زہریلا پانی، شہریوں پر بیماریوں کا حملہ، متعلقہ ادارے خاموش

زہریلا پانی، شہریوں پر بیماریوں کا حملہ، متعلقہ ادارے خاموش

بہاول پور‘ نورپور نورنگا(بیورورپورٹ‘ نامہ نگار) سمہ سٹہ کاواحد فلٹریشن پلانٹ دوماہ سے خراب ہے۔ شہریوں کو پینے کاصاف پینے کے حصول میں شدیدمشکلات کاسامنا‘ چار سال قبل 4.275 ملین روپے سے تعمیرہونے والافلٹریشن پلانٹ کی عمارت بھی بیٹھ گئی۔تفصیل کے مطابق سمہ سٹہ کے شہریوں نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے بتایاکہ سمہ سٹہ کاواحد فلٹریشن پلانٹ گذشتہ دوماہ سے خراب ہے اورفلٹریشن پلانٹ کی عمارت بھی بیٹھ چکی ہے اور (بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

چار سال قبل 4.275 ملین روپے سے تعمیرکئے جانے والا فلٹریشن پلانٹ اپنی تعمیر کے ابتدائی سال سے ہی خراب رہتاتھا اوراکثراوقات بند رہتاتھا لیکن گذشتہ دوماہ سے نہ صرف فلٹریشن پلانٹ بندہے بلکہ جس عمارت میں فلٹریشن پلانٹ قائم ہے وہ بھی بیٹھ چکی ہے جس کے باعث شہریوں کو پینے کے صاف پانی کے حصول میں شدیدمشکلات کاسامناہے شہریوں نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے کمشنر بہاول پور‘ڈی سی بہاول پورسے فوری نوٹس لینے اوراصلاح احوال کامطالبہ کیاہے ۔ علاوہ ازیں نورپور نورنگا سے نامہ نگارکے مطابق موضع منگڑیجہ بستی سنجرانی بلوچ میں زیر زمین پانی کڑوا ،یرقان اور سنکھیا جیسی موذی امراض بڑھنے لگے ہیں۔واٹر فلٹریشن پلانٹ کے کئی سیاستدانوں نے وعدے کیے جو آج تک پورے نہ ہوئے شہریوں نے ڈسٹرکٹ واٹر مینجمنٹ سے امید باندھ لی۔ سنجرانی بلوچ ،نواز آباد ،کے درجنوں لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں نے ہمیں وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ضلعی انتظامیہ توجہ دے خان نصیر خان بلوچ ،جام مشیر احمد کونسلر ،سید بلال شاہ ،حاجی بگو بلوچ نے درجنوں مردو خواتین کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے پانی کڑوے کی وجہ سے موذی امراض کا شکار ہو رہے ہیں ہم دوردراز سے پانی نہیں لا سکتے انہوں نے ڈسٹرکٹ واٹر منیجمنٹ سے اپیل کی ہے کہ فی الفور بستی سنجرانی بلوچ میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا جائے تاکہ ہم شدید مشکلات سے بچ سکیں۔ اور ہمیں سکھ کا سانس لینے دیا جائے۔

زہریلا پانی

مزید : ملتان صفحہ آخر