سی پیک کو نام بنانے کیلئے غیر ملکی ایجنسیاں متحریک ہیں : ریئر ایڈ مر ل ذکا ءالرحمن 

سی پیک کو نام بنانے کیلئے غیر ملکی ایجنسیاں متحریک ہیں : ریئر ایڈ مر ل ذکا ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹرجنرل پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ریئرایڈمرل ذکا الرحمان نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کوناکام بنانے اورپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کیلئے کئی غیرملکی ایجنسیاں متحرک ہیں۔ سمندری حدودمیں غیر قانونی ماہی گیری،اسمگلنگ اور منشیات کی روک تھام اولین ترجیح ہے ،ایم ایس اے نے تمام کشتیوں پر"ویسل مانیٹرنگ سسٹم"لگوانے کا بیڑا اٹھا رکھاہے ۔ایم ایس اے سمندرمیں قانون نافذ کرنے والی ملک کی واحد ایجنسی ہے جوپیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیلئے ہمہ وقت تیارہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ڈائریکٹر آپریشنز نے کیپٹن سرفراز احمد نے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے حوالے سے پریزینٹیشن بھی پیش کی ۔ریئرایڈمرل ذکاءالرحمن نے کہا کہ ایم ایس اے سمندرمیں قانون نافذ کرنے والی ملک کی واحد ایجنسی ہے جوپیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیلئے ہمہ وقت تیارہے۔گذشتہ چندبرسوں میں متعدد آپریشن کے دوران اربوں روپے کی منشیات،ڈیزل اورممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کوناکام بنایاگیا ہے ۔غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سیکڑوں غیرملکی کشتیاں اورماہی گیروں کو تحویل میں لیاجبکہ سمندرمیں سرچ اینڈریسکیو کرتے ہوئے سینکڑوں کشتیوں اورماہی گیروں کومحفوظ مقام پرمنتقل کیا گیا ۔انہوںنے کہا کہ ایم ایس اے نے تمام کشتیوں پر"ویسل مانیٹرنگ سسٹم"لگوانے کا بیڑا اٹھا رکھاہے۔"ویسل مانیٹرنگ سسٹم"کی مددسے ناگہانی صورتحال میں پھنسی کشتیوں کومدداورانکی مانیٹرنگ بھی کی جاسکے گی جبکہ دہشت گرد عناصر کی نشاندہی میں بھی یہ معاون ثابت ہوگی ۔ڈی جی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ سی پیک ایک انتہائی منصوبہ ہے ۔سی پیک منصوبے کوناکام بنانے اورپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کیلئے کئی غیرملکی ایجنسیاں متحرک ہیں۔انہوںنے کہا کہ سمندری آلودگی کی روک تھام کیلئے ہرسال بارہ کوڈا مشقوں کا انعقادکیاجاتاہے ۔ گذشتہ برس بارہ کوڈا مشق میں20ممالک کے مندوبین اور ماہرین نے شرکت کی۔ اس سال دسمبر میں بارہ کوڈا مشق کا انعقاد کیاجائے گا۔ریئرایڈمرل ذکاءالرحمن نے کہا کہ گہرے سمندرمیں مچھلی کے شکار کیلئے2018 میں پالیسی جاری کی گئی تھی جس پرماہی گیر طبقے کے تحفظات تھے ۔حکومت نے بات چیت کرکے پالیسی میں بہتری کیلئے اسے معطل کردیاتھا۔ماہی گیر کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی میں ترمیم کی گئی ہے ۔ سمندر میں شکار کے حوالے سے ترمیم شدہ پالیسی کو فورا بحال کرنے کی اشدضرورت ہے ۔ ترمیم شدہ پالیسی کے فعال ہونے سے پاکستان کے زرمبادلہ میں کثیراضافہ اورملکی معیشت مستحکم ہوگی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -