A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

الیکشن کے بعد سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریاں

الیکشن کے بعد سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریاں

Aug 09, 2018 | 12:20:PM

ابویحییٰ

2018 کے الیکشن کا ہنگامہ آخر کار ختم ہوا۔پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ دو مسلسل جمہوری حکومتوں نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔ 2008میں پی پی پی اور 2013 میں مسلم لیگ نے الیکشن جیت کر مرکز ی حکومت بنائی۔ جبکہ اس تیسرے الیکشن میں عمران خان کی پی ٹی آئی اپنی حکومت بنا رہی ہے۔ یہ صورتحال کئی پہلوؤں سے خوش آئند ہے۔اس پر انشاء اللہ آج تفصیل کے ساتھ گفتگوکی جائے گی۔

جمہوری عمل کی اہمیت

سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل جاری ہے۔ جمہوری عمل پرامن انتقالِ اقتدار کا وہ واحد راستہ ہے جو انسانی سماج نے اپنے ارتقاکے کئی مراحل دیکھنے کے بعد دریافت کیا ہے۔ اس عمل میں کوئی بادشاہ، کوئی خاندان، کوئی گروہ اور کوئی طاقتور یہ حیثیت نہیں رکھتا کہ عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار میں آجائے۔ ہر حکمران عوام کی مرضی سے اقتدر میں آتا ہے اور جب عوام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے تو وہ ایک مقررہ وقت کے بعد اس کی جگہ کسی دوسرے شخص یا گروہ کا انتخاب کرلیتے ہیں۔

جمہوری عمل میں ضروری نہیں ہوتا کہ سب کچھ آئیڈیل ہو۔ آئیڈیل طرز حکومت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے کسی شخص کا انتخاب کرکے اسے حکمران بنادیں۔ یہ سلسلہ ختم نبوت کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا ہے۔ اب انتخاب صرف آمریت ہے یا جمہوریت تیسری کوئی شکل دنیا میں موجود نہیں۔

بعض لوگ خلافت کو ایک متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر یہ تقابل درست نہیں۔ خلافت کسی طرز حکومت کا نام نہیں۔ یہ مسلمانوں کے سیاسی نظمِ حکومت کا تاریخی نام ہے۔ خلافت راشدہ کے دور میں صحابہ کرامؓ نے اپنی مرضی سے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کیا تھا۔ اسی کو جمہوری طرز حکومت کہتے ہیں۔ دور جدید میں اس میں صرف دو بنیادی اضافے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ حکمران کو ہر چند برس بعد جاکر عوام سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ذرائع مواصلات کی ترقی کی بنا پر اب مملکت کے ہر ہر باشندے کی رائے معلوم کرنا ممکن ہوچکا ہے۔ ورنہ اپنی اصل میں خلافت راشدہ ایک جمہوری نظام تھا جس میں قریش جنھیں عرب پہلے ہی اپنا حکمران مانتے تھے ، باہمی رضامندی سے اپنا حکمران چنتے تھے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے حکمران پارٹی کسی وجہ سے اپنا وزیراعظم بدل لیتی ہے۔ اس کے بالکل برعکس خلافت راشدہ کے بعد مختلف خاندانوں نے تلوار کے بل بوتے پر زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا اور ایک بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا حکمران بنتا رہا۔ اسی کو آمریت کہتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ خلافت کی بات کرتے ہیں وہ بتائیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ اقتدار پر بالجبر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو اسے آمریت کہتے ہیں۔ اور عوام کی مرضی سے منتخب ہونا چاہتے ہیں تو اسے جمہوریت کہتے ہیں۔ تیسرا کوئی انتخاب اس دنیا میں موجود نہیں۔

جمہوریت کی خرابیاں

خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، لیکن جو اصل بات ہم بیان کررہے تھے وہ یہ تھی کہ جمہوریت کوئی آئیڈیل نظام تو نہیں ہے لیکن اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ انسانیت کے پاس اب موجود نہیں۔ ہمارے نزدیک جمہوریت کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ کبھی کبھی کوئی لیڈراپنی کرشمہ ساز شخصیت یا کوئی گروہ اپنی طاقت، وسائل اور میڈیاپر کنٹرول کرکے عوام ہی سے غلط فیصلہ کراسکتا ہے۔ مگر اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ پھر تو جو عوام منتخب کریں گے وہی بھگتیں گے۔ اس کے علاوہ بھی جمہوری نظام کی کئی اور خامیاں ہیں ، لیکن ان سب کا علاج یہی ہے کہ جمہوری عمل تسلسل سے جاری رہے۔ یہ تسلسل ہی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس نظام کی کمزوریاں کم سے کم ہوتی چلی جائیں۔

اس پس منظر میں ہمارے ملک میں تین مسلسل جمہوری حکومتوں کا ایک کے بعد ایک کرکے مقررہ وقت پر اقتدار میں آنا اپنی ذات میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس عمل سے حکمرانوں پر قانون کی بالادستی کی روایت غیر محسوس طریقے سے قائم ہورہی ہے۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو ایک طرف ہر سطح پر قانون کی بالادستی کا چلن عام ہوگا اور دوسرے یہ امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا کہ کوئی غیر جمہوری راستے سے اقتدار میں آئے۔ مزید یہ کہ اس تسلسل سے عوام میں یہ اعتماد پیدا ہورہا ہے کہ ہمارے پاس یہ قوت ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں کو بدل سکتے ہیں۔ یہی عوامی اختیار جمہوری نظام میں بہتری کا ضامن ہے۔

دھاندلی کا معاملہ

اس الیکشن کی شفافیت پر ہارنے والی جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے۔ اس بات کے دو پہلو ہیں۔ ایک سول سپرمیسی جس پر ہم آگے بات کریں گے۔ دوسرے طریقہ کار کی وہ خرابیاں جن کی بنا پر دھاندلی کا امکان پیدا ہوا۔ یہ وہ چیز ہے جس کا حل انھی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے جو یہ الزام لگاتی ہیں۔ پچھلے دس برسوں میں کم و بیش ملک کی ہر سیاسی جماعت نے کبھی نہ کبھی دھاندلی کی شکایت کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اگر اس بات میں سنجیدہ تھے تو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ایسی قانون سازی کیوں نہیں کرائی جس سے الیکشن زیادہ شفاف ہوجاتے۔ مثال کے طور پر اس دفعہ یہ الزام لگایا گیا کہ پولنگ ایجنٹس کو ایک خاص فارم نہیں دیا گیاجس پر وہ ووٹوں کی تعداد درج کرتے تھے یا یہ کہ ان کو گنتی کے وقت باہر نکال دیا گیا۔

اس کا بہت سادہ حل یہ ہے کہ یہ قانون بنادیا جائے کہ ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے دوران میں صحافیوں یا میڈیا کی موجودگی لازمی ہوگی۔ یا کم از کم کوئی ان کی موجودگی پر پابندی نہیں لگا سکتا جیسا کہ اب لگائی گئی تھی۔ غیر جانبدارصحافیوں کی موجودگی میں اس طرح کی دھاندلی نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ سیاسی جماعتیں اس نوعیت کی قانون سازی کی کوشش کرکے اس طرح کے سقم کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں تو اپنے ہر دعوے میں غیر سنجیدہ رہیں گی۔ یہی ماضی میں ہوچکا ہے کہ دھاندلی کا الزام لگانے والوں نے پارلیمنٹ کی قانون سازی کا راستہ اختیار نہیں کیا جو مسئلے کا اصل حل تھا۔ اس کے بجائے پارلیمنٹ سے باہر احتجاج کا وہ راستہ اختیار کیا جو خلاف قانون بھی تھا اور نتیجے کے اعتبار سے لاحاصل بھی رہا۔

سول سُپرمیسی

اس الیکشن میں سول سُپر میسی کی بات بھی بڑے پیمانے پر کی گئی۔ اس اصول سے اتفاق کرنے کے باوجود ہم یہ رائے رکھتے ہیں کہ سول سُپرمیسی ایک قانونی اصول کا نام ہے۔ یہ اصول تب تک روبہ عمل نہیں ہوسکتا جب تک خود سویلین ہر معاملے میں قانون کی پاسداری کی عادت نہیں ڈالتے۔ حال یہ ہے کہ سویلین حکمران خود تو اس پارلیمنٹ کو جو تمام قانون سازی کا مآخذ ہے وہ اہمیت دیتے نہیں جس کی وہ مستحق ہے۔ سویلین حکمران اپنے فائدے کے لیے قانون کو کھلواڑ بناکر رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ کمزور ہوکراپنے مفاد کے لیے قانون کو اہمیت نہیں دیتے نہ اسے مانتے ہیں توکسی طاقتور سے یہ توقع رکھنا کہ وہ قانون کی پاسداری کرے گا، ایک امر لاحاصل ہے۔

سول سُپرمیسی کے حوالے سے دوسری بات یہ ہے کہ ہماری اسٹبلشمنٹ یہ دیکھتی ہے کہ ان حکمرانوں نے سول بیوروکریسی کے ساتھ کیا سلوک کررکھا ہے۔ ان کو اپنا ذاتی ملازم بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کسی میرٹ کے بغیر ذاتی وفاداری کی بنیاد پر تقرریاں ہوتی ہیں۔ اس کے بعد فوج تو کبھی گوارا نہیں کرے گی کہ یہی کچھ سویلین حکمران ان کے ساتھ بھی شروع کردیں اور پورے ادارے کا بیڑہ غرق ایسے ہی ہوجائے جیسے بیوروکریسی کا بیڑہ غرق ہوا ہے۔ چنانچہ وہ سویلین حکمرانوں کو پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے۔

تیسری اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ سول سُپرمیسی ایک اخلاقی قدر ہے۔ جب تک سویلین حکمران اخلاقی اقدار کو اپنا مسئلہ نہیں بنائیں گے تب تک کسی طاقتور ادارے کو محض اخلاقی بنیادوں پر یہ سمجھانا کہ آپ کا کام حکومت کے کاموں میں مداخلت کرنا نہیں ، زیادہ موثر نہیں ہوسکتا۔ یاد رکھیے کہ اخلاقی زوال کے دور میں سب سے زیاد ہ نقصان کمزور کا ہوتا ہے۔

اس حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ سیاست کی دنیا میں کوئی اصول صرف اس بنیاد پر نہیں منوایا جاسکتا کہ وہ صحیح ہے۔ اس کے لیے مناسب حالات فراہم کیے جانا ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں جمہوریت کا پودا مکمل جڑ پکڑ چکا ہو۔ حکمران اقتدار کو اپنے خزانے بڑھانے کے بجائے عوام کی خدمت اور فلاح کا ذریعہ سمجھتے ہوں۔ ان کی کارکردگی مثالی نہ سہی کم از کم معیاری ضرورہو۔

یہ سب چیزیں خود سویلین میں بتدریج پیدا ہوں گی۔ تین الیکشن مزید ہونے دیں، یہ ساری چیزیں پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی۔ اس کے بعد ہم سول سپرمیسی کا دور بھی دیکھ لیں گے۔ ورنہ ابھی اگر سول سپر میسی آ بھی گئی تو سوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا کہ ایک نوعیت کی سویلین آمریت قائم ہوجائے گی۔

حکمرانوں سے گزارشات

ان اصولی باتوں کے بعد حکمرانوں کی خدمت میں کچھ گزارشات۔ اس الیکشن میں عمران خان صاحب بائیس سال کی طویل جدوجہد کے بعد ملک کے نئے وزیراعظم بن رہے ہیں۔ مرکز کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ان کی حکومت قائم ہورہی ہے۔ کے پی کے میں ان کی جماعت حکومت میں ہونے کے باوجود دوبارہ اقتدار میں آرہی ہے۔ بلوچستان میں وہ مخلوط حکومت کا حصہ ہیں۔ جبکہ سندھ میں پی ٹی آئی شہری علاقوں خاص کر کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

اس لحاظ سے ان پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوچکی ہے۔ وہ ان ذمہ داریوں کو کیسے پورا کرتے ہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ مگر ہم دل کی گہرائیوں سے دعا گوہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس ملک کے لیے خیر و برکت کا باعث بنائیں۔ اس حوالے سے ان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوگی کہ جس کرپشن کے خلاف انھوں نے ایک فضا بنائی ہے، اپنی حکومت میں اس کا خاتمہ کریں۔ وہ اپنے وعدوں اوردعووں میں سے آدھے بھی نبھادیں تو ملک بہت آگے بڑھ جائے گا۔ سیاست میں تو عمران خان نے اپنے وعدوں کے برخلاف مروجہ چلن اختیار کرلیا ہے۔ ان کے حامی بھی یہ کڑوا گھونٹ اس مید پر پی گئے کہ وہ گڈ گورننس سے اس کا ازالہ کردیں گے۔ مگر سیاست کے بعد حکومت میں بھی انھوں نے مروجہ چلن کو اختیار کیا تو پھر ان کا اور پاکستان دونوں کا مستقبل کوئی اچھا نہیں ہے۔

ان کی دوسری ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ جذبات میں آکر غیر ضروری محاذ نہ کھولیں۔ اپنی توجہ معیشت، گڈ گورننس، میرٹ ،عوامی فلاح و بہبود اور سویلین سطح پر قانو ن کی بالا دستی پر رکھیں۔ وہ اگر مکمل اختیار کی خواہش میں طاقتور طبقات سے ٹکرائیں گے تو ان کا تو جو نقصان ہوگا سو ہوگا، ملک کا بھی بہت نقصان ہوگا۔

عمران خان کی تیسری اور عوامی سطح پر سب سے بڑی ذمہ داری کراچی کی ترقی ہے۔ عمران خان اگر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے ہیں تو اس کی ایک اہم وجہ کراچی کے عوام کا ان کو اکثریت سے منتخب کرنا ہے۔ کراچی کے عوام نے نہ صرف قوم پرستی کی آوازوں کو رد کرکے قومی دھارے میں خود کو شامل کیا ہے بلکہ تاریخ میں پہلی دفعہ کراچی سے جیتنے والی جماعت اقتدار میں بھی ہے۔ اگر اس کے نتیجے میں بھی کراچی میں کوئی بڑی بہتری نہ آئی تو پھر جوصورتحال یہاں پیدا ہوگی، اس میں ملک کے لیے کوئی خیر و فلاح نہیں ہے۔

اپوزیشن سے گزارشات

اس دفعہ پارلیمنٹ میں بہت مضبوط اپوزیشن موجود ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ شکست کے بعد اپوزیشن نے سڑکوں پر احتجاج کے بجائے پارلیمنٹ کو ترجیح دی ہے۔ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے اور ایک دور کی اپوزیشن کو دوسرے دور میں حکومت میں آنے میں دیر نہیں لگتی۔ اصل چیز یہ ہے کہ مخالفت برائے مخالفت کے بجائے تعمیری تنقید اور عوام کی فلاح پر مبنی قانون سازی کو یقینی بنایا جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگ قانون سازی کی اہمیت سے واقف نہیں۔ مہذب دنیا میں تو پارلیمنٹ کا صرف ایک ہی کام ہوتا ہے کہ عوام کی مشکل کو دور کرنے اور ان کی فلاح کے لیے مسلسل قانون سازی کرتی رہے۔ یہ اصل میں اپوزیشن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ چُن چُن کر ان ایشوز کو ڈھونڈتی ہے جہاں عوام کی مشکلات دور ہوں۔ پھر وہ اپنی اسی کارکردگی کو اگلے الیکشن میں پیش کرکے ووٹ لیتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں اس بات کا شعور نہ عوام کو ہے نہ سیاسی جماعتوں کواپوزیشن کا اصل کام کیا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اپوزیشن کا مطلب تو سیاسی ہنگامہ آرائی اور مخالفت برائے مخالفت کے سوا کچھ نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اس رویے کو بدلا جائے اور عوامی فلاح پر مبنی قانون سازی کو اپوزیشن اپنا مسئلہ بنائے۔

دوسری گزارش ن لیگ اور خاص کر مریم بی بی کی خدمت میں کہ مسلم لیگ کے تمام تر مستقبل کا انحصار ان ہی کے فیصلوں پر ہے۔ مسلم لیگ کو اگر ایک حقیقی سیاسی جماعت کے طور پر زندہ رہنا ہے تو مریم بی بی کا اس میں بنیادی کردار ہوگا۔ مسلم لیگ کی قیادت میں وہ واحد ہستی ہیں جن پر براہ راست کرپشن کا کوئی حقیقی الزام نہیں۔ وہ اگر کوئی سمجھوتہ کرنے کے بجائے جیل میں رہناپسند کرلیں تو مستقبل انہی کا ہے۔ وہ اطمینان رکھیں کہ اس کے لیے انھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ ورنہ دوسرا راستہ کھلا ہوا ہے۔ اس راستے پر چل کر ان کی منزل تو انھیں قریب سے مل جائے گی۔ البتہ ملک و قوم کی منزل بہت دور جاپڑے گی۔

پیپلز پارٹی سے گزارش ہے کہ خدارا سندھ کو مفتوحہ علاقہ نہ سمجھیں۔ مراد علی شاہ ایک بہتر حکمران ہیں۔ ان کو مکمل اختیار دیں۔ وہ اس صوبے کو رول ماڈل بناکر دوبارہ پورے پاکستان میں اپنے قدم جماسکتے ہیں۔ وگرنہ دوسری صورت میں لیاری کی طرح باقی سندھ سے بھی ان کے قدم اٹھادیے جائیں گے۔

مذہبی جماعتوں سے صرف اتنی درخواست ہے کہ مذہب کے نام کے بجائے مذہب کی تعلیم کو اپنا مسئلہ بنائیں۔ لوگ آپ کی شکل میں صحابہ کرام کے کردار کودیکھیں۔ اس کے لیے اپنے کارکنوں میں سے سیاسی ذہن رکھنے والوں کی کردار سازی پر توجہ دیں۔ سیاست سیاستدان کا کھیل ہے۔ سیاستدان صاحب بصیرت ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ وہ صاحب کردار بھی ہو تو اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ ہم آپ سے اسی کی توقع رکھتے ہیں کہ آپ صاحب بصیرت بھی ہوں گے اور صاحب کردار بھی۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزیدخبریں