کیا آپ کو معلوم ہے ماضی میں مسافر جہازوں میں صرف مرد سٹیورڈ کام کرتے تھے، ائیر ہوسٹسز کو کیوں بھرتی کرنا شروع کیا گیا؟اصل وجہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

کیا آپ کو معلوم ہے ماضی میں مسافر جہازوں میں صرف مرد سٹیورڈ کام کرتے تھے، ...
کیا آپ کو معلوم ہے ماضی میں مسافر جہازوں میں صرف مرد سٹیورڈ کام کرتے تھے، ائیر ہوسٹسز کو کیوں بھرتی کرنا شروع کیا گیا؟اصل وجہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  

لندن(نیوز ڈیسک) آج کے دور میں فضائی میزبان کا مطلب وہ دلکش خواتین ہیں جو ہوائی جہاز میں مسافروں کی دیکھ بھال اور خدمت کا فرض سر انجام دیتی ہیں، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب فضائی میزبانی صرف اور صرف مردوں کا کام تھا؟ اس شعبے میں خواتین کا آنا کیسے ممکن ہوا، اور پھر یہ صرف اور صرف خواتین کا شعبہ کیسے بن گیا، یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔

ویب سائٹ ”برائٹ سائیڈ“ کے مطابق 1930ءسے قبل ہوائی جہاز کا تمام عملہ مردوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ دنیا کی پہلی خاتون فضائی میزبان ایلن چرچ تھیں جنہیں 1930ءمیں یونائیٹڈ ائیرلائن میں ملازمت دی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے سوچا کہ کیوں نا فضائی مسافروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے دلکش خواتین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ یہ حکمت عملی بہت ہی کامیاب رہی اور ہر ائیرلائن نے خواتین فضائی میزبان بھرتی کرنا شروع کر دیں۔ وقت کے ساتھ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اب فضائی میزبانوں کا شعبہ مکمل طور پر خواتین کا شعبہ سمجھا جاتا ہے۔

”برائٹ سائیڈ“ نے اپنی ایک ویڈیو رپورٹ میں فضائی سفر کے متعلق بہت سی دیگر دلچسپ باتوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ائیرہوسٹس ہوائی جہاز میں موجود ایک ویٹر ہے، لیکن دراصل ایسا بالکل نہیں ہے۔ آج کے دور میں ائیرہوسٹس کی اصل ملازمت پائلٹ کی معاونت ہے۔ بنیادی طور پر ان کا کام یہ ہے کہ جب پائلٹ جہاز اُڑارہا ہو تو وہ کیبن میں ہر چیز پر نظر رکھیں اور تمام حالات اور تبدیلیوں سے پائلٹ کو خبردار رکھیں۔ ان کی سب سے اہم ذمہ داری ایمرجنسی حالات سے نمٹنا اور کاک پٹ سے باہر پیش آنے والی کسی بھی غیرمعمولی صورتحال پر قابو پانا اور اس کے متعلق پائلٹ کو آگاہ کرنا ہے۔

دیگر فضائی عملے کی طرح ائیرہوسٹسوں کو بھی گھنٹوں کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے لیکن صرف ان گھنٹوں کیلئے جب وہ پرواز کررہی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب طیارہ ائیرپورٹ پر کھڑا ہو اور آپ پرواز کے اڑان بھرنے کے بے چینی سے منتظر ہوں، تو جیسے آپ کو یہ انتظار پسند نہیں اسی طرح فضائی عملے کو بھی بہت ناپسند ہے کیونکہ انہیں بھی اس انتظار کے پیسے نہیں ملیں گے۔

ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران سونے سے آپ کو ہر ممکن اجتناب کریں کیونکہ فضائی میزبانوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت آپ کو اہم ہدایات دی جاتی ہیں جن کا سننا آپ کی حفاظت کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے ، خصوصاً لینڈنگ سے پہلے۔

پروا زکے دوران کھانا پیش کیا جاتا ہے تو اکثر لوگ مچھلی کی بجائے چکن کھانا پسند کرتے ہیں اور عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب تک کھانا پیچھے بیٹھے مسافروں تک پہنچتا ہے تو چکن ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ائیرہوسٹسیں عموماً مسافروں کو بتاتی ہیں کہ یہ مچھلی بہت ہی خاص ہے اور اس پرواز میں خصوصی طور پر پیش کی جارہی ہے۔ یہ بات اکثر مسافروں کو چکن کی بجائے مچھلی لینے کی جانب مائل کردیتی ہے۔

فضائی سفر سے متعلق کچھ اہم باتیں یاد رکھنے کی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ طیارے کے فرش کو بہترین حالت میں صاف نہیں رکھا جا سکتا لہٰذا اس پر ننگے پہاﺅں مت چلیں۔ ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد بھی اپنے ہاتھوں کو جراثیموں سے پاک ضرور کریں۔ اپنے سامنے لگی ٹرے کو استعمال کرنے سے پہلے بھی اگر اینٹی بیکٹیریل ڈس انفیکٹنٹ استعمال کرلیں تو آپ کیلئے بہتر ہے۔ ڈائٹ کوک کو گلاس میں ڈالنا دوران پرواز کچھ زیادہ ہی مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بہت زیادہ بلبلے چھوڑتی ہے لہٰذا اگر آپ ائیرہوسٹس سے یہ مشروب نہ ہی مانگیں تو بہترہے۔ فلائٹ اٹینڈنٹ کو بلانے کیلئے بٹن دبانے کی بجائے آپ خود جاکر پانی کا گلاس مانگ لیں تو وہ اسے زیادہ پسند کرتی ہیں۔اور، اگر آپ اچھے اخلاق اور شائستگی کا مظاہرہ کریں گے تو فضائی میزبانوں کی جانب سے آپ کو دوسروں کی نسبت کہیں زیادہ بہتر سروس ملے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس