکھ پر مسلسل سوالات اٹھا رہی ہے۔ انتخاب لڑنے والے امیدوار بھی اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں کم از کم دس غیرمتعلقہ مقامات سے مہر لگے بیلٹ پیپر بھی ملے ہیں اس طرح کی شکایات کا جواب تو الیکشن کمیشن کے ترجمان ترکی بہ ترکی دے ہی رہے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فارم 45کے ملنے یا نہ ملنے سے دھاندلی کا کوئی تعلق ہی نہین، وہ درست ہی کہہ رہے ہوں گے لیکن اس بات کا جواب تو دیں کہ یہ فارم آخر دیا کیوں نہیں گیا اور اس میں کیا مصلحت تھی۔ جواب نہ ملنے کی وجہ سے لوگ اپنے ہی قیاس کے گھوڑے دوڑانے لگتے ہیں۔

چیف الیکشن کمیشن سے استعفے کا جو مطالبہ اپوزیشن جماعتیں کررہی ہیں اس کا جواب تو کمیشن کی جانب سے یہ دیا جاتا ہے کہ اس نے صاف شفاف انتخابات کرائے ہیں، کسی کو شکایت نہیں فارم 45بھی ان ایجنٹوں کو نہیں ملے جو اپنے امیدوار کو ہارتا دیکھ کر خود پولنگ سٹیشن سے کھسک گئے تھے، ویسے بھی اس فارم کا دھاندلی سے کیا تعلق ہے، اس لئے کمیشن کے چیئرمین اور دوسرے ارکان کیوں استعفا دیں، لیکن جناب چیف جسٹس نے کمیشن اور چیف الیکشن کمشنز کے بارے میں جو ریمارکس دے دیئے ہیں اس کے بعد تو کمیشن کے ارکان کو سنجیدگی سے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہئے کہ اگر الیکشن اچھا خاصا چل رہا تھا تو سسٹم کا بھٹہ کیوں بیٹھ گیا، اب الیکشن کمیشن کو گومگو کی کیفیت سے نکل کر حقائق کا سامنا کرنا چاہئے اور جناب چیف جسٹس کے اُٹھائے گئے نکات کا تسلی بخش جواب دینا چاہئے۔ عدالت میں توجب یہ معاملہ جائیگا سو جائیگا، لیکن خلقِ خدا کے جذبات کو چیف جسٹس نے جو زبان عطا کردی ہے اس کا جواب بھی الیکشن کمیشن کو سوچ لینا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ