مشال ایوب کے چین سوئمنگ فینا چیمپئن شپ میں 955پوائنٹس  

  مشال ایوب کے چین سوئمنگ فینا چیمپئن شپ میں 955پوائنٹس  

  

لاہور(اسٹاف رپورٹر)بلقیس و عبدالرزاق داؤد فاؤنڈیشن(بی اے آر ڈی) کی سپورٹ کردہ تیراک مشال ایوب کو پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کی جانب سے حال ہی میں گوانگزو میں ہونے والی 18ویں FINA WORLD AQUATICSچمپئن شپ کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔کسی بھی تیراک کیلئے اولمپکس میں شریک ہونے کیلئے FINAجیسے بڑے ایونٹ میں شرکت ضروری ہے۔مشال نے مجموعی طور پر اس ایونٹ میں 955 FINAپوائنٹس حاصل کئے،جس میں انہوں نے 100میٹر کے فری اسٹائل مقابلے میں 1:05سیکنڈ کے وقت کے ساتھ اپنے ریکارڈ کو بہتر کیا،انہیں امید ہے کہ مستقبل میں وہ اس ٹائم میں مزید بہتری لائیں گی اور وہ اپنی اس کارکردگی کا کریڈٹ اپنے کوچ اور بلقیس و عبدالرزاق داؤد فاؤنڈیشن سمیت اپنی سپورٹ ٹیم کو دیتی ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر بیشتر کھیل عالمی سطح پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب نہیں رہے ہیں،جیسا کہ جاپان،امریکا،آسٹریلیا اور چین کے تیراک کارکردگی دکھاتے ہیں۔یہ انتہائی بدقستی ہے کہ پاکستان میں کھلاڑیوں کو اس طرح کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں جس طرح کی سہولیات کھلاڑیوں کو دیگر ممالک میں میسر ہیں اور اس کے باوجود ہم ملکی کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں،اور انہی تمام مسائل کو دیکھتے ہوئے بلقیس و عبدالرزاق داؤد فاؤنڈیشن نے اس کے تدارک کیلئے کوششیں کیں۔

۔مشال جن کی تربیت اور تیراکی کی تمام سرگرمیوں کو بلقیس و عبدالرزاق داؤد فاؤنڈیشن کی اسپانسر شپ حاصل ہے،کا بھی کہنا ہے کہ اسپورٹس مین اور خواتین کیلئے اس وقت مزید اسپانسر ز کی ضرورت ہے،اور اس ضمن میں بلقیس و عبدالرزاق داؤد فاؤنڈیشن کردار ادا کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔اس فاؤنڈیشن کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور ان کی مدد کرنا ہے اور اسپورٹس مین و خواتین کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔مشال ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جنہیں فاؤنڈیشن کی جانب سے تعاون اور اسپانسر ملی اور انہیں عالمی سطح کے مقابلوں میں شرکت کے قابل بنانے کیلئے Club Natacio Sabadellاسپین تربیت کیلئے بھیجا گیا۔مشال نے بتایا کہ اسپین میں تربیت کے دوران انہیں سارہ سوسٹروم،Caeleb Dressel,اور Katie Ledeckyجیسے تیراکوں کے ساتھ تیرنے کے شاندار تجربہ حاصل ہوا،17سالہ مشال ایوب کو گزشتہ برس بہترین کارکردگی کی بناء پر پاکستان کے دیگر دو ٹاپ تیراک بسمہ خان اور حسیب طارق کے ہمراہ FINAایونٹ کیلئے منتخب کیا گیا اور پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کی جانب سے آئندہ برس ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس کیلئے یقینی طور پر کم ازکم کسی دو تیراک کا انتخاب کیا جائیگا۔مشال ایوب کا کہنا ہے کہ اولمپکس میں شرکت کرنا یقینی طور پر ہر ایک کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے،ورلڈ چمپئن شپ میں شرکت کرکے مجھے تجربہ حاصل ہوا ہے جو کہ یقینی طور پر اولمپکس میں میرے کام آسکتا ہے۔ہمیں عالمی سطح پر سوئمنگ مقابلوں میں بہترین کاکردگی دکھانے کیلئے بہتر اسپورٹنگ اسٹریکچر اور تیراکی سے متعلق مزید وسائل حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا خیال تھا کہ نوجوانوں کو تیراکی اور کرکٹ سے ہٹ کر دیگر کھیلوں کی جانب راغب کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت ہے،ایک وسیع پول بنایا جائے جہاں زیادہ ٹیلنٹ کے حامل افراد کا انتخاب کیا جائے۔اسکول میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں بہتری لائی جائے اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر مزید پولز فراہم کئے جائیں اور کوچز کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ تیراکی ایک انتہائی تکنیکی کھیل ہے جو تیزی سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اس ایونٹ میں پاکستان کے دیگر تیراک بسمہ خان اور حسیب طارق نے بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا،حسیب طارق نے 100میٹر فری اسٹائل میں ملکی ریکارڈ توڑا جبکہ بسمہ خان اپنے ذاتی ریکارڈ کے قریب ترین پہنچنے میں کامیاب رہیں۔مشال اور دیگر ایتھلیٹس اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس مقصد کے پس پشت افراد کے انتہائی شکر گذار ہیں۔اسپورٹس مین اور پاکستانی خواتین پر امید ہیں کہ اس اقدام کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا اور مزید ایتھلیٹس کی معاونت کا باعث بنے گا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -