سندھ میں زیادہ بارش کی پیشگوئی

سندھ میں زیادہ بارش کی پیشگوئی
سندھ میں زیادہ بارش کی پیشگوئی

  

سن 2010ء میں بالائی سندھ میں خطرناک سیلاب آیا تھا، جس میں بہت بڑی آبادی نے حیدر آباد اور دیگر شہروں کی طرف نقل مکانی کی تھی۔ ان کو ان کی دربدری کا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ سن 2011ء میں زیریں سندھ میں بارش معمول سے کہیں زیادہ ہوئی تھی۔اس بارش کے نتیجے میں بھی لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ شہر شہر پانی میں ڈوب گئے تھے۔ نقل مکانی کرنے والوں میں بھاری اکثریت کاشتکاروں کے کسانوں کی تھی، جنہیں سر چھپانے کی جگہ دینا تو درکنا، کھانے کے لئے روٹی بھی میسر نہیں کی گئی تھی،بلکہ عملاً بھگا دیا گیا تھا کہ جاؤ کوئی ٹھکانہ تلاش کر لو۔ ان لوگوں نے تھرپارکر کے ایک میدان میں پناہ لی تھی۔ صرف دس روز قبل ہی کراچی اور حیدرآباد میں بارش اس لحاظ سے زیادہ پڑی تھی کہ کسی محکمہ کے پاس کسی قسم کا انتظام نہیں تھا۔ پہلے مرحلے پر بجلی غائب ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی اور بارش کا پانی کئی روز تک کھڑا رہا۔ ابھی بھی حیدرآباد کے بعض علاقوں میں پانی کھڑا ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ برس جاتی ہے تو کیا ہوگا ؟ محکمہ موسمیات تو شہری علاقوں میں اس بارش کے نتیجے میں سیلاب کا بھی اندیشہ ظاہر کر رہا ہے۔ 2011ء میں تو ضلع میرپور خاص، اور ضلع بدین شہر ڈوب چکے تھے۔ ہر علاقے میں پانی تھا اور گھر پانی میں گھرے ہوئے تھے۔ میرپور خاص کے سرکاری اسپتال میں تین سے پانچ فٹ پانی کھڑا تھا۔ اتنی بڑی آفت کے بعد بھی انتظامیہ اور اہلکاروں نے کوئی سبق نہیں دیکھا۔ افسران اور اہلکاروں کو تو کوئی نقصان ہی نہیں ہوتا ہے، بھگتنا تو عوام کو پڑتا ہے۔

حیران کن امر یہ ہے کہ آفتوں اور ناگہانی سے بروقت نمٹنے کا کسی سرکاری محکمہ کے پاس کوئی انتظام ہی نہیں ہوتا ہے حالانکہ تمام محکموں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہنگامی حالات میں کیا کرنا ہوتا ہے، انہیں بخوبی علم ہوتا ہے، لیکن سست روی اور کاہلی انہیں کام کرنے سے روکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وزراء حضرات بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اراکین اسمبلی تو علاقوں کا دورہ ہی کرنے سے کتراتے ہیں۔ سرکاری افسران سڑک کی بجائے دفاتر میں بیٹھ کر دن گزار دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ بارش کے دوران رات کے وقت حیدرآباد کا دورہ کیا تھا۔ انہیں جب بتایا گیا کہ نکاسی نہیں ہوسکی ہے، کیونکہ بجلی نہیں ہے تو انہوں نے کمشنر کے دفتر میں حیسکو کے سربراہ کو طلب کرکے ہدایت دی کہ جب تک بجلی بحال نہیں ہوگی، آپ کمشنر کے دفتر سے کہیں نہیں جائیں گے۔ ان کی اس دھمکی کے بعد ہی آہستہ آہستہ مختلف علاقوں میں بجلی بحال ہونا شروع ہو گئی تھی، بجلی کی اس بندش سے ہسپتال تک محفوظ نہیں رہے تھے۔ حیسکو نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے کہ ایک بوند برسنے کے ساتھ ہی بجلی کی فراہمی بند کر دی جاتی ہے۔ یہ تو اتفاق تھا کہ وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا اور انہیں مجبور کیا کہ بجلی بحال کریں۔

جمعہ کے روز سے ممکنہ بارش کے خطرے کے پیش نظر حیسکو نے شہروں میں لگے ہوئے گنتی کے درختوں کی چھٹائی کرنے کی بجائے درختوں کی شاخوں کو ہی کاٹ دیا۔ ان درختوں کو نقصان پہنچایا گیا،جن کی ڈالیاں بجلی کے تاروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک اور اجلاس کر کے نالوں کی صفائی کے کام کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نکاسی کے لئے متعلقہ محکموں کو اپنے انتظامات پورے کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ان کی دلچسپی کے پیش نظر کام تو نمٹائے جا رہے ہیں۔ بارش پر انحصار ہے کہ کتنی برستی ہے؟ ہمارے شہر مختلف اسباب کی بنا پر اس قابل ہی نہیں رہے ہیں کہ معمولی بارش بھی برداشت کر سکیں۔ بروقت نکاسی تو خواب ہے۔جب نکاسی نہیں ہو پاتی تو لوگ پانی میں گھرے رہتے ہیں۔ حالیہ بارش میں کئی آؓبادیوں میں لوگ تین اور چار روز تک پانی میں گھرے رہے۔ اسی طرح امراض قلب کا ہسپتال بھی بند رہا۔

معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر چیز ٹہر جاتی ہے۔ بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ کسی قسم کی پیشگی تیاری نہیں کی جاتی ہے۔ افسران ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہتے ہیں۔ زیادہ بارش کی پیش گوئی کے باوجود ریلیف کمپوں کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے، میڈیکل ایڈ کا بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں تو بارش کی صورت میں سانپ وغیرہ بھی نکل کر سڑکوں یا محلوں میں آجاتے ہیں، دواؤں کا کوئی انتظام نہیں ہے۔اس تماش گاہ میں سوال یہ ہی ہے کہ کیا حکومتیں اور انتظامیہ ایسے ہی کام کرتی ہیں جیسے پاکستان میں کیا جاتا ہے۔ بہتر طرزِ حکومت کہیں نظر نہیں آتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -