مقبوضہ کشمیر صورتحال، اسد قیصر کے آئی پی یوم ممبر ممالک کی پالیمانوں سے رابطے

  مقبوضہ کشمیر صورتحال، اسد قیصر کے آئی پی یوم ممبر ممالک کی پالیمانوں سے ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بین الپارلیمانی یونین کے 189 ممبر ممالک کی پارلیمانوں کے پرزائیڈنگ آفیسرز کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے محکوم کشمیری عوام کیساتھ ہونیوالے تاریخی فراڈ اور دھوکہ دہی کی جانب توجہ مبذول کرانے کیلئے خطوط ارسال کیے ہیں۔ سپیکر نے اپنے خطوط میں آئی پی یو( IPU)ممبر ممالک کی پارلیمانوں کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے مظالم کیخلاف آواز بلند کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے معصوم شہریوں کو حق خود ارادیت دلوانے جس کا ان سے سلامتی کونسل کی قراردادوں میں وعدہ کیا گیا تھا میں مدد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے ہم منصبوں کو مقبوضہ کشمیرکی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کر تے ہوئے سپیکر نے کہا 5 اگست، 2019ء کو نریندر مودی کی حکومت نے یکطر فہ طور پر بھارتی دستور سے آرٹیکل 35۔الف اور آرٹیکل 370 ختم کر دیا جن کی رو سے مقبوضہ کشمیر کی ریاست کے حتمی تصفیہ تک اور اس کی عوام کو محدود پیمانے پر اندرونی طور پر خود مختاری حاصل تھی، اس فعل کے ذریعے بھارت کی حکومت نے غاصبانہ انداز میں کشمیری عوام کو واحد قومیت اور ریاست میں ملکیتی حقوق سے محروم کرتے ہو ئے متنازعہ علاقے کا باقاعدہ طور پر اپنے ساتھ الحاق کر لیا ہے۔ یہ گزشتہ سات دہائیوں سے لے کر اب تک بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے طاقت کے بے پنا ہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ تازہ ترین حملہ ہے۔ بھارت کے تسلط پسندا نہ عزائم پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپیکر نے کہا دو نیو کلیئر طاقت کے حامل ہمسایوں کے مابین بگڑتی صورتحال پوری دنیا کے امن کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا بھارت کے آئین میں آرٹیکلز 35۔ الف اور آرٹیکل 370 بھارت کے بانیوں کی جانب سے صاف و شفاف استصواب رائے کے ذریعے کشمیر کے لوگوں کی خواہشا ت کے مطا بق کشمیر کے پر امن تصفیہ کی غرض سے 1948ء کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں پرکاربند رہنے کی علامت کے طور پر شامل کئے گئے تھے۔ بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کے اپنے وعدوں سے انحراف کر تی رہی ہے اور اب اس نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو محدود خود مختاری سے محروم کر کے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ اس مجرمانہ فعل کے علاوہ بھارت نے پور ی کشمیر ی قیادت کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں استصواب رائے کے حق میں حریت کانفرنس کے رہنماؤ ں اور سابقہ وزراء اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ بھی شامل ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی قانون سازاسمبلی کو معطل کر دیا گیا ہے اور ایک منظور نظر گورنر کے مشورے پر تمام آئینی انتظا ما ت لپیٹ دیئے گئے ہیں۔ پوری مقبوضہ وادی کا محاصرہ کرنے سمیت کر فیو نافذ کر دیا گیا ہے، انٹر نیٹ سروسز معطل اور ہر قسم کے دیگر مواصلا تی رابطوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ ایسے مایوس کن اقدامات نے خطے میں پہلے سے گھمبیر صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے مزید برآ ں بھارتی افواج کی طرف سے لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی روزمرہ کا معمول بن چکی ہے اور بھارتی افواج بے گناہ شہریوں کیخلاف کلسٹر بموں کا استعمال کر رہی ہے جس سے مرد، خواتین اور بچے شہید اور زخمی ہورہے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمان نے صورتحا ل کا جائزہ لینے کیلئے 6 اور 7  اگست، 2019ء کو ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور اس ضمن میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی، یہ قرارداد آپ کی توجہ کیلئے اس خط کیساتھ منسلک ہے براہ مہر بانی اس قرارداد اور خط کو اپنی مقننہ کے سامنے بھی پیش کریں۔

اسدقیصررابطے

مزید :

صفحہ اول -