ماہ نور فاطمہ کی ہلاکت، ڈاکٹر زبری الذمہ، قاری بھی بے گناہ

ماہ نور فاطمہ کی ہلاکت، ڈاکٹر زبری الذمہ، قاری بھی بے گناہ

ملتان (وقائع نگار) قادرپورراں سے تعلق رکھنے والی بچی ماہ نور فاطمہ کی موت و تشددبارے تحقیقات کرنیوالی نشتر ہسپتال کی انکوائری کمیٹی نے کہا ہے کہ ماہ نور فاطمہ کی موت تشددسے(بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

نہیں بلکہ تشنج کے باعث ہوئی ،ہسپتال میں داخلے ، مختلف تشخیصی ٹسٹوں اور پوسٹمارٹم میں بھی ماہ نور فاطمہ کے جسم پر تشددکا کوئی نشان نہیں ملاجبکہ بچی کے علاج میں ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا، انکوائری کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر آف پیڈزسرجریڈاکٹر عمر فاروق احمد نے شعبہ فرانزک میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق احمد ، شعبہ ریڈیالوجی کے سربراہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار انجم ،ڈائریکٹر ایمرجنسی وارڈ ڈاکٹر طارق سعید ، ایڈمن رجسٹراروارڈ نمبر20ڈاکٹر سلیم شیخ ، اے ایم ایس آؤٹ ڈور ڈاکٹر امجد چانڈیو، ڈاکٹر سلیمان شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6سالہ ماہ نور فاطمہ کو 30جولائی 2018کو ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا کہ اسے استاد نے چھڑی سے گردن پر مار اہے بچی کے طبی معائنے میں اسکے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملاہے جس کے بعد بچی کو طبی امداد دی گئی اور وارڈنمبر20امراض اطفال طبی کو کال بھجوائی گئی وارڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرسلیمان شیخ نیبچی کو وارڈنمبر 20میں منتقل کردیاگیا مگر ماہ نور فاطمہ کے لواحقین ڈاکٹروں کیاجازت لئے بغیر امراض اطفال ایمرجنسی سے31جولائی کو اسے لے گئیدوبارہ اسے لواحقین نے یکم اگست کو صبح ساڑھے 10بجے نیورو سرجری وارڈنمبر 14میں داخل کردیا ، جہاں اسکا سی ٹی سکین ، ایم آر آئی ٹسٹ کروائے گئے تو رپورٹس نارمل آئیں نیورو سرجری وارڈ کے ڈاکٹروں نے امراض اطفال طبی کو کال بھجوائی کہ تشنج کے باعث بچی کی حالت تشویشناک ہے، اس پر ماہ نورفاطمہ کو 2اگست کو روارڈ نمبر 3میں منتقل کیاگیا اور تشنج کا علاج شروع کیا گیا مگر بچی کی حالت تشویشناک رہی ،سہ پہر میں اسکا والد ڈاکٹروں کی اجازت لئے بغیر بچی کو ہسپتال سے لے گیا اور وارڈمیں لکھ کردے گیا کہ بچی کو کسی نقصان کا ذمہ دار خود ہوگا 12گھنٹوں بعد دوبارہ بچی کو تشویشناک حالت میں وارڈ نمبر3میں لے آئے اسکا علاج شروع کیا گیا مگر بارہا ہسپتال سے جانے اورمکمل علاج نہ کروانے سے بچی کی حالت بہت بگڑ چکی تھی جو 7اگست کو فوت ہوگئی ، انہوں نے کہا کہ پولیس نے بھی دوران پوسٹ مارٹم کوئی زخم کا نشان نہیں دیکھا تھا ،ایم آرآئی ، سی ٹی سکین ، ایکسرے میں اسکی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ پر کوئی چوٹ اور زخم کا نشان نہیں آیا ، پوسٹمارٹم میں جسم پر کوئی تشدد یا زخم کا نشان نظر نہیں آیا ، پھربھی جسم سے مختلف اعضا کے نمونے حاصل کرکے تجزیے کے لئے پنجاب فرانزاک سائنس ایجنسی لاہور بھجوادیئے گئے ہیں ، ڈاکٹر عمرفاروق احمد نے کہا کہ نشتر ہسپتال آنے پربچی کے مرض کی تشخیص ہوگئی تھی کہ اسے تشنج ہے مگر والدین نے مکمل علاج نہیں کروایا اور ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر گھر لے جاتے رہے جس سے بچی کی حالت تشویشناک ہوتی چلی گئی اسکے علاج میں ڈاکٹروں نے کوئی غفلت نہیں برتی بلکہ جب بھی ووبارہ نشتر ہسپتال آئے بچی کا علاج فوری شروع کیا گیا مگر والدین کے ذہن میں یہ بات تھی کہ استاد کے تشددسے بچی کی حالت غیرہوگئی ہے ،انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ مکمل کرکے حکام کو بھیج دی گئی ہے۔

ماہ نور فاطمہ

مزید : ملتان صفحہ آخر