چیئرمین سینٹ کا مستقبل؟

چیئرمین سینٹ کا مستقبل؟
چیئرمین سینٹ کا مستقبل؟

  

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی خون کا رشتہ ہوتا ہے۔ یہاں تو تمام تر تعلق مفاد کا ہوتا ہے، اسی لئے تو کہتے ہیں: ’’آج کے دوست کل کے دشمن اور آج کے حریف کل کے حلیف ہوسکتے ہیں‘‘۔ اس کی بڑی مثالیں تو حالیہ عام انتخابات اور اس کے بعد اقتدار کے کھیل میں سامنے آرہی ہیں، بتانے لکھنے کی ضرورت نہیں سب کچھ سامنے ہے، ہمیں تو آج بات کرنا ہے، چیئرمین سینٹ کے عہدے کی، ان دنوں بلوچستان کے سردار صادق سنجرانی اس عہدے پر متمکن ہیں،ان کا انتخاب بالکل ایک اتفاق رائے کی بنا پر ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے چیئرمین کے لئے ان کی باقاعدہ حمائت کی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے مقابلے میں صادق سنجرانی کو چیئرمین منتخب کرلیا گیا، عہدہ سنبھالنے سے اب تک انہوں نے بخوبی یہ فرض ادا کیا اور عمومی طور پر ان سے کسی کو کوئی شکائت بھی نہیں،یوں بھی ہماری ان سے ایک ہی ملاقات ہوئی، اس میں انہوں نے ہمارے سمیت لاہور پریس کلب کے تمام اراکین اور عہدیداروں کو بھی متاثر کیا، کلب کے وفد نے اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی اور اس کے بعد انہوں نے اصرار کرکے اگلے روز دوپہر کے کھانے پر مدعو کر لیا تھا، ان کے ساتھ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ بہت سمجھدار، سنجیدہ اور معاملہ فہم ہیں، ان کو ملک اور ملک کے معروضی حالات کا بخوبی ادراک تھا۔

انہوں نے ہم صحافیوں کے ساتھ بڑی بے تکلفی سے مسائل پربات چیت کی اور اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا، ان کے اندر ایک خالص پاکستانی کا جذبہ نظر آیا اور انہوں نے مسائل کے حل کے لئے قومی اتفاق رائے ہی سے اتفاق کیا، بلوچستان کے حوالے سے تمام امور بھی ان کی نگاہ میں تھے لیکن اندازجذباتی نہیں فہم و فراست کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کی ذمہ داری مجموعی طور پر ہر ایک پر عائد ہوتی ہے، اس میں کچھ حصہ خود عوام کا بھی ہے۔یہ سب یوں یاد آیاد کہ ملک میں انتخابی عمل کے لئے نگران حکومتیں بنیں اور 25۔جولائی کو عام انتخابات بھی ہوگئے، اس میں تحریک انصاف کو نسبتاً زیادہ نشستیں ملیں اور سابقہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) دوسرے اور پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔نتائج کے ساتھ ہی اقتدار کا کھیل بھی شروع ہوگیا اور اپنے اپنے دعوؤں کے ساتھ گنتی بھی پوری کرنا شروع کردی گئی، بظاہر تحریک انصاف کی حکومت بنتی نظر آرہی ہے، اس اثناء میں خبر یاخبریں تو اسی کھیل کے بارے میں تھیں لیکن یار لوگوں نے سینٹ کو بھی گھسیٹ لیا، خبر نگار حضرات نے سلسلہ سینٹ کی پارٹی پوزیشن سے شروع کیا کہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود سینٹ میں دو تہائی اکثریت والی حزب اختلاف سے سامنا ہوگا کہ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، ایم، ایم، اے، پختونخوا، عوامی نیشنل پارٹی اور بی، این، پی (بزنجو) بھی متحدہ حزب اختلاف میں شامل ہوگئی ہیں۔ بات یہیں تک محدود نہ رہی، یار لوگوں نے یہ بات شروع کردی کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹا کر راجہ ظفر الحق کو چیئرمین بنایا جائے گا۔

خبر والوں کو دور کی بھی سوجھتی رہی، اس سے پہلے یہ کہا گیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے باعث سینٹ میں بھی تبدیلی ہوگی قائد ایوان، قائد حزب اختلاف بن جائیں گے یہاں بھی محبت اور مخاصمت ہی نظر آئی کہ راجہ ظفر الحق قائد ایوان سے قائد حزب اختلاف ہوں گے کہ سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہے، یوں مادام شیری رحمن کا کمبل چرانے کا اہتمام کرلیا گیا، یہ دونوں جماعتیں(مسلم لیگ ن+پیپلز پارٹی) قومی سیاست میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں اور انتخابی دھاندلی (مبینہ) کے خلاف تحریک چلانے پر آمادہ ہیں، کسی نے کہا سینٹ کے حوالے سے ایسی خبروں کا مقصد ان دونوں ماضی کی حریف جماعتوں کے درمیان پرانی رقابت کو اجاگر کرکے دوری پیدا کرنے کی کوشش ہے اور یہ بھی ’’غیبی‘‘ قوت ہی کا کام ہے۔ جب مختلف سینیٹر اور دونوں بڑی جماعتوں کے بعض اہم راہنماؤں سے دریافت کیا تو انہوں نے حیرت ظاہر کی اور بتایا کہ اس بارے میں سوچا تک نہیں گیا کہ ابھی تو بڑا مسئلہ انتخابی دھاندلی، حکومت سازی اور تحریک جیسے مسائل سامنے ہیں، ایسے میں سینٹ چیئرمین کے حوالے سے ایسا سوچنا بعیداز قیاس ہے، یوں بھی فوری طور پر شیری رحمان کو ہٹا کر راجہ ظفر الحق کو لیڈر آف اپوزیشن بنانے کے بارے میں غور کیسے کیا جاسکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک معتبر صاحب نے کہا کہ ایسی خبروں اور اطلاعات کا مقصد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی راہیں پھر سے جدا کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں حزب اقتدار کو بہت زیادہ ٹف ٹائم نہ ملے، ہمارے خیال میں بھی یہ امر حکمت عملی کے خلاف ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اپنے اپنے پروگرام ہیں اس کے باوجود وہ ’’دھاندلی‘‘ کے ایک لفظ پر ایک پلیٹ فارم پر آگئی ہیں، منطق کے مطابق سینٹ کے چیئرمین اور قائد حزب اختلاف کے معاملے کو چھیڑنا کوئی عقل مندی تو نہیں، اس لئے یہ بھی خواہشات پر مبنی مہم ہی نظر آئی ہے۔یوں بھی جہاں تک موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کا تعلق ہے تو وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قیام اور قائم کرنے والوں کے ساتھی تھے اور انہی کے تعاون سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے متفقہ امیدوار بنے اور کامیاب ہوئے تھے، اگرچہ اب بی، اے، پی نے قومی اقتدار کے لئے تحریک انصاف کی حمائت کردی اور بلوچستان میں دونوں جماعتیں مل کرمخلوط حکومت بنا رہی ہیں، ایسے میں موجودہ چیئرمین کسی جماعت کے نمائندہ نہیں رہے، یوں وہ ایک آزاد رکن ہیں، یہ عہدہ بھی اس امر کا تقاضہ کرتا ہے، ہمارے خیال میں ایسے شخص کو چھیڑنا مناسب نہیں جو سینٹ کو بخوبی چلا رہا ہے اور غیر جانبدار ہے، ان سے حزب اختلاف اور حزب اقتدار والے بیک وقت مستفید ہوسکتے ہیں، دوسری صورت میں محاذ آرائی بہت شدت اختیار کرلے گی، بہتر عمل سیاسی جماعتوں اور راہنماؤں کا اپنا فعل ہوگا، اس لئے اگر موجودہ چیئرمین پر اعتماد رکھتے ہوئے ان کو رہنے دیا جائے تو نتائج بہتر ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم