زرداری صاحب تاریخ کو مسخ نہ کریں!

زرداری صاحب تاریخ کو مسخ نہ کریں!
زرداری صاحب تاریخ کو مسخ نہ کریں!

  

پاکستان پر پہاڑ بھی ٹوٹ پڑے تو سیاست دان اسے بھول کر اپنی سیاست جاری رکھیں گے۔ یہ بیان کوئی مفروضہ نہیں،بلکہ 72 سال کی تاریخ اس کے سچ کو ثابت کر رہی ہے۔ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور اس کے تشخص کو ختم کرنے کے خلاف پارلیمینٹ کا جو اجلاس بلایا گیا، اس میں بھی یہی تماشا ہوا۔ آج بھارتی میڈیا مذاق اڑا رہا ہے کہ کیا یہ سیاست دان کشمیریوں کی مدد کریں گے،ان کا مقدمہ لڑیں گے جو آپس میں لڑ رہے ہیں اور جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں۔

اب اس اجلاس میں ہونے والے کس کس واقعے اور حماقت کا ذکر کیا جائے۔ تاہم پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے جو کہا اس نے تو ہر خاص و عام کو افسردہ بھی کیا اور حیران بھی، حیرت تو اس بات پر ہے کہ یہ ایسی باتیں کرنے کا کون سا موقع تھا اور اس کا کشمیر میں بھارتی مظالم اور جارحیت سے تعلق کیا تھا۔ آج صرف ایم کیو ایم احتجاج کر رہی ہے کہ آصف علی زرداری نے ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے۔ انہیں ہندوستان سے بھاگ کر آنے والے کہا ہے، جنہیں پاکستان میں بسنے والوں نے پناہ دی، حالانکہ آصف علی زرداری نے صرف اُردو بولنے والے مہاجرین کے بارے میں یہ نہیں کہا، بلکہ وہ سارے مسلمان جو 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے، ان کا روئے سخن ان کی طرف تھا۔ حالانکہ یہ ہجرت ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ پاک و ہند میں دو قومی نظریہ ایک بڑی حقیقت ہے، ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، انہیں آزادی سے رہنے کے لئے ایک آزاد وطن کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری شاید اس بات کو بھول گئے کہ ہجرت پاکستانی علاقے سے بھی ہوئی تھی اور لاکھوں ہندوؤں اور سکھوں کو یہاں سے جانا پڑا تھا، کیونکہ یہ دو قومی نظریئے کی تقسیم تھی، علاقوں کی تقسیم نہیں تھی۔

میری والدہ اور والد نے جب 1947ء میں لدھیانہ سے ہجرت کی، تو جو کچھ راستے میں پیش آیا، وہ اکثر ہمیں سناتی تھیں۔ دونوں کی عمریں تقریباً 24، 25 سال کے درمیان تھیں۔ وہ اپنے بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ جب لدھیانہ سے ٹرین پر چلے تو ہر طرف قتل و غارت گری کا منظر تھا، اس آگ و خون کے دریا کو پار کر کے جب وہ لاہور پہنچے تو والدہ بتاتی تھیں کہ وہاں قائداعظمؒ لٹے پٹے قافلوں کے انتظار میں تھے، ان کی ولولہ انگیز آواز سپیکر پر گونج رہی تھی۔ وہ حوصلہ اور امید دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ اپنے وطن میں آ گئے ہیں اب آپ غلامی سے آزاد ہو گئے ہیں۔ اب ایک طرف تاریخ کا یہ منظر ہے اور دوسری طرف آصف زرداری کہتے ہیں کہ آپ (مہاجر) بھارت سے بھاگ کر آئے جنہیں ہم نے پناہ دی۔ 72سال زرداری صاحب کی عمر نہیں، لیکن بات وہ ایسے کر رہے ہیں، جیسے سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے رونما ہوا۔ بہتر سال میں تو کئی نسلیں جوان ہو گئیں، ہجرت کرنے والے بزرگ عالم بالا سدھار گئے، مگر آپ کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی ہے کیا اس سے ہم متعصب ہندوؤں کو یہ پیغام نہیں دے رہے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کو یہ طعنہ دیں کہ دیکھا،جو یہاں سے ہجرت کر کے پاکستان گئے، انہیں ابھی تک وہاں قبول نہیں کیا گیا۔ کیا اس سے دو قومی نظریئے کی نفی نہیں ہو گی۔ آصف زرداری کی باتوں میں کیا ربط رہ جاتا ہے جب وہ ایک طرف کہتے ہیں کہ قائداعظمؒ جان چکے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، آج ان کی بات درست ثابت ہو گئی ہے، اور دوسری طرف وہ پاکستان کے لئے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کو تضحیک کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔

آصف علی زرداری یہ تھیوری بھی نجانے کہاں سے ڈھونڈ لائے ہیں کہ پاکستان سندھیوں اور بنگلہ دیشیوں نے بنایا ہے۔جب وہ اسمبلی میں یہ کہہ رہے تھے تو مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اس کا راوی ایسا شخص ہے،جو ملک کا صدر بھی ر ہ چکا ہے۔ کیا ہندوستان میں مسلمانوں نے جو جدوجہد شروع کر رکھی تھی، اس کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہیں کیا متحدہ ہندوستان کے اندر جو بے چینی تھی، مظاہرے تھے، جلسے جلوسوں کا سلسلہ تھا، اور سب سے بڑھ کر قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں دہلی جس طرح مسلمانوں کی طاقت کا عملی مظاہرہ دیکھ رہا تھا، اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اصل آگ تو وہاں جلی تھی جہاں ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو دبایا جا رہا تھا اور وہ شدید مزاحمت کر رہے تھے۔

وہیں سے تو یہ نظریہ ثابت ہو رہا تھا کہ مسلمان اور ہندو اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اس بات کا علم تھا کہ پاکستان بنے گا تو انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے گا۔ وہ قربانی دینے کے لئے تیار تھے۔ انہیں اِس بات کی فکر نہیں تھی کہ پاکستان جا کے انہیں کیا ملے گا اور کیا نہیں ملے گا،انہیں تو بس آزادی کی خواہش نے مغلوب کر رکھا تھا اور بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان، جیسے نعرے اُن کی زندگی کا حاصل تھے۔اب آصف علی زرداری کروڑوں مسلمانوں کے اس کردار کی نفی کر کے اگر محدود علاقے اور طبقے کی بات کریں گے تو وہ تاریخ سے انصاف نہیں کر رہوں گے۔ صاف لگے گا کہ وہ تعصب کا شکار ہیں اور بلاوجہ ایک ایسی بات کو فروغ دے رہے ہیں،جو غیر حقیقی بھی ہے اور پاکستان کے بنیادی نظریے کے خلاف بھی۔

اس بڑی غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے کہ مہاجر صرف حیدر آباد اور کراچی میں ہیں، وہاں ایک خاص حوالے سے مہاجر اور مقامی کی تفریق پیدا کی گئی،دونوں طرف مفادات کی آگ بھڑکا کر اس تعصبانہ فضا کو فروغ دیا گیا۔ اُردو سندھی تنازہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی،جہاں تک بھارت سے ہجرت کرکے آنے والوں کا تعلق ہے تو اُن کی سب سے بڑی تعداد تو پنجاب میں آباد ہے،مگر مجال ہے ان میں کوئی تفریق موجود ہو۔ حتیٰ کہ سرائیکی خطے کے علاقے جنوبی پنجاب میں بھی پنجابی، روہتک حصار سے آنے والے اور میواتی ہر گلی محلے میں سرائیکیوں کے ساتھ آباد ہیں اور باہم شیرو شکر ہیں۔سب کو علم ہے کہ پاکستان کیوں بنا تھا اور ہندوستان سے پاکستان آنے والے کیوں آئے تھے۔کوئی کسی پر احسان نیں جتاتا اور کوئی یہ طعنہ نہیں دیتاکہ ہم نے تمہیں پناہ دی وگرنہ تمہیں تو ہندوؤں نے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔ اب ایسی فضا میں جب ایک قومی لیڈر بے وقت کی راگنی لے بیٹھتا ہے، تو حیرت ہوئی ہے۔

بات تو آپ نے کشمیر کے لوگوں کی کرنی ہے۔ اگر آپ کا آج بھی نظریہ یہ ہے کہ ہم نے بھارت سے بھاگ کر آنے والوں کو پناہ دی تو کشمیریوں کو آپ کیسے قائل کر سکتے ہیں کہ وہ پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں،پھر تو وہ اسی خوف میں رہیں گے کہ ضم ہونے کے بعد انہیں پاکستانی تسلیم بھی کیا جائے گا یا نہیں،کیا آصف علی زرداری کو معلوم نہیں کہ پیپلزپارٹی کا گڑھ پنجاب رہا ہے۔سندھ تک وہ اب محدود ہوئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بات ہو یا بے نظیر بھٹو کا عروج وہ لاہور کا مرہون منت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ضیاء الحق کے زمانے میں جب پاکستان آئی تھیں تو انہوں نے لاہور کا انتخاب کیا تھا۔قرارداد پاکستان لاہور میں منظور ہوئی۔پھر لاہور ہی وہ شہر ہے جس نے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کو سب سے پہلے سنبھالا، اہل ِ لاہور نے آج تک اپنے اس احسان کو جتایا نہ اس کا بدلہ مانگا اور نہ ہی یہ کہا کہ اُن سے غلطی ہو گئی کہ انہوں نے ایسا کیا۔پاکستان بہت بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا، اس میں ہجرت کرنے والوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں اور پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی بھی۔اُس زمانے میں تو یہ بات کوئی سوچتا نہیں ہو گا،جسے آج آصف علی زرداری ایک ایشو بنا رہے ہیں۔ یہ دراڑ نہیں اتفاق پیدا کرنے کا وقت ہے۔ کیا یہ بات آصف علی زرداری جیسے سینئر سیاست دانوں کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -