اسلامی نظریاتی کونسل کا ترجمان علمی جریدہ(2)

اسلامی نظریاتی کونسل کا ترجمان علمی جریدہ(2)
 اسلامی نظریاتی کونسل کا ترجمان علمی جریدہ(2)

  

اس طویل اقتباس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ علامہ اسلامی قوانین کی تاسیس کا حق پارلیمنٹ کے ارکان کو تفویض کرنے کے قائل ہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ حق کسی طور موجودہ دور میں تشکیل پانے والی پارلیمنٹ کے ارکان کو نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ معروضی حالات میں یہ بات واضح ہے کہ اسلامی قانون سازی کی بنیاد کتاب و سنت میں بیان کردہ اصول و ضوابط ہیں۔ ان قوانین کی تخریج و تدوین کے لئے اسلامی کتاب و سنت کا علمی اقتصاد اور کتاب و سنت کا علمی عمق بنیادی شرط ہے۔ جس سے موجودہ پارلیمنٹ کے اراکین عموماً نابلد ہی ہوتے ہیں۔ موجودہ طریق سے چنے گئے اراکین پارلیمنٹ اس شرط پر پورے نہیں اترتے کیونکہ موجودہ دور میں ارکان پارلیمنٹ کا چناؤ دھونس دھاندلی اور پروپیگنڈے کا رہین منت ہوتا ہے۔ موجودہ طریق انتخاب سے علمی افق اور علمی عمق پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ایسے افراد کو اسلامی قانون سازی کا حق دینا بندر کے ہاتھ میں آلات حجامت پکڑانے کے مترادف ہو گا۔ جس سے بالوں کی تہذیب تو ممکن نہیں البتہ چہرے پر زخموں کے نشان ضرور پیدا ہو جائیں گے۔ اس لئے یہ کوشش خواہ کتنے ہی بڑے زیرک آدمی کی ہو وہ نتائج کے اعتبار سے غلط ہی ہو گی۔اس سلسلے میں صاحب مضمون نے علامہ اقبال کے خطبات میں سے چھٹے خطبے سے استفادہ بھی کیا ہے اور اس خطبے کا عنوان اسلام میں اصولِ حرکت دیا ہے اور لکھا ہے کہ:وہ لکھتے ہیں کہ ’’اس فکری تعمیر نو کی ادارہ جاتی شکل دینے کے لئے ایک تحریک چلی جس نے بہت تیزی سے تحریک پاکستان کی شکل اختیار کر لی‘‘۔

تحریک پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی قبولیت اور فعالیت کا مرکزی نقطہ کلمہ طیبہ تھا۔ یعنی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ تھا۔یہ اس نعرہ کی کشش ہی تھی جس کی بازگشت مشرقی پاکستان میں چٹاگانگ و سلہٹ اور مغربی پاکستان میں کراچی اور لاہور تک سنی گئی اور بالآخر پاکستان کے نام سے ایک نئی اسلامی سلطنت دنیا کے نقشہ پر معرض وجود میں آگئی۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اپنا مستقل خطہ مل گیا۔ صاحب مضمون نے اس گراں قدر تحریر میں علامہ اقبال کے نظریہ کو شعری اور نثری انداز میں لفظی پیرہن عطا کیا ہے۔ جو مسلمانوں کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا کہ:’’ میرا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جو رس پردڈینس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی اہدیت کو ثابت کرے گا وہی اسلام کا مجدد ہو گا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہوگا‘‘۔اس ضمن میں صاحب مضمون نے ان اقدامات کا ذکر بھی کیا ہے جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کئے۔ جو اس بات کے غماز ہیں کہ بانی پاکستان اس نوزائدہ مملکت میں کس طرح اسلامی افکار و نظریات کی ترویج کرنا چاہتے تھے۔ ’’اس پورے مضمون سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قائد اعظم کی قیادت اور راہ نمائی میں ان کے رفقاء کار نے فوری طور پر ایسے عملی اقدام اٹھانے کی طرف پیش رفت شروع کر دی تھی جو قیام پاکستان کی بنیاد تھے۔ جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام بھی شامل ہے۔ جو اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان میں اسلامی قوانین کی تنفیذ اور تشکیل کے لئے کوشاں ہے۔ قوی امید ہے کہ یہ کونسل پاکستان میں نفاذ اسلام کی کوششوں میں بہت جلد کامیاب ہو گی۔

اجتہاد کے دوسرے اہم مضمون کا عنوان ’’اسلام اور مغربی تصور علم کا تصادم و توافق ‘‘ ہے۔ اس مضمون کے لکھنے والے ساجد شہباز خان ہیں جو شعبہ علوم المذاہب یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور کے چیئرمین ہیں۔ اجتہاد میں شائع ہونے والے جملہ مضامین جامع اور جاذب قلب و نظر ہیں جو ذہن کو جلا بھی دیتے ہیں اور قلب و نظر کی مزید علمی تحریک کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اجتہاد کے چوتھے مضمون کا عنوان ’’اجتماعی اجتہاد اور دورِ حاضر میں اس کی ضرورت ‘‘ ہے۔ اس کے لکھنے والے مفتی یاسر احمد زیرک ہیں۔ آپ دارالافتاء جامعہ اسلامیہ راولپنڈی کے صدر ہیں۔ صاحب مضمون نے رسالت مآب ؐ کے زمانے میں باہم مشاورت سے فیصلے کرنے کی مثالیں دی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ رسولؐ اللہ خاتم النبیین ہونے کے باوجود اپنے صحابہ سے مشورہ کرتے تھے اور پھر کسی حتمی نتیجہ پر پہنچتے تھے۔ آپ کا یہ عمل قرآنی حکم وشاورہم فی الامر کی عملی توجیہ تھی۔ صاحب مضمون نے آپؐ کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں اجتماعی اجتہاد کی بعض مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ صاحب مضمون نے آخر میں اجتماعی اجتہاد اور دورِ حاضر میں اس کی ضرورت کا عنوان قائم کیا ہے اور اکابر کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جدید پیش آمدہ مسائل میں قیاس اعتبار ہی کی ایک قسم ہے۔ لہٰذا قیاس کا استعمال واجب ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیاس ہر دور کی ضرورت ہے، جس سے درپیش مسائل کے حل میں مدد لی جاسکتی ہے۔ اس بارے میں حضرت عمرؓ کے ایک خط کا حوالہ بھی دیا ہے جو آپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو تحریر فرمایا تھا۔ چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے حضرت ابن مسعودؓ کا بڑا مضبوط قول نقل کیا۔ آپ نے لکھا:’’اب ہمارے لئے راہ عمل یہی ہے کہ ہم کتاب اللہ کو راہ نما بنائیں۔ اگر کوئی رہنمائی کتاب اللہ میں نہیں ہے تو جناب رسولؐ اللہ کے فیصلوں کی طرف متوجہ ہوں اور تیسرے عزیز صالحین کے فیصلوں سے رہنمائی حاصل کریں۔ یہاں بھی مشکل حل نہ ہو تو پھر راہ اجتہاد ہی کی ہے‘‘ ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

مضمون کے آخری حصہ میں صاحب مضمون نے عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے ایسے اداروں کا ذکر کیا ہے جو موجودہ حالات کے حوالے سے مختلف اسلامی ممالک میں قائم ہوئے۔ ان اداروں میں مجمع البحوث الاسلامیہ قاھرہ کا تذکرہ ہے جو مصر میں قائم ہوا۔ یہ جامعہ ازہر کا ایک شعبہ ہے جس کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ اسلام پر مستشرقین اور عیسائیوں کی طرف سے وارد ہونے والے اعتراضات کا مسکت جواب تلاش کرے۔ تاکہ عام مسلمانوں اعتقادی تنزل کا شکار نہ ہوں۔ یہ ادارہ 1961ء میں قائم ہوا۔ اس ادارے کا سربراہ بلحاظ عہدہ شیخ الازہر ہوتا ہے۔ دیگر ادارے جو مختلف ممالک میں قائم ہوئے وہ حسب ذیل ہیں۔ المجمع الفقہ الاسلامی مکہ مکرمہ۔ یہ ادارہ 1393ھ میں قائم ہوا۔ المجمع الفقہ الاسلامی جدہ۔ یہ ادارہ 1981ء میں او آئی سی کے تیسرے اجلاس میں قائم ہوا۔ اس ادارے کے سربراہ پاکستان کے عالم مفتی محمد تقی عثمانی ہیں۔ المجمع الفقہ الاسلامی انڈیا۔ یہ ادارہ ہندوستان کے شہر دہلی میں 1988ء میں قائم ہوا۔ اس کے بانی قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان۔ یہ ادارہ 1962ء کے آئین کے مطابق قائم ہوا۔ یہ ادارہ پاکستان کے قوانین کو اسلامی روح کے مطابق تشکیل دینے میں حکومت کو مشورے فراہم کرتا ہے۔

پانچواں مضمون ’’مسانید سیرت اور استحکام پاکستان‘‘ کے عنوان سے ہے جو پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل صاحب کے قلم سے ہے اور آٹھ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ ڈاکٹر محمد طفیل صاحب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ صاحب مطالعہ اور فاضل انسان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہوا لیکن لا الہ الا اللہ کی تکمیل محمد رسول اللہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ 1974ء میں بین الاقوامی سیرت کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر یہ بات کہی گئی کہ پاکستان کی تمام جامعات میں مسند سیرت قائم کی جائے تاکہ سیرت پر تحقیق کا کام کیا جاسکے۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ تیسری جماعت سے لے کر بی اے لیول تک سیرت کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ اس اقدام سے سیرت کا مطالعہ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا اور سیرت کے متنوع پہلو وں پر تحقیقی کام کو فروغ ملا۔ رسالے کے آخری مضمون کا عنوان ’’عدت کی مدت جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں‘‘ ہے۔ یہ مضمون ڈاکٹر انعام اللہ صاحب کا لکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف چیف ریسرچ آفیسر_ ڈی جی ریسرچ ہیں۔ یہ ایک تحقیقی مضمون ہے جو مضمون نگار نے محترم مبشر میر جائنٹ ایڈیٹر ڈیلی پاکستان کراچی کے ایک مراسلہ کے جواب میں تحریر کیا۔ ان کے نزدیک جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں عدت کے قانون (مدت) کو از سر نو تشکیل دینا چائیے کیونکہ آج کل آسانی کے ساتھ عورت کے حاملہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ نیز یورین ٹیسٹ و الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے اس بات کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو اس موضوع پر تحقیقی مطالعے کے لئے ایک مطالعاتی ورکشاپ کا انعقاد کرنا چاہئے تاکہ معاشرے میں خواتین کو سماجی طور پر ترقی دی جائے اور خواتین کو وہ اختیار سونپے جائیں جن کا حق عورت ہونے کے ناطے صرف انہی کو حاصل ہے۔ اس لئے مضمون نگار موصوف ڈاکٹر انعام الحق صاحب نے ایک مبسوط مضمون بھی تحریر کیا ہے جو رسالہ اجتہاد کے سات آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔

ہماری دانست میں یہی مضمون رسالہ اجتہاد کے اہداف کی اصل نشاندہی کرتا ہے۔ جس سے جدید مسائل کو جدید طبی معلومات کی روشنی میں حل کیا جاسکتا ہے،لیکن اس معاملے میں ایک شدید احتیاط کا خیال رکھنا بھی از بس ضروری ہے کہ فیصلہ کرنے والے لوگوں میں علمی، سائنسی اور دینی علوم کے ماہر مرد و خواتین کو پوری نمائندگی دی جائے تاکہ معاملے کی اصل حقیقت اور اس کی تہہ تک پہنچ کر صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ بہرحال جدید مسائل اور جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کی تلاش اور فیصلے ضروری ہیں۔ مضمون نگار نے قرآنی نصوص کے حوالے میں پانچ نکات تحریر کئے ہیں جو اہل علم کو دعوت بحث و تمحیص کی ترغیب دیتے ہیں۔جتہاد کے آخر میں چند دستاویزات اور خصوصی رپورٹس کا تذکرہ ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے حکومت کو ارسال کی گئیں۔ بہرحال اہل علم اور اہل فہم حضرات کے لئے اجتہاد کا مطالعہ اور اس کے غوامص پر غورو فکر انتہائی ضروری ہے جو مزید فکری جہات کی تلاش کے لئے ضروری ہے۔ (ختم شد)

مزید : رائے /کالم