چین، جنسی جرائم میں ملوث افراد کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی

  چین، جنسی جرائم میں ملوث افراد کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی

  

بیجنگ(آئی این پی/شِنہوا)چین میں بچوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث افراد کو تعلیمی اداروں میں بھرتی کیلئے بلیک لسٹ کردیا جائیگا۔اس سلسلے میں جنسی جرائم میں ملوث افراد کے اعدادوشمار جمع کیے جارہے ہیں۔اس کا اعلان گزشتہ روز یہاں سپریم پیپلز پرکیوریٹوریٹ کے سینئر پراسیکیوٹر شی وہی ژونگ نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کوششوں کے نتیجے میں بچوں کیساتھ جنسی جرائم روکنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چھوٹے بچوں کے خلاف جنسی جرائم اورنازیبا رویے کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔تاہم جنسی خلاف ورزی کے مقدمات بہت زیادہ ہیں ان کا زیادہ ترارتکاب ایک دوسرے کو جاننے والے افراد ہی کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ان جرائم کو روکا جائے اور بچوں کے ساتھ پیشہ ورانہ اداروں قریبی رابطے روکے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی کے ضلع من ہانگ میں اس سلسلے میں حکام نے کافی کام کیا ہے اور 2017میں ایک پروگرام کے ذریعے بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے تعلیمی،تربیتی،طبی دیکھ بھال،سماجی امداد، تفریحی،کھیلوں اور لائبریریوں میں ایسے افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔جنوری میں 38سو افراد کو اس سلسلے میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے جبکہ ان اداروں میں 11ہزار افراد کی جان پڑتال کی گئی۔

مزید :

علاقائی -