کیا ایم کیو ایم کے مطالبے پر کراچی کے حلقے کھولے جائیں گے ؟

کیا ایم کیو ایم کے مطالبے پر کراچی کے حلقے کھولے جائیں گے ؟
کیا ایم کیو ایم کے مطالبے پر کراچی کے حلقے کھولے جائیں گے ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 وفاق میں حکومت سازی کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور تحریک انصاف کے درمیان چھ نکات پر اتفاق ہوگیا ہے، جس کے بعد بی این پی (مینگل) مرکز میں حکومت سازی کے لئے تحریک انصاف کی حمایت کرے گی۔ عمران خان اور سردار اختر مینگل کے درمیان جلد ہی ملاقات ہوگی۔ یہ البتہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کے لئے سردار اختر مینگل بنی گالہ آئیں گے یا عمران خان کوئٹہ جائیں گے۔ چند روز قبل اختر مینگل نے کہا تھا کہ جس کسی کو ہمارے تعاون کی ضرورت ہے، وہ ہمارے پاس آئے، ہم اس کے پاس نہیں جائیں گے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کس کی کسے ضرورت ہے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم (پ) کے درمیان بھی تعاون کے امور طے ہوچکے ہیں۔ تحریری معاہدہ بھی طے ہوا ہے۔ بھلے وقتوں میں ایسے مواقع پر جو سیاسی جماعت بھی ایم کیو ایم کے تعاون کی طلبگار ہوتی، اسے نائن زیرو آنے کی دعوت دی جاتی تھی، اس کا شاندار استقبال کیا جاتا تھا۔ اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی تھیں، لیکن ’’آن قدح بشکست و آن ساقی نہ ماند‘‘ وہ جام وسبو ٹوٹ گیا اور اس ساقی کا دور بھی لد گیا، اب سیاسی تعاون کی بات کہیں آئے جائے بغیر ہی ہو جاتی ہے۔

ایم کیو ایم (پ) نے حالیہ انتخابات میں کراچی سے چار نشستیں جیتی ہیں، جبکہ مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والی کسی دوسری جماعت کے حصے میں کوئی نشست نہیں آئی۔ آفاق احمد کی پارٹی ہار گئی، مصطفی کمال کا کمالِ نے نوازی بھی کسی کام نہ آیا۔ جب وہ دو سال قبل بیرون ملک سے آئے تھے اور آتے ہی گرجنا برسنا شروع کر دیا تھا، تو یار لوگوں کا خیال تھا کہ مہاجر کارڈ شاید وہ لے اڑیں گے، لیکن ان کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ چند روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ ان کے امیدواروں کو دھاندلی کے ساتھ ہرایا گیا۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نام لے کر بتائیں گے کہ ان کی شکست میں کس کس کا کیا کردار ہے، لیکن اب تک انہوں نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا۔ بہرحال ’’پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ‘‘ دیکھیں وہ کیا کہتے ہیں۔ البتہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اس دھاندلی کے کچھ خدوخال بیان کئے ہیں، جو ایم کیو ایم (پ) کے ساتھ روا رکھی گئی، ان کا کہنا ہے کہ ہماری جماعت کی برتری کو مخالف امیدواروں کی برتری کے طور پر منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ابتدائی طور پر جو نتائج موصول ہو رہے تھے، اس میں ہماری برتری تھی، لیکن چار پانچ گھنٹوں کے وقفوں کے بعد جو نتائج آئے، وہ تبدیل کر دئیے گئے تھے۔ نتائج اس طرح تبدیل کئے گئے کہ جیتنے والے امیدوار کو ہرایا گیا جبکہ ہارنے والے کو جتوا دیا گیا اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا، جہاں بھی ایم کیو ایم کو ہرایا گیا، وہاں کا طریقِ واردات یہ تھا کہ ہماری برتری مخالف امیدوار کی برتری میں بدل دی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم (پ) نے تحریک انصاف کی حمایت کر دی ہے اور چند روز بعد ہونے والے قائد ایوان اور سپیکر کے انتخاب میں وہ اس کا ساتھ دے گی، ایم کیو ایم (پ) نے تحریک انصاف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کے بیان کی روشنی میں طے کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم جس حلقے کے الیکشن آڈٹ کا مطالبہ کرے گی، اس میں ایسا کیا جائے گا یعنی اس حلقے کے تھیلے کھول دئیے جائیں گے۔ عمران خان نے یہ بات الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اپنی تقریر میں بھی کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جو بھی حلقہ کہے گی، ہم کھول دیں گے، لیکن ابھی ان کے اس اعلان کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ ان کے اس اعلان کو کسوٹی پر پرکھنے کا وقت آگیا۔ لاہور کے حلقہ این اے 131 میں عمران خان اور خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ تھا۔ اول الذکر نے بہت تھوڑے مارجن سے خواجہ سعد رفیق کو ہرایا تھا۔ انہوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تو مسترد شدہ ووٹ دوبارہ گنے گئے، جس میں عمران خان کی جیت کا مارجن کم ہوگیا، عمران خان نے پہلی گنتی میں اس حلقے سے سعد رفیق کو 680 ووٹ سے شکست دی، لیکن جب سعد رفیق کی درخواست پر 2832 مسترد شدہ ووٹ گنے گئے تو یہ مارجن کم ہوکر 602 رہ گیا یعنی سعد رفیق کے 78 ووٹ بڑھ گئے۔ سعد رفیق کی تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست آر او نے مسترد کر دی، بظاہر نظر آرہا تھا کہ اگر 2832 ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں ان کے ووٹوں میں 78 کا اضافہ ہوگیا ہے تو تمام ووٹوں کی گنتی ہوگئی تو شاید عمران خان کی جیت ہار میں بدل جائے۔ آر او کے اس حکم کے خلاف وہ ہائیکورٹ میں چلے گئے، جہاں سے تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم آیا اور یہ گنتی 3 دن میں مکمل کرنے کے لئے کہا گیا، منگل کے روز گنتی دوبارہ شروع ہوئی تو صرف پانچ تھیلوں کو کھولنے سے سعد رفیق کے ووٹ بڑھ گئے، اس کے بعد گنتی روک دی گئی تو بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم معطل کر دیا۔ اب گنتی روک دی گئی ہے اور اس حلقے سے عمران خان کامیاب ہیں۔ تاہم سعد رفیق نے دوبارہ گنتی سمیت تمام تر قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ البتہ امکان یہ ہے کہ عمران خان حلف اٹھانے کے ساتھ ہی یہ نشست چھوڑ دیں گے اور دو ماہ تک یہاں پھر ضمنی الیکشن ہوگا، لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ یہاں گنتی دوبارہ ہو جائے، تاکہ ایک تو عمران خان کا کہا ہوا سچ ثابت ہو جائے کہ ہم اپوزیشن کے کہنے پر ہر حلقہ کھولنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن ان کے وکیل نے عدالت میں ان کے اس اعلانیہ موقف کے برعکس موقف اختیار کیا، گویا کہا جاسکتا ہے کہ ’’من چہ می سرائم اور طنبورۂ من چہ می سراید‘‘ ایک زمانے میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ سیاسی معاہدے کوئی حدیث نہیں ہوتے، ان کا مقصد یہ تھا کہ ان کی پابندی ہر حالت میں ضروری نہیں ہوتی۔ سیاسی ضرورتوں کے تحت ان کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اب لگتا ہے کہ عمران خان کی تقریر میں جو یہ کہا گیا تھا کہ اپوزیشن جو حلقہ کہے گی، کھول دیں گے، یہ ایسا ہی سیاسی بیان تھا، جیسا آصف علی زرداری کا تھا۔ حالانکہ دونوں کے سیاسی نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ لگتا ہے تقریر کے وقت عمران خان کو اپنے الفاظ کے مضمرات کا اندازہ نہ تھا۔ جب خواجہ سعد رفیق کے ووٹ بڑھنا شروع ہوئے تو کوئی رسک نہیں لیا جاسکتا تھا، کیونکہ جو اپوزیشن انتخابی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے، اس طرح اس کے موقف کو تقویت ملتی، لیکن سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ تازہ تازہ سیاسی مفاہمت کے بعد کیا ان کے مطالبے پر کراچی کے وہ حلقے کھولے جائیں گے، جہاں ڈاکٹر فاروق ستار کے بقول ان کے جیتنے والے امیدواروں کو پانچ گھنٹے کے بعد آنے والے نتیجے میں ہرا دیا گیا۔

کراچی کے حلقے

مزید : تجزیہ