روائتی طرزِ حکمرانی کے دن لد گئے

روائتی طرزِ حکمرانی کے دن لد گئے
 روائتی طرزِ حکمرانی کے دن لد گئے

  

اقتدار میں آنے کے بعد ایک وقت ایسا آئے گا، جب عمران خان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے ہر قیمت پر اپنا اقتدار بچانا ہے یا اپنے اُس نظریے کو قائم رکھنا ہے، جس کی بنیاد پر عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم بنے ہیں۔ یہ مَیں اس لئے کہہ رہا ہوں، مرکز میں عمران خان کو سادہ سی اکثریت کے ساتھ حکومت ملے گی، جبکہ اُس میں بھی ایم کیو ایم، بی این پی اور کسی حد تک مسلم لیگ (ق) بات بات پر ناراض ہو جانے کا بڑا تلخ ریکارڈ رکھتی ہیں، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن متحد ہو کر اُن کا سامنا کرنے کے لئے کمر کس چکی ہے۔ ظاہر ہے اُس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا، کہیں نہ کہیں ایسا ڈیڈلاک ضرور آجائے گا، جب کپتان کو مصلحت یا پختہ ارادے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ جس دن ایسا ہوا وہ کپتان کے زوال کا آغاز ثابت ہوگا، اس لئے عمران خان کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ جس ایجنڈے کو لے کر 22سال تک جدوجہد کرتے رہے ہیں، اُس پر قائم رہیں۔ انہوں نے اب تک اسلام آباد اور پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں جو خطاب کئے ہیں، اُن کا لب لباب بھی یہی ہے کہ اگر اقتدار کو پھولوں کی سیج سمجھا گیا تو ہمارا حشر بھی وہی ہوگا، جو عوام نے 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا کیا ہے۔

صورت حال کس قدر نازک ہے، اس کا اندازہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اقتدار ملنے سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔ ایک ذرا بنی گالا سے میریٹ ہوٹل اسلام آباد تک عمران خان نے چند گاڑیوں کے پروٹوکول میں سفر کیا کیا میڈیا اور اپوزیشن نے تنقید کے نشتر چلا دیئے، آسمان سر پر اٹھا لیا، وہ تو اچھا ہوا کہ عمران خان نے خود ہی نگران حکومت کی طرف سے دیئے گئے پروٹوکول پر ناراضی کا اظہار کردیا، وگرنہ نئے پاکستان اور تبدیلی کے نعروں کا وہ حال ہونا تھا کہ الامان الحفیظ۔ دو دن بعد عمران خان جب پشاور گئے تو انہوں نے عام شہریوں کی طرح سفر کیا، حتیٰ کہ پشاور شہر میں بھی بغیر پروٹوکول کے پھرتے رہے۔ اب جو سنجیدہ طبقے ہیں، وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ اپوزیشن یامیڈیا کی تنقید پر اس قدر حساسیت کے ساتھ عمران خان کیسے چل سکیں گے؟ مثلاً اُن کا یہ کہنا عین منطقی ہے کہ ایک وزیر اعظم ریاست کا اہم ترین رکن ہوتا ہے، ریاست کی سلامتی کے فیصلے وہ کرتا ہے، اُس کی سلامتی بھی تو ریاست کے مضبوط ہونے کو ظاہر کرتی ہے، اس لئے ریڈ بک میں وزیر اعظم کی سیکیورٹی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اب اگر عمران خان اس سیکیورٹی کے حصار کو توڑیں گے تو اُن کی زندگی کو شدید خطرات لاحق رہیں گے۔ یہ درست ہے کہ بہت زیادہ ہٹو بچو کی فضا پیدا نہ کی جائے، لیکن جو سیکیورٹی کے کم ازکم تقاضے ہیں، انہیں تو ہر صورت بروئے کار لایا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں عمران خان سیکیورٹی پر مامور اداروں کو فیصلہ کرنے دیں تو بہتر ہوگا۔ اسی طرح اپوزیشن اس قسم کے فروعی ایشوز پر وزیر اعظم کو نشانہ بنانے کی بجائے، اُن کی گورننس اور فیصلوں کو نظر میں رکھے۔

اچھی بات ہے کہ اپوزیشن کے کسی کونے سے یہ آوازیں بھی آنے لگی ہیں کہ عمران خان کو پانچ سال حکمرانی کا موقع ملنا چاہئے، اس کے بعددیکھیں گے انہوں نے ملک کے لئے کیا کارنامے سر انجام دیئے، عوام کو بھی تب بہتر انداز میں فیصلے کرنے کا موقع ملے گا۔ جمہوریت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جسے مینڈیٹ ملا ہے اسے آئینی مدت تک کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ ہم نے اس ملک کو جمہوریت کی تجربہ گاہ بہت بنا لیا ہے، اب ایک دہائی سے جمہوریت جس طرح استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہئے۔۔۔ سپریم کورٹ نے لاہور کے حلقے 131 میں دوبارہ گنتی کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس تھے کہ دوبارہ گنتی کو روٹین کا معاملہ نہیں بنا سکتے۔ اس طرح تو نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو صرف الیکشن ٹریبیونل میں چیلنج کیا جانا چاہئے، لاہور ہائیکورٹ کا یہ اختیار نہیں۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ وگرنہ روزانہ ہی ہائیکورٹ کے حکم سے دوبارہ گنتی کا عمل دراز ہوتا جا رہا تھا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

اب بھی 26 کے قریب حلقوں کا نتیجہ اور امیدواروں کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا، ان میں اکثر یہ دوبارہ گنتی والے ہی ہیں۔ اس فیصلے سے پہلے یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ شاید انتقال اقتدار کا عمل بروقت مکمل نہ ہو سکے۔ جو انتخابات کے بعد 21 دن میں مکمل ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو اپنی کارکردگی کا تنقیدی نظر سے جائزہ لینا چاہئے۔ جہاں ملک کے چیف جسٹس یہ کہیں کہ انتخابات کے دن وہ چیف الیکشن کمشنر سے تین بار ٹیلیفونک رابطے کی کوشش کرتے رہے، مگر انہوں نے کال ریسیو نہیں کی، وہاں معاملے کی خرابی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آر ٹی ایس کے بارے میں بھی چیف جسٹس نے بڑے سنجیدہ ریمارکس دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنے زیادہ اخراجات کے باوجود یہ سسٹم عین موقع پر جواب دے گیا، اب لوگ اس حوالے سے درخواستیں لے کر سپریم کورٹ آئیں گے تو نجانے کیا فیصلہ کرنا پڑے؟

عوام جتنے بھی جوش و خروش سے انتخابی عمل میں حصہ لیں، ہماری یہ بدقسمتی ٹلنے کا نام نہیں لیتی کہ آخر میں الیکشن کمیشن کی نا اہلی کے باعث بہت سے ایسے شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں جو پورے پانچ سال برسر اقتدار آنے والی حکومت کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ 2013ء میں بھی ایسا ہوا اور اب 2018ء میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے، گنتی اور فیصلے کو نہ ماننے والے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس شور شرابے میں نئی حکومت قائم ہو گی اور پھر اسمبلیوں کے اندر بھی دھاندلی کا شور اٹھتا رہے گا۔

اب اس خاص قسم کے منظر نامے میں عمران خان کیسے اپنی حکومت کے قدم جماتے ہیں، یہ بہت اہم سوال ہے۔ اپوزیشن اس معاملے میں کتنی بے صبری ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ خورشید شاہ یہ کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو سو دن دیں گے اور دیکھیں گے کہ وہ اپنے دعووں پر پورا اترتی ہے یا نہیں، اس کے بعد ٹف ٹائم دیں گے۔ سو دن میں عمران خان زمین و آسان کے قلابے بھی ملا دے تو اپوزیشن کو مطمئن نہیں کر سکتے، سو دن تو پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں، البتہ سو دن میں حکومت کے قبلے کا تعین ضرور کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اپنے ایجنڈے کی روح کو پہلے دن ہی آشکار کر دے۔ اسمبلی میں قائد ایوان کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان جو تقریر کریں، وہ اتنی بھرپور اور بامعنی ہونی چاہیے کہ ان کی حکومت کے روڈ میپ کا سب کو پتہ چل جائے۔عوام کے لئے معاشی ریلیف بہت اہم ہے، تاہم اس کے لئے پیٹرول یا بجلی سستی کرنے جیسے وقتی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی بجائے بنیادی پالیسیوں کو درست کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اس سے بھی بڑھ کر جو چیز حکومت کی عوام کے دلوں میں دھاک بٹھا سکتی ہے، وہ عوامی بہبود کے اداروں کی بہتری ہے۔

لوگ آئے روز ہسپتالوں میں علاج نہ ہونے سے مر رہے ہیں، یہ عوامی بہبود کا سب سے بڑا شعبہ ہے، سب سے پہلے اس پر فوری نوعیت کے اقدامات کا مرحلہ طے کرنا چاہیے۔ بجٹ کی کمی نہیں، کمی صرف کرپشن، نااہلی اور عدم احتساب کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ کمزوری دور کر دی جائے تو عوام کو ایک واضح تبدیلی محسوس ہو گی۔ دوسرا شعبہ سرکاری دفاتر کی کارکردگی کا ہے۔ یہ ظالمانہ نظام لوگوں کو عہدِ غلامی کی یاد دلاتا ہے۔ اس شعبے میں میرٹ پر تقرریاں کرکے انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد پولیس ہے، جو عمران خان کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔پنجاب پولیس کے افسر و جوان تبدیلی کے لئے تیار ہیں، یہ محکمہ بُرا نہیں ، اسے بُرا بنا دیاگیا ہے۔ اس میں بڑی آسانی سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے،بشرطیکہ اسے سیاسی دباؤ اور عدم اعتمادی سے آزاد کر دیا جائے۔عمران خان نے اپنے ساتھیوں کو بالکل درست پیغام دیا ہے کہ ہم حکومت کرنے نہیں جہاد کرنے آ رہے ہیں۔ جب تک ان کی ہر سطح پر موجود ٹیم کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا، ان کی حکومت کامثبت تاثر قائم نہیں ہوگا۔ یہ درست ہے کہ عوام کی عمران خان سے توقعات بہت زیادہ ہیں، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ معاملات ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو سکتے، انہیں صرف یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ درست سمت میں قدم رکھ دیا گیا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس بار یوم آزادی سے شروع ہونے والا تبدیلی کا یہ سفر کس رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ قوم کی خواہش یہی ہے کہ ہم ان سب بحرانوں سے نکل آئیں جو ہمارے پاؤں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں اور ترقی و خوشحالی کے خواب کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا۔

مزید : رائے /کالم