رنگت کی بناءپر چیکنگ ، عدالت نے پولیس اہلکاروں کو مجرم قراردیدیا

رنگت کی بناءپر چیکنگ ، عدالت نے پولیس اہلکاروں کو مجرم قراردیدیا
رنگت کی بناءپر چیکنگ ، عدالت نے پولیس اہلکاروں کو مجرم قراردیدیا

  

برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن)جرمنی کی ایک اعلیٰ صوبائی انتظامی عدالت کے مطابق پولیس کی طرف سے کسی فرد کی جلد کی رنگت کے باعث چیکنگ خلاف قانون ہے۔ اس مقدمے میں ایک متاثرہ شخص نے دو پولیس اہلکاروں پر ’نسلی بنیادوں پر امتیازی رویے‘ کا الزام لگایا تھا۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق اس مقدمے میں ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر میونسٹر کی ایک اعلیٰ انتظامی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ وفاقی جرمن پولیس کے جن دو اہلکاروں نے مدعی، جو کہ گہری رنگت والا ایک شخص ہے، کی سکیورٹی کے نقطہ نظر سے چیکنگ کی تھی، وہ اپنے اس اقدام کے ساتھ جرمنی کے بنیادی آئین میں دی گئی ضمانتوں کے حوالے سے آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔

اس مقدمے میں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت کی پانچویں سینیٹ کے ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فیڈرل پولیس کے جن دو اہلکاروں نے گہری رنگت والے جس مدعی کی ’نسلی پروفائلنگ‘ کرتے ہوئے اس کی چیکنگ کی تھی، اس کی وجہ محض اس شخص کی جلد کی رنگت تھی۔ یوں یہ چیکنگ جرمنی کے بنیادی آئین کی خلاف ورزی تھی، کیونکہ جرمنی کا بنیادی قانون کسی بھی طرح کے نسلی امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔

اس مقدمے کا مدعی ایک ایسا جرمن شہری تھا، جس کی عمر اس وقت 43 برس ہے اور جس سے نومبر 2013 میں جرمن شہر بوخم کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر دو وفاقی پولیس اہلکاروں نے اس لیے اپنی شناختی دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک گہری رنگت والا انسان تھا۔ اس پر اس جرمن شہری نے پولیس اہلکاروں سے یہ بھی کہا تھا کہ یہ چیکنگ اس لیے غلط اور ناجائز تھی کہ تب ایسا صرف اس کی جلدی رنگت کی وجہ سے کیا جا رہا تھا۔

اس شہری کے مطابق اس کے ساتھ ماضی میں بھی کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے جرمن اداروں کے اہلکاروں نے اس سے اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے کہا، اور ہر مرتبہ ہی اس کی وجہ اس کی گہری جلدی رنگت بنی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق نومبر 2013 میں اس شخص کی چیکنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں نے اس چیکنگ کی وجہ یہ بتائی تھی کہ اس جرمن شہری کا رویہ اور اس کی جلد کا رنگ ’نظروں میں آ جانے‘ والے تھے۔

اس حوالے سے عدالت نے اپنے زبانی فیصلے میں مزید کہا، ”پولیس کو کسی شخص کی جلدی رنگت کی وجہ سے اس پر شبہ کرنے اور اس کی چیکنگ کا اختیار تب حاصل ہوتا ہے، جب متعلقہ شخص کے بارے میں ایسے شواہد یا شبہات بھی موجود ہوں کہ وہ واقعی کسی جرم کا مرتکب ہوا ہے۔“

اس عدالتی فیصلے کے بعد مدعی کے وکیل نے ڈی پی اے کو بتایا کہ درخواست دہندہ کی شکایت کو عدالت نے دور کر دیا ہے، اسے انصاف مل گیا ہے اور یہ ’درست سمت میں ایک بڑا قدم‘ ہے۔ اس کے برعکس وکلائے صفائی کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مدعی کی چیکنگ اس لیے بھی کی تھی کہ بوخم شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے ارد گرد منشیات کا کاروبار کرنے والے عناصر بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور دونوں پولیس اہلکاروں کی طرف سے اس جرمن شہری کی شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال محض اپنے سرکاری فرائض بجا طور پر انجام دینے کی ایک کوشش تھی۔

مزید : جرم و انصاف