تاریخ درست کرنے کا وقت

تاریخ درست کرنے کا وقت
تاریخ درست کرنے کا وقت

  

ممتاز کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے چند دن پہلے کرہ ارض پر بسنے والے تمام مسلمانوں کو خبردار کرتے ہوئے بڑے دلگیر لہجے میں فرمایا تھا کہ دنیا کے آزاد لوگو، خود کو مسلمان کہنے والو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے کچھ کرسکتے ہوتو فوراً کچھ کرنے کی کوشش کرو۔ آج بے یارو مدد گار نہتے ہونے کے سبب ہم سب مر گئے آپ چپ چاپ دیکھتے رہے، صرف مذمتی بیان دیتے رہے یا اخلاقی مدد کے نعرے بلند کرتے رہے تو بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کرتا رہے گا۔ یہ صرف اخلاقی مدد کا وقت نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ درست کرنے کا وقت ہے اور ہندوو بنیے کو یہ بتا دینا چاہئے کہ مسلمانوں کو کبھی کوئی ظالم جابر دبا کے نہیں رکھ سکا۔ بزرگ حریت رہنما نے کہا کہ اگر آج یہ ظلم دیکھنے کے بعد بھی مسلمان خاموش رہے تو آپ اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ بھارت تاریخ کا بدترین قتل عام، نسل کشی شروع کرنے جارہا ہے۔ ان کے گرفتاری سے پہلے آخری لفظ تھے کہ اللہ رب العزت سب کو محفوظ رکھے۔ ہندوستان میں جب سے یہ شدت پسند حکومت برسر اقتدار آئی ہے انہوں نے مسلمانوں کے لئے بھارت میں زندہ رہنا مشکل ترین بنا دیا ہے۔ مودی کے پچھلے دور میں بھارت میں مسلمانوں کو زندہ جلایا جاتا رہا۔ بھارت میں مسلمانوں کے لئے مذہبی تہوار پر قربانی کرنی ناممکن بنا دی گئی۔

دنیا کو بڑا گوشت فروخت کرنے میں سب سے اوپرکے نمبروں پر رہنے والا بھارت مسلمانوں کو گائے قربانی کے نام پر روز مارتا رہا۔بھارت کے ہندووں کے ذہن پر مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کا خوف کچھ اس طرح سوار ہو چکا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت سے مسلمان کہیں چلے جائیں یا انہیں وہ مار دیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں قیام پاکستا ن سے پہلے کے واقعات نظر آتے ہیں جب انگریز دور میں ہندووں نے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور انگریز کے جانے کے بعد اس خطے پراکھنڈ بھارت بنانے کا سپنا دیکھنے لگے۔ اس دور میں بھی آج کی طرح بہت سے مسلمان راہنما ہندوؤں کے مکر و فریب میں آتے رہے، مگر حضرت اقبالؒ نے آنے والے وقت کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا اور قائد اعظمؒ نے ہر حربے کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان حاصل کر لیا۔ مگر تاریخ ہمیں یاد کراتی ہے کہ تقسیم کے وقت بھی ہندو اور عیسائی مسلمانوں کے خلاف ایک ایسا وار کر گئے جس سے ہم آج مشکلات کا شکار ہیں۔ پارلیمنٹ میں عمران خان کی تقریر بہت واضح تو نہ تھی مگر انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت کے اس عمل سے دو ملک جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

کشمیر میں پلوامہ طرز کا کوئی واقعہ دوبارہ رونما ہوسکتا ہے جس کی بنیاد پر بھارت پاکستان کے خلاف جنگ شروع کرسکتا ہے جس کا جواب ہمیں ہر حال میں دینا پڑے گا۔پاکستانی حکمرانوں کو سب اختلافات بھلا کر حقیقت میں متحد ہونا پڑے گا۔کچھ لوگ ہمیں جنگ سے ڈراتے نظر آتے ہیں۔لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا میں وہی قومیں اپنا وجود بچا پاتی ہیں جو اپنے وقار کے لیے ایک ہوجاتی ہیں۔ تاریخ ہمارا دامن کھینچتی ہے اور کہتی ہے۔ غرناطہ کا آخری حکمران عبداللہ جب فرڈینینڈ سے شکست کھانے کے بعد اپنے محل الحمراء سے باہر نکل کر آنسو بہا رہا تھا تو اس کی ماں نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ فتح آنسوؤں سے نہیں تلوار کی دھار سے لکھی جاتی ہے۔ مسلمانوں نے تاریخ سے یہی سیکھا ہے کہ دشمن کا پوری قوت سے مقابلہ کثرت تعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ اور عزم و ہمت کی بدولت بدر کے 313 سے لیکر احزاب، احد، قادسیہ، اور روما کی سلطنت کو الٹنے سے لیکر قسطنطنیہ کی فتح تک تاریخ میں مسلمانوں نے کبھی بھی کامیابی کثرت تعداد یا کثرت مال و زر کی بنیاد پر حاصل نہیں کی بلکہ کم وسائل اور قلت تعداد کے باوجود اللہ پر کامل یقین اور استقامت نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا طارق بن زیاد جب اپنے لشکر کو گھوڑوں سمیت دریا میں اتارتے ہیں کو کفار پر وہ دبدبہ طاری ہوتا ہے کہ وہ دیو آمدند (دیو آگئے) کے نعرے لگاتے بھاگ جاتے ہیں۔

تاریخ کے یہ حوالے شاید بہت پرانے ہوں لیکن اس صدی میں جب طالبان اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر سپرپاور امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتے ہیں تو پوری دنیا یک زبان ہوکرکہتی ہے یہ اپنے آپ کوہلاکت میں ڈال رہے ہیں لیکن تاریخ کا ورق الٹتا ہے اور وہی طالبان اس طرح فاتح بن کر ابھرتے ہیں کہ دو سپر پاور کو شکست دینے کے بعد مذاکرات اپنے ایجنڈے پر کرتے ہیں۔ 2005 میں پرویز مشرف کشمیر کی تقسیم کا فارمولا لیکر آگرہ جاتے ہیں سید علی گیلانی اس فارمولے کی مخالفت کرتے ہیں۔ پرویز مشرف طاقت کے نشے میں چور، مرد حر سید علی گیلانی کو ''پاگل بڈھا'' قرار دیتے ہیں۔ پاکستان سید علی گیلانی کی حمایت ترک کردیتا ہے۔ بھارت مرد حر پر عرصہ حیات تنگ کردیتا ہے لیکن تاریخ کا دھارا رخ بدلتا ہے اور 14 سال کے بعد آہنی عزم و ہمت والے 90 سالہ سید علی گیلانی کا موقف درست ثابت ہوتا ہے اور مشرف کے موقف کو پوری حکومت اور دنیا بھر کی حمایت کے باوجود شکست ہوتی ہے۔

یاد رکھیں کشمیر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہے یہاں پر پسپائی پورے ملک پر پسپائی کے مترادف ہے۔ اہل کشمیر پر ایسا کڑا وقت شاید پہلے کبھی نہیں آیا لیکن ہمارے حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی اور غلط پالیسیوں نے یہ دن بھی دکھا دیا کہ کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے خدانخواستہ نکل رہا ہے۔ محض نعرے مارنے اور قرارداد مذمت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اب کشمیر کا فیصلہ میدان میں ہوگا۔ حضرت خالد بن ولید نے اپنے وقت وصال کہا تھا کہ دنیا کے بزدلوں کو بتا دو کہ اگر جنگ سے موت واقع ہوتی تو خالد بن ولید کو موت کبھی اپنے بستر پر نصیب نہ ہوتی۔ جناب عمران خان صاحب اگر آپ تاریخ کی درست جگہ کھڑے رہنا چاہتے ہیں تو اب اٹھنے کا وقت ہے پوری قوم آپ کے ساتھ ہے کشمیر کا معاملہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں کی جانب چلا گیا ہے اپنا فرض ادا کیجئے ورنہ پھر کوئی نہتا سید علی گیلانی تاریخ کی درست سمت کھڑا ہو کر تاریخ کا دھارا موڑ دے گا کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے۔فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر آپ غرناطہ کے عبداللہ ثابت ہوتے ہیں یا طارق بن زیاد۔

مزید :

رائے -کالم -