پھلرواں میں دشمنی کی آگ بجھانے کیلئے کسی نے مصالحانہ کر دار ادا نہیں کیا

پھلرواں میں دشمنی کی آگ بجھانے کیلئے کسی نے مصالحانہ کر دار ادا نہیں کیا

لاہور(رپورٹ : یو نس با ٹھ )تھانہ شمالی چھاؤنی اور تھانہ برکی کی حدود میں واقع پھلروان گاؤں میں چودھراہٹ کے تنازع پرجنم لینے والی دشمنی میں اب تک 10 افراد موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں،پھلروان گاؤں میں جاری دشمنی کی آگ میں تیزی آئی اوریہاں کا امن و امان تاحال متاثر ہے، تھانہ برکی اور تھانہ شمالی چھاؤنی کی حدود میں جاری دشمنی کی اس آگ کو بجھانے میں مقامی سیاستدانوں اور پولیس نے ذرا بھر بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا بلکہ پولیس نے قتل و غارت سے لاکھوں روپے کمائے ہیں ۔ ویسے توصوبائی دارالحکومت میں گزشتہ50سال سے سرگرم روایتی حریف ماضی کا قصہ بن گئے۔استو نمبردار‘ ماجھا سکھ‘ ملک نثار‘ کالو شاہ پوریا‘ نوری نت‘ عارف حویلیاں والا‘بھولا سنیارا‘ گو گی ،طیفی بٹ، ریا ض گجر، اسلم ٹا نگے والا ، بلا ٹرکاں والا‘ ٹیپو ٹرکاں والا‘ ارشد امین چودھری‘ عابد چودھری‘ عاطف چودھری‘ نواز جٹ‘ ہمایوں گجر‘ بابا حنیفا‘ منظر شاہ‘ کٹھا برادری‘ راجپوت برادری‘ شیخ روحیل اصغر‘میاں اخلاق گڈو‘ بھنڈر اور ملک زاہد گروپ سمیت40سے زائد بڑے اور چھوٹے گروپوں کی چودھراہٹ کی لڑائی میں گزشتہ50سال کے دوران800سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیاماجھا سکھ اور شیخ روحیل اصغر گروپوں کے درمیاں شہر کی سب سے بڑی جنگ تھی جس میں دونوں خاندانوں کے سب سے زیادہ افراد قتل ہوئے۔دوسرے نمبر پر رشید بھٹی اور ہنجروال کے شاہ گروپ جاری جنگ میں کئی افراد لقمہ اجل بنے۔شہر میں کٹھا برادری اور راجپوت برادری میں جاری گینگ وار میں75سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ برکی کے نواحی گاؤں پھلروان کے رہائشی چودھری صدیق لاٹی گروپ کی اسی گاؤں کے رہائشی مالک عرف مالو گروپ کے ساتھ چودھراہٹ کے تنازع پر دشمنی چلی آ رہی ہے۔ گزشتہ روز پھلروان گاؤں میں چودھراہٹ کے تنازع پرجنم لینے والی دشمنی میں اب 5 افراد مز ید قتل ہو گئے ہیں۔ مقتولین کا تعلق ایک ہی خاندا ن سے بتایاگیا ہے۔ قتل ہونے والے افراد میں قربان ،ارشد اور بشیر نامی تین سگے بھائی بھی شامل ہیں قتل کی اس خونی واردات کے بعد حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے پولیس کے مطابق برکی کے علاقہ پھلروان گاؤں کے دونوں گروپوں کے درمیان گزشتہ دس سال سے پراپرٹی کے تنازعہ پر دشمنی چلی آر ہی ہے جبکہ اسی دشمنی کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے دو ،دو افراد پہلے ہی قتل ہو چکے ہیں ، پانچ افراد کے قتل میں لاٹھیا عرف لا ٹی گروپ کے ارکان ملوث بتائے گئے ہیں پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبل ازیں دونوں گروپوں کے درمیان قتل و غارت کی واردات میں ملوث کوٹھے والا گروپ کے چار افراد اور لاٹی گروپ کا ایک شخص پہلے ہی جیل میں ہے ۔ گز شتہ روز کے واقعہ میں مقتولین کے لواحقین نے ملزمان کے گھروں کو آگ لگا دی اور پولیس کی گاڑیوں پرپتھراؤ کر کے اہلکاروں کو علاقے سے باہر نکال دیا،چودھراہٹ کے تنازع پر شروع ہونے والی دشمنی پہلے لاٹی گروپ اور صفدر گروپ میں شروع ہوئی جس میں چودھری صدیق عرف لاٹی گروپ کے دو افراد جو کہ چودھری صدیق لاٹی کے دو بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جس کے بدلے لاٹی گروپ نے صفدر گروپ کے ایک آدمی ظفر کو قتل کیا جس کے بدلہ میں صفدر گروپ کے لاٹی گروپ کے سربراہ محمد صدیق کو گلبرگ میں قتل کیا ۔ اس کے بعد لاٹی گروپ اور صفدر گروپ میں صلح ہو گئی اور اس کے فوری بعد لاٹی گروپ کی گاؤں کے ہی رہائشی مالو گروپ سے دشمنی نے جنم لے لیا اور دونوں گروپوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں ایک شخص فیاض ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے جس میں ایک زخمی مستقل طور پر معذوری کی زندگی بسر کر رہا ہے جس میں پھلروان گاؤں کے ناظم چودھری فرمان علی پھلروان کا نام بھی مقدمہ میں دیا گیا جو کہ چار سال سے اس مقدمہ میں اشتہاری ہے جبکہ گاؤں میں امن و امان کی فضا خراب ہونے پر متعدد مکین نقل مکانی کر چکے ہیں اور اس دوران کچھ عر صہ قبل اپنے برادر نسبتی اشرف کے ساتھ برکی روڈ پر قتل ہونے والے علی رضا کے والد عبدالستار کو قتل کیا گیا اور اس طرح لاٹی گروپ کے 6 افراد اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے تھے جبکہ صفدر گروپ اور لالو گروپ کا ایک ایک شخص قتل ہوا ۔جبکہ اس حوالے سے پھلروان گاؤں اور ارد گرد آبادیوں کے مکینوں لطیف چودھری ، ہیرا علی ، اکرم علی ، اصغر علی ، خدیجہ بی بی، افشاں کرن اور دیگر نے کہا ہے کہ پھلروان گاؤں میں معمولی بات پر 16 سال سے ایک ہی برادری کے درمیان دشمنی کی آگ نے جنم لے رکھا ہے۔ اس میں خاندان اور برادری کے بڑے لوگوں اور سیاست دانوں سمیت مقامی پولیس کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ دشمنی کی آگ تھم سکے۔ اب مزید 5فراد قتل کر دئیے گئے ہیں جس سے دشمنی کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔ اس سے قتل و غارت کے واقعات کا مزید اندیشہ ہے جس سے پھلروان گاؤں اور ارد گرد آبادیوں میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو گی۔ اس میں ثالثی کونسلوں کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہیے۔

پھلرواں دشمنی

مزید : صفحہ آخر