مولاناحافظ شعیب الرحمن کی زیر صدارت مولاناعبدالعلیم قاسمی سیمینار

مولاناحافظ شعیب الرحمن کی زیر صدارت مولاناعبدالعلیم قاسمی سیمینار

لاہور ( سٹی رپورٹر)دارالعلوم حنفیہ لبرٹی مارکیٹ گلبرگ لاہور میں مولاناحافظ شعیب الرحمن کی زیر صدارت مولاناعبدالعلیم قاسمی سیمینار کا انعقاد کیا گیا،جس سے مولانامحمدعاصم مخدوم ، مولانا اسداللہ ،مفتی محمدمحسن،مولاناافضل حیدری ودیگرنے خطاب کیا،مقررین نے مولاناعبدالعلیم قاسمی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی دینی و ملی خدمات کو سراہا،مولانامحمدعاصم مخدوم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالعلیم قاسمی جرأت و بہادری کا نام تھاانہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کے پرچم کو بلند رکھا،عقیدہ توحید ،عقیدہ ختم نبوت عقیدہ اہل سنت پر کبھی بھی سودے بازی نہیں کی ۔

،تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا،مولاناعبدالعلیم قاسمی نے کفر اور شرک کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں اسلام کی روشنی کو پھیلایا ،دارالعلوم حنفیہ سمیت لاہور کے بڑے بڑے دینی مراکز آپ کا صدقہ جاریہ ہیں۔

لاہور میں مدارس کے قیام مساجد کی تعمیر میں آپ کا اہم کردار رہا،قرآن وسنت کی ترویج و اشاعت میں آپ کا نام نمایاں حروف میں لکھا جائے گا،آج کے نوجوان علماء دینی خانقاہوں سے وابستہ لوگ اپنے اکابرین کی تعلیمات کو روشن کرتے ہوئے درس قرآن و درس حدیث کی اہمیت کو اجاگر کریں ،ہمارا مقصد ہی اسلام کی صحیح تعلیمات کو پوری دنیا میں پہنچاناہے ،اسلام امن کا سب سے بڑا علمبردارہے ،وہی مرکز وہی مسجد آبادہوگی جہاں قرآن وسنت کی تعلیمات پر درس دیا جائے گا،لاہورمیں حضرت مولانااحمدعلی لاہوری ،حضرت مولانامفتی محمدحسن جامعہ اشرفیہ اور حضرت مولاناعبدالعلیم قاسمی نے سب سے زیادہ اشاعت اسلام کا کام کیا ہے،مولانامحمدعاصم مخدوم نے اپنے خطاب میں ہندوستان میں اسلام کی آمد کی تاریخ بیان کی اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں محمد بن قاسم کی آمد سے اسلام کا سورج طلوع ہوا ،مجاہدین اسلام نے ان چراغوں میں اپنے خون کا تیل مہیاکیا یوں نغمۂ توحید روشن ہوا،پھر علم وحکمت سے مالا مال، عقل اورخوف خداکے ساتھ عشق مصطفی ﷺ سے لبریز دل رکھنے والے مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے وحدت الوجودی طریقت کابت پاش پاش کیا۔ دشمنانِ صحابہ رضی اللہ تعالی اوردیگر باطل پرستوں کے سامنے خاندانِ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی ؒ نے ضرب کاری لگائی۔ آزادی کی جنگ میں خاندان ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے آخری چشم وچراغ سید اسماعیل شہیدنے انگریز کی غلامی سے نجات دلا کر فدا ہ ابی وامی محمد عربی ﷺ کی غلامی میں دینے کی آرزو میں جہاد بالسیفّ کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی ۔ان کی قربانی رنگ لائی اور ایک وقفہ کے بعد حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ اسیرِمالٹا کی قیادت میں تحریکِ آزادی اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگی۔ مسلم قوم میں ہندووانہ رسوم اور مشرکانہ عقائد کے خلاف دارالعلوم دیوبندکاقیام عمل میں آیااوروقت کے محدث اعظم ، صوفی اکمل حضرت مولانارشید احمد گنگوہی ؒ کے شاگرد قرآن وحدیث میں مگن ہوگئے، پورے بر صغیر ہندو پاک میں علمائے دیوبند نے تحریک آزادی اور مذہبی قیادت کا بیڑا اٹھایا ۔پنجاب میں شیخ التفسیرحضرت امام لاہوری ؒ اوررئیس المفسرین امام المواحدین حضرت مولاناحسین علی الوانی ؒ نے ڈیرے ڈالے ،ان حضرات نے تفسیرِ قرآن کریم کا ایک ایسا والہانہ چشمہ جاری کیا جس کے آب خالص سے پیاسے خوب سیراب ہوئے۔ان اکابر نے سیدالرسلﷺ کے بتلائے ہوئے صراطِ مستقیم پر تن تنہاجس جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔آج ان کے ماننے والے اور چاہنے والے ہزاروں کی تعدادمیں ہیں ،آج کا نوجوان اپنے اکابر اسلاف کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے کفر شرک و بدعات کے ان اندھیروں میں قرآن کی روشنی کو منور کرئے ،حقیقی تبدیلی اللہ کے دین کی تبلیغ اور اشاعت سے ہوگی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4