حکومت اشتہارات کیلئے اے پی این ایس ممبر ان کا خصوصی خیال رکھے،خوشنود علی خان

حکومت اشتہارات کیلئے اے پی این ایس ممبر ان کا خصوصی خیال رکھے،خوشنود علی خان

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) اے پی این ایس کی پنجاب کمیٹی کے چیئرمین خوشنود علی خان نے کہا کہ بڑے اخبارات ہمارے سر کا تاج ہیں میرا اور میری کمیٹی کا مسئلہ تو درمیانے درجے کے اورریجنل اخبارات کے مسائل ہیں ان مسائل کے حل کیلئے پی آئی ڈی، ڈی جی پی آر پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی لاہور سے بات کروں اور جو مسائل حل نہ ہوئے اس کیلئے بار بار بات کروں گا۔خوشنود علی خان نے کہا کہ میں اے پی این ایس کی قیادت سے سفارش کروں گا کہ لاہور میں اے پی این ایس کا ایک رابطہ دفتر قائم کریں جہاں اے پی این ایس پنجاب کے ممبر اخبارات کے مسائل پر فوری بات ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات ہمارا حق ہیں۔ پی آئی ڈی اور ڈی جی پی آر کو اشتہارات جاری کرتے وقت اے پی این ایس کے ممبر اخبارات کا خاص دھیان رکھنا چاہیے اور اے پی این ایس کے درمیانے اور ریجنل ممبر اخبارات کو ترجیحی بنیادوں پر اشتہارات جاری ہونے چاہئیں۔ چیئرمین پنجاب کمیٹی نے کہا کہ ہم بہت جلدپنجاب اور وفاقی حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر ایک تقابلی جائزہ پیش کرنا شروع کر دیں گے کہ کہاں کہاں اے پی این ایس کے ممبر اخبارات کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ خوشنود علی خان نے کہا کہ ہم آگے بڑھنے کیلئے پنجاب سے اس شعبہ کے بڑوں سے مشورہ کریں گے اور سید سرمد علی، حمید ہارون، عارف نظامی، ضیاء شاہد، جمیل اطہر، مجیب الرحمن شامی، میاں عامر محمود اور دوسرے ممبرز اخبارات کے مالکان سے مشورہ کر کے آگے چلیں گے۔ خوشنود علی خان نے کہا کہ وہ پنجاب کے اخبارات کے مسائل پر بہت جلد وفاقی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان، وفاقی سیکرٹری اطلاعات زاہدہ پروین، پی آئی او طاہر خوشنود، وزیر اطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال، سیکرٹری اطلاعات پنجاب راجہ جہانگیر انور اور ڈی جی پی آر پنجاب اسلم ڈوگر سے جلد ملاقات کروں گا اور اخبارات کو اشتہارات جاری کرنے کی پالیسی پر بات کروں گا، ممبران کی اس شکایت پر کہ احتساب کے نام پر پنجاب اور مرکز کے انفارمیشن سروس صوبے کی ہو یا مرکز کی یہ ہمارا حصہ ہیں۔ جلد چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب پنجاب، ڈی جی نیب راولپنڈی سے ملاقات کر کے انہیں اس صورتحال سے آگاہ کروں گا کہ آپ کی وجہ سے اخبارات کو اشتہارات جاری کرنے کا جو عمل متاثر ہو رہا ہے اسے دیکھا جائے، ہم احتساب کے خلاف نہیں لیکن انفارمیشن کے افسروں کو بے جا تنگ کرنا اچھی روایت نہیں۔چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ ان پر اے پی این ایس کی ایگزیکٹو نے جو بقایاجات کی وصولی کی ذمہ داری ڈالی ہے اس پر زور وشورسے کام شروع کر دیا ہے اور ریکوریاں بھی ہو رہی ہیں، اے پی این ایس پنجاب کمیٹی کے اجلاس میں سید سجاد بخاری، منیر جیلانی، محسن ممتاز، شاہد محمود، بلال محمود، سعدیہ شریف، احمد علی بلوچ، ہمایوں گلزار، عابد عبداللہ، فہد صفدر، محمد اویس خوشنود، راؤ امجد اقبال، یاور خلیقی، عمران اطہر، صفدر علی خان، عرفان شاہ، ایس تنویر، بزدار سرمدی، ڈاکٹر فاروق، شیراز علی و دیگر نے شرکت کی۔

خوشنود علی خان

مزید :

صفحہ آخر -