ہائیکورٹ کا اسلامیات کی نصابی کتب میں مال غنیمت کو لوٹ مار لکھنے پر اظہار برہمی

    ہائیکورٹ کا اسلامیات کی نصابی کتب میں مال غنیمت کو لوٹ مار لکھنے پر اظہار ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس لعل جان خٹک پرمشتمل دورکنی بنچ نے اسلامیات کی نصابی کتب میں مال غنیمت کو لوٹ مارلکھنے پر شدیدبرہمی کااظہارکرتے ہوئے ٹیکسٹ بک بورڈ کو موسم گرماکی تعطیلات ختم ہونے سے قبل غلطی کی تصحیح کرنے اورتصحیح شدہ کتب بچوں کوفراہم کرنے کے احکامات جاری کردئے ہیں عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے جمعرات کے روز نصابی کتب میں غلطی کی نشاندہی سے متعلق دائررٹ کی سماعت کی اس موقع پر سیکرٹری ٹیکسٹ بک بورڈ عدالت میں پیش ہوئے جس جسٹس قیصررشید نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ آنکھیں بند کرکے بچوں کو غلط چیزیں پڑھا رہے ہیں آپ لوگوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے قرآنی آیات کا غلط ترجمہ بچوں کو پڑھا رہے تھے کسی کو احساس تک نہیں ہوا کب سے آپ غلط ترجمہ والا کتاب پڑھا رہے تھے؟جس پرسیکرٹری نے جواب دیاکہ 2012-13 سے یہ کتاب پڑھا ئی جارہی ہے اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کفایت اللہ نے عدالت کوبتایاکہ 18 وی ترمیم کے بعد یہ صوبہ کا اختیار ہے نصاب تیار کرنا صوبے کا اختیار ہے جس پرجسٹس قیصررشیدنے کہاکہ 18وی ترمیم میں یہ کہا لکھا ہے کہ آپ غلط ترجمہ کرے افسوس کی بات ہے آپ لوگ قرآن کا ترجمہ بھی غلط پڑھارہے ہیں اس موقع پرایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سیدسکندرحیات شاہ نے عدالت کو بتایاکہ کتاب میں غلطی کی تصحیح کررہے ہیں نصاب میں غلطی درست کرنے پر کام جاری ہے اورایک ہفتے میں غلطی درست کرکے نئی کتابیں فراہم کرد ی جائیں گی جس پرفاضل بنچ نے احکامات جاری کئے کہ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے نصاب میں غلطی درست کریں اوررٹ کی سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -