کیمرے کی گواہی دہرا قانون ہے کیا ؟

کیمرے کی گواہی دہرا قانون ہے کیا ؟
کیمرے کی گواہی دہرا قانون ہے کیا ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

الیکشن کمیشن راولپنڈی اور لاہور سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک کر بنوں۔ میانوالی اور کراچی سے مشروط نوٹیفیکیشن جاری کر چکا ہے لاہور والے حلقے میں خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر روکا گیا تھا جبکہ راولپنڈی میں الیکشن والے دن خان صاحب نے سر عام ووٹ کاسٹ کیا تھا جو کہ ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔خیرلاہور میں خواجہ سعد رفیق کی درخواست کو سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کے بعد مسترد کردی گیا ہے۔دیکھنا ہے کہ اب اسلام آباد میں کیا ہوتا ہے ۔

آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کے معاملات کو لے کر پاکستانی قانون واضح نہیں ہے ۔ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سپریم کورٹ نے ویڈیو ریکارڈنگ کو بطور ثبوت ماننے سے انکار کر دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ پاکستان میں آڈیو‘ ویڈیو ریکارڈنگ کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا.مگر ناموس رسالت ﷺ و ناموس صحابہؓ کے حوالے سے بیشتر کیسز موجود ہیں جن میں آڈیو ویڈیو کے شواہد پیش کیئے گئے ۔ اگر ویڈیو شواہد کے تحت عمران خان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تو سانحہ ماڈل ٹاؤن اس حوالے سے مثالی ٹیسٹ کیس ہے جہاں دن دہاڑے درجنوں ٹی وی چینلز کے سامنے ریاستی پولیس کے ذریعے بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اور لوگوں کو شہید وزخمی کیا گیا۔مگر چار سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے نہ ہی کسی سمت واضح پیش رفت ہوسکی ہے نہ مستقبل قریب میں انصاف ملنے کی امید نظر آرہی ہے۔ اگر اتنے ٹھوس شواہد کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرموں کا آج تک تعین نہ ہو سکا تو عمران خان کے سر عام ووٹ ڈالنے کے معاملے کو اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے جبکہ بطور ثبوت آڈیو ویڈیو گواہی قبول نہیں کی جاتی۔

سوال تو یہ بھی بنتا ہے پھر سی سی ٹی وی کیمرے کیوں لگائے جاتے ہیں ۔ بینک ڈکیتیوں کے اکثر ملزمان کی شناخت انہیں کیمروں کی مدد سے کیجاتی ہے ۔ مگر کیا کیا جائے ہمارے ہاں قانون کو موم کی ناک سمجھا جاتا ہے جب چاہا جدھر چاہا موڑ لیا۔

جب تک دہرے قانون۔ دہرے رویے موجود ہونگے۔ کسی کے لیئے ایک قانون کسی کے لئیے دوسرا قانون کی پالیسی چلتی رہے گی اس ملک میں انصاف کی فراہمی ایک ایسا خواب رہے گی جسکی تعبیر کوسوں دور سفر کرتی ہے اور مسافر کو منزل مل کر نہیں دیتی۔

اعلیٰ عدلیہ ایکٹو ہے جوبنیادی معاملات پر نوٹس لیتی ہے۔ انصاف کی فراہمی سے بڑھ کر کوئی مسئلہ نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس صاحب نے پندرہ دن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس کو لے کر واضح پیش رفت کا اشارہ دیا تھا مگر لاہور ہائیکورٹ نے ابھی تک مرکزی ملزمان کو طلب کرنے کا ان پر جرح کرنے کا فیصلہ محفوظ رکھا ہوا ہے فیصلہ کب تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اسکا دورانیہ بھی واضح نہیں ہے۔

چیف جسٹس صاحب سے اپیل ہے کہ انصاف کی بلا تاخیر فراہمی کو یقینی بنائیں اگر ویڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر دیگر کیسز میں فیصلے سامنے آ سکتے ہیں تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس ویڈیو ریکارڈنگ کے شواہد سے بھرا پڑا ہے۔ اگر چار سال میں بھی مظلوم لواحقین کو انصاف اس لیئے نہ مل سکے کہ ماسٹر مائنڈ کا سرا آل شریفیہ کی طرف جاتا ہے اور عدالتیں اس پر کوئی فیصلہ دینے سے قاصر ہیں تو قانون پر پابندی کے درس دینا بند کر دیئے جائیں اور غریب کے قتل کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا جائے۔انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی انصاف کی موت کے مترادف ہوتی ہے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ