سلامتی کونسل میں تنازعہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، چینی سفیر

    سلامتی کونسل میں تنازعہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، چینی سفیر

  

اسلام آباد (آئی این پی)چین نے بھارت کی طرف سے جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاہے کہ کہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدے موجود ہیں جن میں اس متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی اقدار کا احترام کیاجانا چاہئے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت امن واستحکام اور کشمیر کے لوگوں کیلئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائے گا۔اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعہ کشمیر پر چین کے کردار کے بارے چینی سفیر نے کہا کہ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور امن واستحکام کیلئے ہماری خصوصی ذمہ داری ہے۔ جمعرات کو سرکاری نشریاتی ادارے کو انٹرویو چینی سفیر یا جنگ نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدے موجود ہیں جن میں اس متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی اقدار کا احترام کیاجانا چاہئے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت امن واستحکام اور کشمیر کے لوگوں کیلئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائے گا۔اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعہ کشمیر پر چین کے کردار کے بارے میں ایک سوال پر چینی سفیر نے کہا کہ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور امن واستحکام کیلئے ہماری خصوصی ذمہ داری ہے۔ اس سے قبل ''چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فروغ میں ذرائع ابلاغ کا کردار '' کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور چین انصاف اور بین الاقوامی اقدار اور عالمی قوانین کے تحفظ کیلئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خطے میں امن واستحکام تمام علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ امن واستحکام برقرار رکھنا، اس کا تحفظ اور فروغ پاکستان، چین اور خطے کے دیگر ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یاؤ جنگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جانی چاہئے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ یہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں صنعتی تعاون اور سماجی شعبے کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی معاشرے کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے اورتعلیم،صحت کے فروغ اور غربت کے خاتمے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی شعبے کے تحت ستائیس منصوبے مکمل کئے جارہے ہیں۔

چینی سفیر

مزید :

علاقائی -