حریت رہنماؤں کی قربانیاں نہ بھولیں

حریت رہنماؤں کی قربانیاں نہ بھولیں
حریت رہنماؤں کی قربانیاں نہ بھولیں

  

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی قوانین، روایات، سلامتی کونسل کی قرارداد اور پاک بھارت باہمی معاہدوں کو روندتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جو قدم اٹھایا اس سے نہ صرف برصغیر اور جنوبی ایشیا،بلکہ دُنیا کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے، جہاں تک دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا تعلق ہے تو دوستی کا چشمہ بھی سراب ثابت ہوا ہے اور دونوں اطراف میں امن پسند لوگ تشویش میں مبتلا ہیں کہ ہمسایوں کو باہمی رابطہ کو بہتر بنانا ہوتا ہے،لیکن یہاں یکطرفہ طور پر تمام اہم اور اخلاتی اصولوں کو بھی پامال کر دیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں اس وقت ایسی صورتِ حال ہے کہ وہاں رہنے والے خاندانوں کے وہ افراد جو دُنیا کے مختلف ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ انتہائی پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ کینیڈا میں بسے ہمارے صاحبزادے کے ایک دوست نے اپنے پیغام میں بتایا کہ بھارت کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا مواصلاتی رابطہ قطعی طور پر منقطع کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹیلیفون سروسز بالکل بند ہیں۔کوئی پیغام آیا جا نہیں سکتا۔ دوسری طرف سرحد پار (کنٹرول لائن) کے ذریعے ملنے والی اطلاعات یا بھارت میں موجود لوگوں سے مواصلاتی رابطوں کے ذریعے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ کشمیری موت کے خوف سے لاپرواہ ہو کر سڑکوں پر آ کر مظاہرے کر رہے ہیں اور ان نہتے شہریوں پر آنسو گیس، پیلٹ گنوں اور رائفلوں سے فائرنگ کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ کتنے لوگ شہید ہوئے،کتنے زخمی اور کتنے گرفتار کئے گئے۔

جہاں تک جدوجہد کشمیر کا تعلق ہے تو وانی کی شہادت سے جو لہر اٹھی اس نے کشمیری نوجوانوں کو مرنے مارنے پر آمادہ کر دیا تھا اور اب یہ نوجوان ہی بھارتی استبداد کا مقابلہ کر رہے ہیں۔بھارتی حکومت نے تازہ اقدام سے پہلے حریت کانفرنس اتحاد کے تمام رہنما گرفتار کر لئے یا ان لوگوں کو نظر بند کر دیا تھا۔ علی گیلانی بزرگ اور کمزور ہیں ان کو ان کی رہائش پر نظر بند کیا ہوا ہے،جبکہ یاسین ملک کو تہاڑ جیل منتقل کر دیا تھا۔میر واعظ عمر فاروق بھی مسلسل نظر بند ہیں، مساجد میں نماز بھی نہیں پڑھنے دی جاتی،کشمیری رہنما بھارت سے آزادی کے لئے جمہوری اور پُرامن تحریک چلائے ہوئے ہیں وہ اپنا حق مانگتے ہیں کہ ان کو حق رائے دہی دیا جائے، جس کا وعدہ خود بھارت کے پنڈت جواہرلال نہرد نے سلامتی کونسل میں کیا اور کونسل کی قرار داد منظور کی تھی، کونسل کا یہ اجلاس بھی پنڈت جواہرلال نہرو ہی کی درخواست پر ہوا تھا۔ وہ وقت ایسا تھا جب مجاہدین جہاد کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے قریب تھے ہمارے والد محترم جو اس جہاد میں بہ نفس شریک تھے بتایا کرتے تھے کہ مجاہدین کٹھوعہ کے پُل کے قریب پہنچ چکے تھے اگر جنگ بندی نہ کرائی جاتی تو یہ پُل توڑ کر بھارتی رسد کا سلسلہ بند کیا جانا تھا، اور ہو جاتا، اس وقت یہ بھی ضرورت تھی کہ پاکستان کی جو بھی فوج ہے اس کا دستہ یا بٹالین مجاہدین کی مدد کو پہنچتی اور سری نگر کے اردگرد بھارتی فوجیوں کو للکارتی جن کی کم تعداد (ابتدا میں) ہوائی راستے سے سری نگر پہنچی تھی، سلامتی کونسل کی مداخلت پر جنگ بندی ہو گئی اور جتنا علاقہ آزاد کرایا گیا تھا آج بھی آزاد کشمیر ہے۔

جہاں تک خود کشمیری مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کی تیسری نسل جوان ہو کر آزادی کی جدوجہد کر رہی ہے اور قربانیاں دے رہی، افسوس کا مقام ہے کہ عالمی ضمیر بیدار نہیں ہوتا، حتیٰ کہ ہمارے اسلامی بھائی بھی اپنا جھکاؤ بھارت کی طرف رکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے بھارت میں سفیر نے واضح طور پر معاملہ بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دے دیا ہے، جبکہ سعودی عرب سے بھی توتعات پوری نہیں ہوئیں، ملائشیا اور ترکی نے حمایت کی تاہم جیسے توقع تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ امریکہ کا رویہ سابقہ ہے دوغلے پن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے کوئی توقع وابستہ کی گئی تو وہ سراب ثابت ہوگی۔

یاد آیا 1970-1971ء میں بھی چرچا تھا کہ امریکہ کا ساتواں بیٹرا آ گیا، تعاون کرے گا، لیکن وہ بدنصیب دن آ گیا جب جنرل نیازی نے بھارت کی مسلح افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ پلٹن میدان ڈھاکہ کی یہ خبر پاکستان پہنچی تو یہاں ہم سب چیخیں مار کر رو پڑے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ اس روز ہم روز نامہ ”مساوات“ کے رپورٹنگ روم میں تھے جب محمد حنیف رامے (مرحوم) اپنے کمرے سے نکل کر آئے اور آنسو بہاتے ہوئے چیخ کر ہمارے بڑے بھائی جیسے محترم شفقت تنویر مرزا (مرحوم) سے مخاطب ہوئے۔”کہاں ہے ساتواں بیٹرہ، جس کا چرچا تھا“ فضا ایسی تھی کہ ہر کوئی اشکبار تھا۔

ہمیں اس سلسلے میں یہ گزارش کرنا ہے کہ ہمارے دوست نجم الحسن عارف نے توجہ دلائی وہ کہتے ہیں ہم کیسے لوگ ہیں کہ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ اب نظر بند ہوئے اور ان کو بھارتی یکطرفہ اقدام سے تکلیف پہنچی تو انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا کہ بھارت پر بھروسہ کرنے میں کوتاہی اور نقصان ہوا یہ وہ لوگ ہیں جو بھارت کی نام نہاد جمہوری چال میں ان کے معاون رہے اور اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں کہ ان کا وہ مستقبل بھی محفوظ نہیں رہا،جو بھارت کے ساتھ مل کر تھا اور یہ مقبوضہ کشمیر کے نام نہاد انتخابات کے ذریعے حکومت کرتے تھے۔ نجم الحسن کا کہنا ہے کہ ہم بھولے لوگ ہیں کہ یکایک ان کی تعریف شروع کر دی۔ علی گیلانی میر واعظ، یاسین ملک شبیر شاہ جیسے حریت لیڈر کا ذکر ہی کم کر دیا جو اب بھی مصائب برداشت کر رہے ہیں یہ درست ہے ہمیں ان حضرات سے توبہ کی توقع ہے تو ہم ان حضرات پر کیوں کم توجہ دے رہے ہیں، جن کی عمر پابندیوں اور جیل میں گذر گئی اور ان کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ یقینایہ وقت اپنے پرائے کی تمیز کا بھی ہے۔

ہم نے گذشتہ روز ذکر کیا تھا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی باقاعدہ کوریج کا اعزاز حاصل ہے ہمیں اس وقت کی زمینی کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ نوجوان آفسروں اور جوانوں کی جوانمردی اور بہادری کا بھی علم ہے۔ تجر بات بہت صدمے والے بھی ہیں۔ تاہم یہ فخر ہے کہ کم وسائل کے باوجود ہماری بہادر افواج نے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیئے تھے۔ اب بھی ہمیں یقین ہے کہ ہماری افواج کے جوان جذبہ جہاد سے سرشار ہیں تاہم خوف جدید دور کے اسلحہ کا ہے اور دُعا یہ ہے کہ ایسی نوبت نہ آئے،جبکہ بھارتی وزیراعظم کی ہٹ دھرمی اور ہندوتوا کے فلسفے کے باعث یقین موجود ہے۔ اِس لئے ہمیں ذہنی طور پر تیار ہونا چاہے کہ جنگ ہو تو پوری قوم 1965ء ہی کی طرح سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کامیاب تھا۔ سیاسی جماعتوں اور رہمناوں سے گذارش کہ تحفظات اپنی جگہ دفاع پاکستان میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

مزید :

رائے -کالم -