خیبر پختونخوا میں سرائیکیوں کی نسل کشی خطرناک تحریک چلائیں گے

خیبر پختونخوا میں سرائیکیوں کی نسل کشی خطرناک تحریک چلائیں گے

ملتان (سٹی رپورٹر) خیبر پختونخواہ میں سرائیکیوں کی نسل کشی بند نہ کی گئی تو پورا وسیب سراپا احتجاج ہوگا۔ ہم چیف آف آرمی سٹاف چیف جسٹس آف سپریم

(بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

کورٹ ‘ وزیراعظم پاکستان اور نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے فوری ایکشن کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے سرائیکی ادیبوں ‘ شاعروں اور دانشوروں سے ملاقات کے دوران کیا ۔ اس موقع پر رانا محبوب اختر ‘ پروفیسر رفعت عباس ‘ مسیح اللہ خان جامپوری ‘ محمود مہے ‘ انجینئر سجاد خان ‘ ڈاکٹر سید خالد شاہ ‘ افضال بٹ ‘ عصمت اللہ شاہ ‘ خواجہ نصیر ‘ احسان اعوان اور دیگربھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ میں تین سرائیکیوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کیاگیا ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ آئے روز اسی طرح کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح چیف آف آرمی سٹاف نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی کے خلاف ایکشن لیا ‘ اس طرح کے ایکشن کی ڈی آئی خان میں ضرورت ہے ۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ میں نے چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھا تھا ، انہوں نے میرے خط کے جواب میں انکوائری کے احکامات جاری کئے اور میں نے خود آرمی اسٹیشن ہیڈکوارٹرڈیرہ اسماعیل خان میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بات کو آگے بڑھایا جائے اور قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جتنے واقعات ہوئے آج تک قاتل نہیں پکڑے گئے ، حالانکہ بہت سی جگہوں پر قاتلوں کے چہرے سی سی ٹی وی کیمروں میں آ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان میں سرائیکیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کا خاتمہ نہ کیا گیا تو پورا وسیب سراپا احتجاج ہوگا اور حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ ڈی آئی خان اور ٹانک کے بغیر سرائیکی صوبہ بنایا گیا تو اس کے کتنے مہلک نتائج برآمد ہونگے ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ظہور دھریجہ

مزید : ملتان صفحہ آخر