سید علی گیلانی کی صدا

سید علی گیلانی کی صدا
سید علی گیلانی کی صدا

  

آخرکار نریندرمودی نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا ہی دیا۔ انتخابی جلسوں میں لیڈر لوگ ووٹروں سے عجیب عجیب وعدے کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک وعدہ ہندو ووٹروں سے کیا گیا تھا کہ کامیاب ہونے کی صورت میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ سو مودی نے کہنے کی حد تک اپنا ایک بڑا انتخابی وعدہ پورا کر دیا ہے۔ مودی گروپ نے اقوام متحدہ کی قرارداوں، شملہ معاہدہ، کشمیریوں سے کئے معاہدے، سبھی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیر کاریاست کا درجہ ختم کرکے اسے اب بھارتی یونین یا آسان الفاظ میں بھارت میں ضم کردیا ہے۔ مودی گروپ کے اس قدم سے کٹر ہندو علاقوں میں جشن منائے جارہے ہیں،مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں۔ بھارت نے اپنی جانب سے ”مسئلہ کشمیر“ ایسے حل کیا ہے کہ اس کی ”مسئلہ“ کی حیثیت ہی ختم کردی ہے لیکن یہ اس کی بھول ہے، ”مسئلہ“ نہ صرف برقرار ہے بلکہ حالات اب اس نہج پر آ پہنچے ہیں کہ ”مسئلہ کشمیر کا حل، ابھی یا پھر کبھی نہیں“۔

گجرات کے چار ہزار مسلمانوں کے مودی کے شریک قاتل قصائی، اس وقت کے گجرات کے وزیر داخلہ اور آج کے مرکزی وزیرداخلہ امیت شا کا کہنا ہے کہ اب ہم پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کو بھی لیں گے۔ مستقبل کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے، لیکن قرائن بتا رہے ہیں کہ مودی گروپ کا حالیہ قدم بڑی حماقت ہے اور اس نے جیسا سوچا ہے، ویسا نہیں ہو پائے گا۔ اب ویسے حالات نہیں جیسے 1971ء میں تھے۔ آج ہماری فوج اہلیت کے لحاظ سے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ ہمارا ”آئی ایس آئی“ بلاشبہ دنیا کا نمبر ایک انٹیلی جنس ادارہ ہے۔ کشمیر نہ تو مشرقی پاکستان ہے جو مرکز سے ایک ہزار میل دور زمینی فاصلے پر تھا اور نہ ہی یہ حیدرآباد دکن اور بھوپال ہے جو اپنی جغرافیائی مجبوری کے باعث آسانی سے ہڑپ کر لئے گئے۔ مودی کے اس فیصلے نے کشمیری قوم کو پہلی بار سوچ میں بھی متحد کردیا ہے یعنی جو کام آج تک کوئی نہیں کرسکا وہ مودی نے کردیا ہے۔ بھارت نواز کشمیری رہنماؤ ں کی سوچ میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔

مرحوم کشمیری لیڈر مفتی سعیدکی بیٹی اور بی جے پی کی سابق اتحادی، سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیرمحبوبہ مفتی نے تسلیم کیا ہے کہ ہم پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے۔ دفعہ 370 کی منسوخی پر اس کے اصل خالق شیخ عبداللہ کے بیٹے، نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ جو گھر میں نظربند ہیں، مرکز کے اس فیصلے کو دھوکا دہی سے تعبیر کیا ہے۔ فاروق عبداللہ کے بیٹے سابق وزیر اعلیٰ عمرفاروق جو کبھی بھارت کے بڑے حمایتی تھے اور آج زیر حراست ہیں، کہتے ہیں کہ ہم بھارت کے ساتھ لمبی جنگ کے لئے تیار ہیں۔ مودی نے بیک وقت کشمیر اور پاکستان کے ساتھ چین سے بھی پنگا لے لیا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے لداخ کو ضم کرنا قبول نہیں کیونکہ لداخ ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ مودی گروپ نے سکھ برادری کے ساتھ بھی دھوکا کیا ہے جو کرتار پور کا راستہ کھلنے کا پل پل گن کر انتظار کررہی تھی جو کہ اب مشکوک معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ معاملہ امن کے ساتھ حل ہو، لیکن اگر معاملہ جنگ کی طرف جاتا ہے تو یہ حکومت کی طرف سے اعلانیہ جہاد ہوگا۔ انڈیا کی تو صرف فوج ہی لڑے گی، لیکن ادھر ہماری باقاعدہ فوج سے بڑی فوج مجاہدین کی ہوگی جو بغیر تنخواہ کے تن من دھن سے پاک فوج کے شانہ بشانہ ہوگی۔ اس میں صرف پاکستان ہی کے نہیں، بلکہ افغانستان، ایران، عرب اور دنیا بھر کے مجاہدین شریک ہوں گے کیونکہ ان سب کو معلوم ہے کہ یہ عام جنگ نہیں بلکہ ”غزوہ ہند“ کا آغاز ہے۔

آخر میں محترم کشمیری لیڈر سید علی گیلانی کی پکار بھی سن لیجئے۔ جناب سید علی گیلانی نے قید کئے جانے سے قبل ٹویٹ کے ذریعے امت مسلمہ کو پیغام دیا ہے”اس ٹویٹ کو SOS یعنی (Save our souls)کے طور پر لیا جائے۔ یہ پیغام کرہ ارض پر بسنے والے سبھی مسلمانوں کے نام ہے۔ اگر ہم مرگئے اور آپ لوگ خاموش رہے تو آپ رب کریم کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کی ابتدا کرنے جا رہا ہے۔ رب کریم ہمارا حامی و ناصر ہو“

اس سے قبل ایسی ہی ایک صدا بوسنیا کے مرحوم صدر جناب عالی جاہ بیگووچ نے بھی بلند کی تھی لیکن وہ ”صدا بہ صحرا“ ثابت ہوئی۔ اس کے جواب دہ آپ ضرور ہیں۔ خدانخواستہ اب اگر جناب علی گیلانی کی اس صدا پر لبیک نہ کہا گیا تو اگلی باری ہماری ہوسکتی ہے اوراس وقت ہم بھی ایسی صدائیں بلند کررہے ہوں گے، لیکن ا س و قت سب کی کھڑکیاں بند ہوں گی۔ یاد رہے کہ امیت شا نے ببانگ دہل کہا ہے کہ آزاد کشمیر لینے کے بعد ہمارا اگلا ٹارگٹ پاکستان ہے۔ امیت شا کے منہ میں خاک، لیکن اب اہل پاکستان کو جاگنا اور جگانا ہوگا۔ علامہ اقبال کے بقول

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے

خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے

مزید :

رائے -کالم -