آ رمی پبلک سکول کے شہدا ء پیکج میں امتیازی سلوک سے متعلق تحفظات دور کرنے کیلئے 10رکنی کمیٹی قائم

آ رمی پبلک سکول کے شہدا ء پیکج میں امتیازی سلوک سے متعلق تحفظات دور کرنے ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کے والدین کی طرف سے شہید پیکج میں امتیازی سلوک کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کیلئے نگران صوبائی وزیر برائے قانون کی سربراہی میں 10 رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے کمیٹی دو دن کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی اس سلسلے میں نگران وزیراعلیٰ کے زیر صدارت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اہم اجلاس منعقد ہوا نگران صوبائی وزراء عبدالرؤف خٹک ، سارہ صفدر، ظفر اقبال بنگش، نگران وزیراعلیٰ کی مشیر آسیہ خان متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور شہید بچوں کی ماؤں نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں آرمی پبلک سکول کے دلخراش واقعہ میں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین کی طرف سے شہید پیکج میں عدم یکسانیت اور امتیازی سلوک کے حوالے سے تحفظات اور اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے تناظر میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔نگران وزیراعلیٰ نے متاثرہ لواحقین کی ہر ممکن دلجوئی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے سانحہ نے پوری قوم کو جنجھوڑ کے رکھ دیا تھا جو ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے جسے خصوصی طریقے سے ڈیل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ شمع علم کے پروانے بچوں کو جس بے دردی اور بے رحمی سے شہید کیا گیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی نگران وزیراعلیٰ نے لواحقین کے تحفظات کا جائزہ لینے اور اگر امتیازی سلوک برتا گیا ہے تو اسکے اذالے کیلئے قانونی پہلوؤ ں کو مدنظر رکھ کر قابل عمل سفارشات کیلئے وزیر قانون اسداللہ خان چمکنی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی اور ہدایت کی کہ کمیٹی دو دن کے اندر اپنی سفارشات پیش کریں۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں نگران صوبائی وزراء انوارلحق ، رشید خان، وزیراعلیٰ کی مشیر آسیہ خان ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری داخلہ ، وائس چیئرمین بار کونسل ، ہائی کورٹ بار اور متاثرہ خاندانوں کا نمائندہ شامل ہیں ۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیکج کی عدم یکسانیت اور امتیازی سلوک کے حوالے سے شہید بچوں کے لواحقین کے تحفظات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے اور متعلقہ پالیسی اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں تاکہ شہداء کے لواحقین کے خدشات و تحفظات کو دور کیا جا سکے ، انہوں نے واضح کیا کہ ا علیٰ عدلیہ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تاخیر فیصلہ کرنا ہے اور لواحقین کو زیادہ سے زیادہ مالی امداد کی کوشش کی جائے انہوں نے کہا کہ ہماری افواج ، پولیس اور عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں قربانیوں کے اس تسلسل میں آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کی شہادتیں ایک خصوصی مقام رکھتی ہیں، ہمیں ایک نادیدہ دشمن کا سامنا ہے جو مسجد کے اندر نماز میں مصروف عبادت گزاروں کو بھی نہیں چھوڑتا، اقلیتی عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے اور عدالتیں بھی شر پسند کاروائیوں سے محفوظ نہیں رہے،انہوں نے کہا کہ ماضی کے غیر منطقی فیصلوں کی وجہ سے ہماری معیشت بیٹھ چکی ہے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔ بڑے پیمانے پر تباہ کاری، انسانی جانوں کا ضیائع، انفراسٹرکچر کی تباہ کاری اور ان بحرانوں سے نکلنے اور تعمیر و بحالی کے ایک صبر آزما امتحان کا سامنا ہے مربوط اور جرات مندانہ فیصلے ان ساری مشکلات میں کمی لا سکتے ہیں ہم اس سلسلے میں مزید کوتاہیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ہمارے قول و فعل میں تضاد ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پوری یکسوئی اور اجتماعی عمل کے ذریعے معاشرتی زخموں کا مداوا کرنا ہے ملک کی پوری قیادت سماج دشمن عناصر کے خلاف یکسو اور یک زبان ہے معاشی اور نفسیاتی بحرانوں سے نکلنے کے لئے ہر کسی کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب کے دوران لوگون کو ریسکیو کرنے والے پرائیویٹ تیراک کو سرٹیفکیٹس، لائف جیکٹ اور نقد انعام سے نوازا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سانپ کے کاٹنے کے انجکشن کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ گلیشرز کو پگھلنے سے بچانے کیلئے ماحولیات کو محفوظ بنانے والی ایجنسی کے ساتھ ملکر سائنسی طریقہ کار اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے MET ڈیپارٹمنٹ کو فعال کردار ادا کرنا چاہئے ۔ دریاؤں کے بہاؤ میں مختلف مقامات پر لوہے کی رسی نصب کریں۔ انہوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو سرسبز مقامات میں کوئی ہاؤسنگ سکیم کے قیام کے خلاف نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی جبکہ سوات، دیر، چترال ، شانگلہ اور دوسرے پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ڈیم بنانے کیلئے خصوصی اتھارٹی کے قیام کیلئے تجویز پیش کی۔ انہوں نے بے روزگار گریجویٹس کو زرعی زمینوں میں 25 فیصد پارٹنر شپ دینے کی بھی تجویز دیدی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پراونشل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ریلیف جسٹس (ر) اسداللہ خان چمکنی ، وزیر اطلاعات ظفر اقبال بنگش، ڈائریکٹر جنرل ریسکو1122 ڈاکٹر خطیر احمد، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری اکبرخان اور دوسرے متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ ڈائریکٹر جنرل پراونشل دیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 نے وزیراعلیٰ کو مون سون 2018 کی تیاری کے حوالے سے 2018 کے ہنگامی پلان، ڈویژنل کنٹرول روم کے قیام، تیراک کی لسٹ، نیشنل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، پاک فوج، ڈیم اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون ، فوکل پرسن کے کردار، موسم کی پیشنگوئی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سنٹر، نکاسی آب مشینوں اور کشتیوں کی تعداد وغیرہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ وزیراعلیٰ نے پراونشل ڈیزازسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو سراہا اور مذکورہ اقدامات اٹھانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کے دوران سڑکوں کو کھولنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں ۔ تمام ہسپتالوں کو مکمل طور پرفعال بنایا جائے۔ دوست محمد خان نے پراونشل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلوں میں لوگوں کو بچانے کیلئے ہیلی کاپٹر خریدنے کیلئے ایک سمری تیار کریں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں ہمیں ہیلی کاپٹر مہنگے کرایوں پر لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ترقیاتی بجٹ 20 فیصدبڑھانے اور آمدن کے نئے ذرائع جیسے آئل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنا، زراعت کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو خودروزگار مواقع دینے کیلئے سرمایہ کاری کرنا ہوگا اور یو ں ہمارے نوجوان روزگار ڈھونڈنے کی بجائے روزگار دینے والے بن جائیں گے۔

مزید : کراچی صفحہ اول