چینی سفیر اور شہباز شریف کی ملاقات!

چینی سفیر اور شہباز شریف کی ملاقات!

پاکستان اور چین کے تعلقات میں یوں تو ہر شعبے میں گرم جوشی پائی جاتی ہے، تاہم سی پیک کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، معاصر کے مطابق گزشتہ روز قائد حزبِ اختلاف محمد شہبازشریف اور چین کے سفیر یاؤ ینگ کے درمیان ملاقات ہوئی تو دونوں نے اس کا اعتراف کیا،چینی سفیر کے مطابق پاک چین دوستی میں سی پیک منصوبہ ایک تابناک باب ہے،جبکہ محمد شہباز شریف نے پاکستان کے لئے چینی خدمات کو سراہا اور کہا پاک چین دوستی بے مثال ہے اور چین نے ہر مرحلے پر پاکستان کے ساتھ تعاون کیا،اس ملاقات میں تنازعہ کشمیر کا بھی ذکر ہوا اور چینی سفیر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے خطے کے امن اور استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔چینی سفیر کا یہ بیان حکومت ِ چین کے سرکاری موقف کے بعد آیا،جس میں بھارت پر شدید نکتہ چینی کی گئی تھی، پوری دُنیا سے جو بھی پیغامات آئے ان میں چین کا بیان اپنی خصوصی اہمیت رکھتا ہے جو مبنی برانصاف بھی ہے،اس ملاقات میں سی پیک کا جو ذکر ہوا تو یہ حقیقت ہے کہ اس منصوبے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے تاہم ان دِنوں سوشل میڈیا کے ذریعے غلط قسم کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ موجودہ حکومت اِس منصوبے میں وہ دلچسپی نہیں لے رہی،جس کی ضرورت ہے۔اگرچہ حکومت کی طرف سے ایک سے زیادہ بار وضاحت کی گئی اس کے باوجود افواہ سازی کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا،قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف سے ملاقات میں چینی سفیر نے جو گفتگو کی وہ چین کے اعتماد کی مظہر ہے تاہم حکومت پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس پروپیگنڈے کا سد ِباب کرے اور واضح کرے کہ سی پیک پر مقررہ ہدف کے مطابق کام جاری ہے۔جہاں تک جعلی خبروں اور افواہ سازی کا تعلق ہے تو اس کا سد ِباب ہونا چاہئے جو اس طرح ممکن ہے کہ خبروں کی اشاعت اور نشریات کو بلاوجہ نہ روکا جائے اور اگر کسی خبر کے بارے شکایت ہو تو اس کے جواب میں مکمل طور پر وضاحت کی جائے اور اس کا جواب دیا جائے اس طرح بھی جھوٹی خبروں اور افواہ سازی کا سد ِباب ہو گا۔بہرحال چین کے سفیر کی طرف سے سی پیک کے حوالے سے اطمینان اور بھارت کے غیر انسانی اعمال اور اقدامات کی مذمت قابل ِ تعریف ہے کہ چین نے ہر آزمائش میں ساتھ دیا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ