مریم نواز شریف کی گرفتاری

مریم نواز شریف کی گرفتاری

نیب نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کو گرفتار کر لیا ہے،نیب نے اُنہیں چودھری شوگر ملز کیس میں آج طلب کیا تھا،لیکن پیشی کے طے شدہ وقت سے پہلے ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا، وہ کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے لئے پہنچیں تو اُنہیں حراست میں لے کر نیب دفتر پہنچا دیا گیا،نیب نے نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی حراست میں لے لیا ہے،اُنہیں بھی آج (جمعرات) نیب آفس طلب کیا گیا تھا،دونوں کو کل(جمعہ) احتساب عدالت میں ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے گا، مریم نواز کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز شریف کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لڑنا ہے تو مردوں سے لڑیں۔

بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے جو اقدامات کئے تھے، اس کے بعد اپوزیشن نے پہل کرتے ہوئے حکومت کو یکجہتی کا پیغام دیا تھا قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو خطاب کیا اس میں تعاون کا جذبہ جھلکتا تھا،دوسری اپوزیشن جماعتوں نے بھی مجموعی طور پر حکومت سے کہا کہ اس موقع پر کشمیری عوام کو یہ متفقہ پیغام جانا چاہئے کہ قوم متحد ہو کر اُن کے ساتھ کھڑی ہے،لیکن مقامِ افسوس ہے کہ ابھی ان الفاظ کی گونج فضا ہی میں موجود تھی کہ اپوزیشن کے حکومت کی جانب بڑھے ہوئے دستِ تعاون کو بُری طرح جھٹک دیا گیا۔ اب مریم نواز کی گرفتاری کے بعد نہ تو اپوزیشن حکومت کے ساتھ مزید تعاون کی کوئی بات کر سکتی ہے، اور نہ ہی حکومت کو ایسی کوئی امید رکھنی چاہئے۔

جس کیس میں مریم نواز کو گرفتار کیا گیا ہے وہ کافی عرصے سے زیر تفتیش تھا اور ابھی تفتیش کا یہ سلسلہ جاری بھی رکھا جا سکتا تھا،عجلت میں اس گرفتاری کی کوئی ضرورت نہ تھی،لیکن گرفتار کر کے حکومت نے اپوزیشن کو شاید یہ پیغام دینا ضروری سمجھا ہے کہ اُسے حزب اختلاف کے کسی قسم کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنا تعاون اپنے پاس ہی رکھے، حالات جیسے بھی ہوں حکومت اپنے پروگرام کے مطابق ہی آگے بڑھتی رہے گی اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی رُکنے میں نہیں آئے گا۔گزشتہ چند دِنوں سے اس گرفتاری کا خدشہ اس لئے بھی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مریم نواز کے جلسے جلوس اور ریلیاں بھی شاید توقع سے زیادہ کامیاب جا رہی تھیں وہ ریلی کی شکل میں پاکپتن شریف گئیں تو رات دو بجے وہاں پہنچیں اور اُسی وقت خطاب کیا،لوگ آدھی رات کے بعد بھی اُن کا خطاب سننے کے منتظر تھے اور انہوں نے جوش و خروش سے یہ تقریر سنی۔ اگرچہ ٹی وی چینل جو دھرنوں کی پندرہ پندرہ، بیس بیس گھنٹوں کی لائیو کوریج کا نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ رکھتے ہیں، ایسی ریلیوں کی ایک معمولی سی جھلک دکھاتے ہوئے بھی شرماتے ہیں، تاہم لوگوں تک مریم نواز کا پیغام کسی نہ کسی شکل میں پہنچ رہا ہے اور جو لوگ براہِ راست ریلیوں، جلسوں اور اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں اُن کے پاس بھی موبائل فون ہوتے ہیں،جن کے ذریعے وڈیوز کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہیں اور لوگوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ جلسوں میں جوش و جذبے کی کیا کیفیت تھی، خوشاب اور سرگودھا کے جلسے بھی ہر لحاظ سے کامیاب و کامران تھے، لگتا ہے ان جلسوں کی غیر معمولی کامیابی اور پذیرائی کی وجہ سے جلد بازی میں مریم نواز کی گرفتاری کا فیصلہ کرنا پڑا،حالانکہ گرفتاری کی ٹائمنگ بہت ہی نامناسب ہے اور اس کی وجہ سے مفاہمت کی اس فضا کو بُری طرح جھٹکا لگا ہے،جو حکومت اور اپوزیشن میں چند روز قبل پیدا ہوئی اور امید کی جا رہی تھی کہ یہ جذبہ آگے بڑھے گا،لیکن ایسا لگتا ہے حکومت کے اندر بعض عناصر چاہتے ہیں کہ اس کی اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی اور اٹ کھڑکا جاری رہے،اِس لئے جونہی ایسی فضا پیدا ہوتی ہے اسے سبوتاژ کرنے کے حالات بھی ساتھ ہی پیدا ہو جاتے ہیں۔

اس گرفتاری کی جتنی بھی تاویلیں کی جائیں اور کوئی کچھ بھی کہے یہ بہرحال ایک سیاست دان کی سیاسی گرفتاری ہے اس کے محرکات میں سب سے بڑا محرک وہ کامیاب ریلیاں ہیں،جن کا پہلے تو میڈیا بائیکاٹ کروایا گیا اور اس طرح یہ سمجھ لیا گیا کہ اب کوئی ان ریلیوں میں نہیں جائے گا،لیکن بائیکاٹ کے بعد ریلیوں کے شرکا کا جوش و جذبہ پہلے سے بھی سوا ہو گیا،حاضری بھی پہلے سے بڑھ گئی،اِس لئے بہت سے ماتھوں پر گہری شکنوں کی آمد تو ہونی تھی،کیونکہ جو راوی چین ہی چین لکھ رہے تھے وہ ان وڈیوز کی کیا توجیحات پیش کرسکتے تھے جن میں لوگ آدھی رات کو بھی جلسہ سننے کے لئے موجود ہوتے ہیں،جو ترجمان اپنے دِل کی تسلی کے لئے ان ریلیوں کو ”جلسیاں“ کہہ رہے ہیں خود اُنہیں بھی اپنے ”دل کی گہرایوں“ میں حقیقت کا اچھی طرح ادراک ہے۔اُن کا اگر یہ خیال تھا کہ محض میڈیا بائیکاٹ سے یہ سلسلہ رُک جائے گا تو بھی یہ خیال خام ثابت ہوا ہے اِس لئے انہوں نے بالآخر ہرچہ باداباد کے طور پر گرفتاری کا فیصلہ ہی کر لیا اور غالباً اب مطمئن ہو گئے ہوں گے،لیکن اس میں اُن کے اطمینان کا نہیں، پریشانیوں کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔

مریم نواز جب بھی دوبارہ عوام میں آئیں گی اُن کا پہلے سے بھی زیادہ گرمجوشی سے استقبال کیا جائے گا،کیونکہ کسی نے بھی یہ گولی نہیں خریدی کہ ”کرپٹ لوگوں“ کا استقبال نہیں ہونا چاہئے،ماضی میں بھی اسی طرح کے حربے ہمیشہ ناکام ہی ہوئے ہیں،اِس لئے اگر کسی نے یہ سوچ رکھا ہے کہ اب کی بار ناکامی نہیں ہو گی تو وہ یا تو سیاسی تاریخ سے بے بہرہ ہے یا اس نے اپنی خواہشات ہی کو سیاست کا نام دے رکھا ہے،جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ اس طرح کے اقدامات سے وہ نتائج اخذ نہیں کرتے، جو گرفتاریاں کرنے والے کر رہے ہوتے ہیں،اِس لئے جن لوگوں نے میڈیا بائیکاٹ کا ہتھیار استعمال کیا اُنہیں جلد ہی معلوم ہو گیا کہ ایسے بائیکاٹ کا مثبت نتیجہ نہیں نکلتا،جب پاکستان میں نیوز چینل سرے سے ہی نہیں تھے اور سرکاری ٹیلی ویژن پر صرف من پسند تصویریں ہی دکھائی جاتی تھیں اور کسی ہڑتال کی خبر چند کھلی ہوئی دکانیں دکھا کر اس طرح دی جاتی تھی کہ شہر میں دکانیں کھلی رہیں،لوگوں نے بائیکاٹ پر توجہ نہیں دی،اس وقت بھی کامیاب ہڑتالیں ہوتی تھیں،کامیاب ریلیاں نکلتی تھیں، کامیاب سیاسی جلسے ہوتے تھے اِس لئے اب چند چینلوں کو ہراساں کر کے”کوریج سے روک کر “یہ نتیجہ نکال لینا کہ لوگ چُپ کر کے گھروں میں دم سادھ کر بیٹھ جائیں گے پرلے درجے کی سادگی ہے، تاریخ یہ ہے کہ چینلوں کے بغیر بھی سیاسی تحریکیں کامیاب ہوتی رہی ہیں تو اب سوشل میڈیا کے دور میں سیاسی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا نتیجہ دکھا سکتا ہے۔ یہ بھی چند دنوں ہی میں معلوم ہو جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ