"دنیا کشمیر پر پاک بھارت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی لہٰذا ۔ ۔ ۔" امریکہ نے پیغام جاری کردیا

"دنیا کشمیر پر پاک بھارت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی لہٰذا ۔ ۔ ۔" امریکہ نے پیغام ...

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ نے کشمیر کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے حل کیلئے براہ راست بات چیت کریں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن ٹیگس نے جمعرات کے روز پریس بریفنگ کے دوران یہ ریما رکس دیتے ہوئے واضح کیا جنوبی ایشیاء کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کیا امریکہ کی قائم مقام معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز، معاون وزیرخارجہ جان سلیوان اور افغانستان کے بارے میں نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا دورہ بھارت کشمیر کے معاملے پر کشیدگی میں کمی لانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ امریکی ترجمان نے دونوں فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور بتایا امن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے بھارت اور پاکستان براہ راست مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کریں،امر یکی ترجمان نے واضح کیا امریکی حکام کے بھارت کے دورے پہلے سے طے شدہ تھے جو کسی ہنگامی صورتحال کے تحت نہیں ہو رہے، تاہم انہوں نے بتایا امریکہ کا بھارت اور پاکستان سے روانہ کی بنیاد پر رابطہ قائم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دوحہ میں ہونیوالے امن مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے تو انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے کہا جنوبی ایشیاء میں کشیدگی کم کرنا بہت ضروری ہے تاہم ان کا کہنا تھا طالبان کیساتھ قطر میں ہونیوالے مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایلس ویلز کے بیان کو دہراتے ہوئے اس کی تائید کی اور بتایا کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے فیصلے سے قبل بھارت نے امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہبھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے سے خطے میں وسیع مضمرات ہوں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت اور انتظامی امور سے متعلق بھارت کی قانون سازی کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بھارتی فیصلے سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوسکتا ہے ساتھ ہی ان تبدیلیوں کے وسیع مضمرات ہوں گے۔ امریکہ اس سلسلے میں تمام فریقوں پر زور دیتا ہے وہ پرسکون رہیں اور ضبط و تحمل سے کام لیں۔جموں و کشمیر کے لوگوں کی گرفتاریوں اور مسلسل پابندیوں کی اطلاعات پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا امریکہ کی اس پر تشویش برقرار ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -