ورچوئل یونیورسٹی کے زیر اہتمام واٹر سکیورٹی اور مستقبل کے چیلنجز پرسیمینار

ورچوئل یونیورسٹی کے زیر اہتمام واٹر سکیورٹی اور مستقبل کے چیلنجز پرسیمینار

لاہور(پ ر)ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کی ماحولیاتی تحفظ سوسائٹی اور سٹوڈنٹ ویک کور کمیٹی کے زیرِاہتمام پاکستان میں واٹر سکیورٹی اور مستقبل کے چیلنجز کے حوالے سے ایم اے جناح کیمپس میں ایک روزہ سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر واٹر مینجمنٹ پنجاب کے سابق ڈائیریکٹر جنرل مشتاق احمد گل مہمانِ خصوصی تھے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ آبی زخیرہ ہی ہمارے مستقبل میں پانی کی کمی کا واحد حل ہے اور پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے علاقائی سطح پر اقدامات کرنا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ دستیاب آبی وسائل کا ذیادہ استعمال زرعی سرگرمیوں میں ہورہا ہے لہٰذا پانی بچانے کی ٹیکنالوجی کو رواج دے کر ضائع ہونے والے ہر قطرے کو بچانا ہوگا۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کی دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف کی۔ورچوئل یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر نوید اے ملک نے کہا کہ آبی وسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے بھی سنجیدہ اقدامات کئے جاسکیں۔ تقریب سےWWF پاکستان کے فریش واٹر پروگرام کے پراجیکٹ مینیجر سہیل علی نقوی نے بھی خطاب کیا اور آبی تحفظ کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کے سکڑتے ہوئے وسائل ،بڑھتی ہوئی آلودگی اور موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے غذائی اور آبی استحکام کو چیلنجز کا سامنا ہے۔سیمینار کے دیگر مقررین میں آبپاشی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر غلام ذاکر حسین سیال اورواٹر کوالٹی ایکسپرٹ ڈاکٹر شازیہ الیاس شامل تھیں۔

ماہرین نے پاکستان میں فوری طو رپر نئے آبی ذخائر کی تعمیر میں مزید تاخیر کو انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو آبی وسائل کے حوالے سے درست حقائق کو عوام کے سامنے لانے کی ضرورت پرزور دیا تاکہ دستیاب آبی وسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔ اس موقع پر احمرسعید قاضی، سرمد لطیف اور جاوید یونس بھی موجود تھے۔اس موقع پرآبی وسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے واک بھی کی گئی جس میں ورچوئل یونیورسٹی کے طلبہ، فیکلٹی ممبران، سٹاف اور سیمینار کے مقررین نے خصوصی شرکت کی۔

مزید : کامرس