پشاور ، افغان قونصلر کی سربراہی میں اجلاس کا انعقاد ، تجارتی و فد کی شرکت   

  پشاور ، افغان قونصلر کی سربراہی میں اجلاس کا انعقاد ، تجارتی و فد کی شرکت   

  

پشاور(سٹی رپورٹر) افغان قو نصلیٹ پشاورمیں تعینات افغان قونصلر جنرل ہاشم نیازی کی سربراہی میںگزشتہ روزقونصلیٹ میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میںپاک افغان تجارتی وفدکے علاوہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فیض محمد فیضی اور سابق سینئر نائب صدر ضیاءالحق سرحدی نے اجلاس میں شرکت کی ۔اس موقع پر افغان ٹریڈکمشنر حمید فاضل خیل ،فرسٹ سیکرٹری غلام حبیب ،لینڈ روٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین امتیاز احمدعلی ،ایف پی سی سی آئی کے فوکل پرسن نیازمحمد ،آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل فیڈریشن کے مرکزی صدر ملک سوہنی اورافغان تاجر سید عبداللہ بادشاہ کے علاوہ پلانٹ کورنٹین انچارج ڈاکٹر شوکت علی شامل تھے۔ افغان قونصلر جنرل ہاشم نیازی اور افغان ٹریڈ کمشنر حمید فاضل خیل نے پاکستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر طورخم کوباہمی تجارت کے لئے24گھنٹے کھولنے کے فیصلے کو خوش آئند قراردیا۔ اس موقع پر افغان قونصلر جنرل ہاشم نیازی نے حکومت پاکستان کی جانب سے فریش فروٹ پر برآمدی ڈیوٹی میں اضافہ پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے تجارت کے لئے نقصان دہ قراردیاہے ۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ فریش فروٹ کی 35%ڈیوٹی اضافہ پر نظر ثانی کرے اور لوکل ویلیوایشن کے مطابق افغانستان سے آئے ہوئے مالوں پر قیمت کا تعین کیا جائے ناکہ کراچی ویلیوایشن کی رولنگ کو بنیاد بنایا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاءالحق سرحدی جوکہ فرنٹیئر کسٹمزا یجنٹس گروپ کے صدر اورپاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ اینڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدربھی ہےں نے کہا کہ پاک افغان تجارت 2.5بلین سے کم ہوکر ایک بلین سے بھی کم ہوکر رہ گئی ہے ۔ بارڈر پر آئے روز ہڑتالیں، بارڈر کی بندش اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تنازعات کے باعث تجارت کو تباہی کے دھانے پر کھڑاکردیاہے ۔ نئی بارڈر پالیسی سے خیبرپختونخوا کے لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ ضیاءالحق سرحدی جو کہ آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی وائس چیئرمین بھی ہیں نے مزید کہا کہ پچھلے دنوںطورخم بارڈر پر چار دنوںکی ہڑتال سے پاکستان کے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہواہے ۔ انکا کہناتھا کہ قبائلی اضلاع کا نام تبدیل ہوگیاہے پی اے خیبر کی جگہ ڈپٹی کمشنر خیبر کو مقرر کیا گیا ہے تاہم نظام پرانا چل رہاہے ۔وفد نے مشترکہ طور پر کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کونقصان کا ذمہ دارجعلی ایمپورٹرز اور ایکسپورٹرز ہےں ۔ پاکستانی وفد کے تاجروںنے افغان قونصل جنرل سے مطالبہ کیاہے کہ جعلی ایکسپورٹرز اور ایمپورٹرز کا راستہ روکنے کیلئے سابقہ افغان علم وخبر کا اجراپشاور سے کیاجائے جو اس وقت افغانستان میں دیاجارہاہے تا کہ طورخم بارڈر پر ایمپورٹ اور ایکسپورٹ کا عمل فوری طور پر بحال ہوسکے اوردونوں جانب کے تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان سے بچایا جاسکے اور ملکی معیشت کااستحکام برقرار رکھا جاسکے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -