حکومت مدارس مذاکرات و معاہدات

حکومت مدارس مذاکرات و معاہدات

  

ایک قومی روزنامے کی 22 جولائی 2019ء کی اشاعت میں وفاق المدارس العربیہ کے ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری کا مضمون مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے وفاقی وزیرِ تعلیم جناب شفقت محمود صاحب کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد ان سے اور چیف آف آرمی سٹاف سے اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کی ملاقات اور اس کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے اس تحریر میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مندرجہ بالا ملاقاتوں کی وجہ سے 6 مئی کو وزارتِ تعلیم حکومتِ پاکستان میں باضابطہ طور پر مذاکرات ہوئے جن میں دینی مدارس کے حوالے سے بہت سے امور پر اتفاقِ رائے پایا گیا اور باقاعدہ تحریری طور پر پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں دیگر امور کے علاوہ یہ بات بھی طے کی گئی:.

الف: ”تمام دینی مدارس و جامعات اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے ساتھ طے شدہ رجسٹریشن فارم کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے“……حالانکہ ملک کے تقریباً تمام بڑے مدارس اپنے زمانہئ وجود سے حکومتی نظم کے مطابق حکومت کے مقرر کردہ رجسٹرار جوائنٹ اسٹاک کمپنیز کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ دوبارہ نئے رجسٹریشن فارم کے مطابق،جس کے مندرجات کا ابھی تک مدارس کو علم نہیں ہے، رجسٹرڈ کرانے سے پاکستان کے دینی مدارس کا آزادانہ تشخص ختم ہو جائے گا اور وہ وفاقی وزارتِ تعلیم کی طرف سے جاری ہونے والے وقتاً فوقتاً احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے اور خدانخواستہ آگے چل کر ان مدارس کا حشر مولانا عبدالحامد بدایونی مرحوم کے قائم کردہ مدرسے کا کالج کی شکل میں تبدیل ہو جانا اور جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا اسلامک یونیورسٹی میں تبدیل ہونا نہ ہو جائے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے فائق عہدیداران اور دینی مدارس کے مہتممین/ خیر خواہوں کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ب: ”وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدارس و جامعات کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کی واحد مجاز اتھارٹی ہو گی“۔ اس شق کی وجہ سے دینی مدارس میں طلباء کی تعداد اساتذہ کی تعداد وغیرہ اور مالیات کے اعداد و شمار وغیرہ میں حکومتی دخل اندازی شروع ہو جائے گی جو ابھی تک نہیں ہے اور اس سے ملک کے عمومی تعلیمی اداروں کی طرح رشوت اور بدعنوانی کا دروازہ کھل جائے گا۔

ت:”وہ مدارس اور جامعات جو وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہوں گے وفاقی وزارتِ تعلیم انہیں بند کرنے کی مجاز ہو گی“……اس شق کے ذریعے اتحادِ تنظیماتِ مدارس نے حکومت کو وہ اختیار دے دیا ہے جو حکومتی ادارے ایوب خان کے وقت سے ہر زمانے میں مانگتے رہے ہیں،حالانکہ ملک کے تمام دینی مدارس خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ان کے لئے مرکزی حکومت، صوبائی حکومت اور مقامی حکومت اپنے بجٹ میں کسی قسم کی کوئی رقم نہیں رکھتی ہے، نہ دینی مدارس کی تعلیم یا رہائشی طلبہ کے اخراجات کے سلسلے میں کوئی مدد کرتی ہے، تمام دینی مدارس پاکستان کے مخیر حضرات کے تعاون سے چلتے ہیں۔ نامعلوم اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے ذمے داروں نے اس شق کو کیسے قبول کر لیا۔

ج: ”جو مدارس و جامعات رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی“۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کو اس شق کی منظوری سے پہلے رجسٹریشن کے فارم کو تمام مدارس میں بھیج کر ان کی رائے لینی چاہئے تھی اور اپنے وفاقوں کی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس بلا کر منظوری لے کر تب اس شق کو منظور کرنا چاہئے تھا، اگر رجسٹریشن کے فارم میں یا رجسٹرڈ ہونے کے بعد حکومتِ پاکستان نے ایسے قواعد و ضوابط لاگو کئے جن سے مدارس کی آزادی یا نصاب میں تبدیلی پیدا ہو تو وہ اسلامیانِ پاکستان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو گا اور ملک میں انتشار کا باعث بنے گا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مولانا موصوف نے اپنے مضمون میں جس نئے رجسٹریشن فارم کا ذکر کیا ہے اس کے مندرجات بھی شائع کر دیتے تاکہ دینی مدارس چلانے والے اور دینی مدارس سے محبت کرنے والے اس کی جزیات کو دیکھ کر اپنی رائے دے سکتے اسی طرح جس 6 مئی کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کا اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان نے چیف آف آرمی اسٹاف سے شکوہ کیا، اس کی تفصیلات بھی شائع کر دیتے تو لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔ ان مذاکرات اور ان کے فیصلے میں یہ بات قابلِ تحسین ہے کہ دینی مدارس اور جامعات کے امتحانات تمام وفاق لیں گے اور وہ ہی سند جاری کریں گے۔

جہاں تک عصری مضامین یعنی میٹرک (ثانویہ عامہ) میں انگلش، ریاضی، اردو اور مطالعہ پاکستان،جبکہ انٹرمیڈیٹ (ثانویہ خاصہ) میں انگلش،اردو اور مطالعہ پاکستان کا امتحان فیڈرل بورڈ کے لینے کا تذکرہ ہے، یہ بھی ہمارے پانچوں وفاقوں کی آزادی کو سلب کرنا ہے۔ ہمارا پورے ملک میں ایک وقت امتحان منعقد کرنے کا اعلیٰ ترین نظام موجود ہے تو ہم خود کیوں ان مضامین کا امتحان لے کر طلباء کو سرٹیفکیٹ / ڈگری نہیں دے سکتے۔ اس سلسلے میں میری تجویز ہے کہ ان معاملات پر تمام وفاق اپنی مجالسِ شوریٰ میں بحث کر کے فیصلہ کریں، اس کو صرف مجالسِ عاملہ پر نہ چھوڑیں۔ دینی مدارس پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ طلباء و طالبات کو بلامعاوضہ تعلیم کے علاوہ فری بورڈنگ اینڈ لاجنگ مہیا کرتے ہیں یعنی کھانا، پینا، کپڑا، رہائش، بجلی اور گیس مہیا کرتے ہیں اور موجودہ حکومت آنے کے بعد جبکہ گیس کا بل تین گنا سے زیادہ ہو چکا ہے، تب بھی ان کو کھانا وغیرہ سب مہیا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اس سے دوگنا طلباء و طالبات کی وہ تعداد ہے جو دن میں پڑھنے کے لئے آتی ہے صبح آتی ہے اور شام کو چلی جاتی ہے۔یہ اتنا بڑا این جی او ہے جو بلامعاوضہ تعلیم اور فری بورڈنگ اینڈ لاجنگ طلباء و طالبات کو مہیا کر رہا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔

مذکورہ بالا گزارشات کے بعد اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ ایوب خان کے زمانے اور بعد میں شہید جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانے میں بھی دینی مدارس کی اصلاحات کے لئے کمیٹی بنائی گئی لیکن علماء نے کسی قسم کی کوئی تبدیلی قبول نہیں کی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں دینی مدارس کے لئے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس کی کمیٹی میں کوئی عالمِ دین نہیں تھا،بلکہ حکومت کے مختلف وزارتوں کے سیکرٹری تھے جن کو مدارس کے نصاب اور نظام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، یہ ایسا ہی تھا جیسے علماء کو کسی میڈیکل یا انجینئرنگ کالج وغیرہ کے بورڈ کا رکن بنا دیا جائے،چنانچہ وہ اپنی موت آپ مر گیا۔ حکومتِ پاکستان نے جو تین چار دینی مدارس قائم کئے تھے اور جن کے اخراجات حکومت برداشت کرتی تھی ان میں سے سکھر میں قائم شدہ ایک مدرسے میں امتحان کے دن مجھے جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں اسٹاف روم میں تو دس بارہ استاد بیٹھے تھے، لیکن امتحان ہال میں صرف ایک طالب علم امتحان دے رہا تھا نامعلوم اب ان کی کیا صورتِ حال ہے۔

حکومت کے قائم کردہ دینی مدارس کے تجربے سے یہ پتہ چلا کہ یہ کام حکومت کے بس کا نہیں ہے یا ان کی توجہ اس جانب نہیں ہے وہ تو ملک میں عمومی تعلیم کا نظام (سکول وغیرہ) اور ان کے امتحان کے نظام کو صحیح طرح چلانے میں اب تک ناکام ہیں۔ شہید جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں جب ہمارے دینی مدارس / جامعات کی اسناد (شہادت العالمیہ وغیرہ) کو ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے برابر قرار دیا گیاتو اس کے اجلاسوں میں شہیدجنرل محمد ضیاء الحق کے علاوہ وفاقی وزیرِ تعلیم محمد علی خان ہوتی اور یو جی سی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد افضل ہوتے تھے اور دیگر وفاق کے نمائندوں کے علاوہ وفاق المدارس العر بیہ پاکستان کے نمائندوں کے طور پر مرحوم مولانا سلیم اللہ خان (بحیثیت ناظمِ اعلیٰ)، مولانا محمد رفیع عثمانی (بحیثیت ایک بڑے ادارے کے مہتمم) اور مَیں کبھی بحیثیت رکنِ مجلسِ عاملہ اور کبھی بحیثیت صدرِ وفاق مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ کے نمائندے کے طور پر شرکت کرتا تھا۔

ان تمام مذاکرات میں ہم نے حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی شرط بشمول نصاب میں تبدیلی، نئی رجسٹریشن یا کوئی اور شرط قبول نہیں کی بلکہ خالص اپنے مطالبے یعنی ہمارے مدارس / جا معات کے وفاقوں اور کچھ بڑے مدارس کی انفرادی سندوں کو ایم اے اسلامیات / ایم اے عربی کے مساوی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرایا۔ ان مذاکرات میں ہم نے حکومت کے عمائدین کو یہ بات باور کرائی کہ ہمارے مدارس میں تو ہزار میں سے ایک بچہ آتا ہے، باقی 999 بچے تو عمومی نظامِ تعلیم میں جاتے ہیں، جس کو مقامی، صوبائی اور مرکزی حکومتیں چلاتی ہیں،جتنی تبدیلی دینی علوم کی آپ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لائیں گے، اتنی ہی تبدیلی عمومی علوم کی ہم اپنے دینی مدارس میں بھی لے آئیں گے، لیکن جب تک آپ ملک کے عمومی تعلیم کے اداروں میں ناظرہ قرآنِ پاک، ترجمہ قرآنِ پاک،

منتخب احادیث وغیرہ کا نصاب شامل کر کے ان کے امتحان کا نظام نہیں بنائیں گے ہمیں بھی ہمارے دینی مدارس / جامعات میں عمومی تعلیم کے مضامین شامل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور ہماری اس تجویز کو مندرجہ بالا تینوں عمائدینِ حکومت نے قبول کیا۔ حکومت کے ایک سروے کے مطابق دینی مدارس / جامعات کے تمام طلباء کا 65 فیصد، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت مدارس / جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، باقی چاروں وفاقوں کے طلباء کی مجموعی تعداد تقریباً 35 فیصد ہے لہٰذا مدارس کے انتظام، امتحان اور نصاب میں تبدیلی وغیرہ کے معاملات میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عمومی تعلیمی اداروں کا گذشتہ 70 برس سے یہ حال ہے کہ ہمارے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں نہ بچے کو ناظرہ قرآنِ پاک پڑھاتی ہیں، نہ ترجمہ قرآنِ پاک پڑھاتی ہیں، نہ منتخب احادیث پڑھاتی ہیں،لہٰذا ان کو دینی معاملات کا علم یا تو بالکل نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور کے وفاقی وزیر تعلیم نے جو ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل تھے، ٹیلی ویژن کے اوپر قرآنِ پاک کے 40 سپارے بتلائے تھے،چونکہ ان بیچاروں نے کبھی قرآن کھول کر ہی نہیں دیکھا ہو گا، ان کو کیا معلوم اس میں کتنے سپارے ہیں،اسی طرح پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دو مرتبہ وفاقی وزیر سورہئ اخلاص (جو ڈیڑھ سطر پر مشتمل ہے) صحیح نہ پڑھ سکے،اسی طرح پیپلز پارٹی کے ایک قومی سطح کے لیڈر جو شاید سینیٹر ہیں اور پہلے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں،

ایک جلسہئ عام میں سورہئ اخلاص کی صحیح تلاوت نہ کر سکے اسی طرح مرحوم جونیجو کے دور میں ان کے وفاقی وزیرِ مذہبی امور رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں پاکستان ٹی وی پر لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہوئے جب آخر میں پہنچے اور قرآنِ پاک میں درج مشہور دعا ربنا آتنا نہ پڑھ سکے، ہمارے موجودہ وزیراعظم نے حلف اٹھایا تو حلف کی عبارت بھی درست طور پر نہ پڑھ سکے، حالانکہ وہ ریاست مدینہ کا بہت ذکر کرتے ہیں کم از کم حلف کی عبارت تو اچھی طرح پڑھنے کی مشق کرسکتے تھے۔ اسی طرح لوگوں کے انتقال پر سوئم وغیرہ میں جو ختم قرآنِ پاک کی محافل منعقد کی جاتی ہیں اس میں بہت کم لوگ دیکھ کر قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں باقی لوگ یا تو تسبیح کے دانے پڑھ رہے ہوتے ہیں یا باتیں کرتے ہیں۔ میرے ایک عزیز جو بینک میں بڑے افسر رہے تھے ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا، مَیں نے ان کی نمازِ جنازہ کی امامت کی اور رات کو تعزیت کے لئے گیا تو بڑی حسرت سے کہنے لگے میری بیوی مر گئی سارے لوگ قرآن پڑھ رہے تھے، مَیں لوگوں کی شکلیں دیکھ رہا تھا (یعنی وہ ناظرہ قرآنِ پاک نہیں پڑھ سکتے تھے)۔ قوم فیصلہ کرے اس میں کس کا قصور ہے۔

مزید :

رائے -کالم -